154

دھڑکنوں کی زبان۔۔۔۔۔سید انور قلندر یا سکندر۔۔۔۔محمد جاوید حیات

 اس ہاتھ نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھو ں میں لیکربینج لیا تھا ان بازوں نے مجھے اپنی باہوں میں لے کر بینج لیاتھا وہ سینہ مجھے اپنے ساتھ چمٹارہا تھا ۔وہ آنکھیں مجھے تک رہی تھیں جو کبھی مخالف کی گیند کو شاہین وار دیکھتیں ، وہ ’’ بازو ‘‘ جب ہلتے تو مخالف سر پکڑتا ۔ان ہاتھوں میں کرکٹ کی بیٹ سجتی اور دو چار سٹروک کے بعد چھلکا چھلکا ہوجاتی۔ بیٹ کی مرمت ہوتی ۔کیمرے کی آنکھیں اس فولا د ی جسم کو فوکس کر تیں۔ کیمرے کی آنکھ ان شاہین وار نگا ہوں کو فوکس کرتی۔ کیمرے کی آنکھ مخالف کے بلے کو ہوامیں قلا با زیاں کھاتے فو کس کرتی ۔یہ سب سے پہلے گراؤنڈ میں داخل ہو تا اور سب سے آخر میں جیت کا تاج سر پہ سجا کے خرا مان خرامان پیولین لوٹتا ۔اچھلتا کو دتانہیں،چیختا چھنگاڑتا نہیں یہ اپنی ٹیم کی امید ،اپنی قوم کی عزت اور اپنے ملک کی پہچا ن ہوا کرتا ۔کتنے دل دھڑکتے ۔کتنی زبانوں پہ یہ نام ہوتا ۔۔۔۔یہ سید انور تھا ۔ یہ کبھی شاہنشاہ کرکٹ ہوا کرتا ،یہ دلوں کی دھڑکن ہو ا کرتا ۔اس کے قہقہے سے پھول کھلتے۔اس کی رگوں میں جیت کا طوفان خون کے ساتھ دوڑتا ۔جہاں اس کے قدم رانجہ ہوتے وہ جگہ یاد گار ہوتی ۔اس کا دستخط کسی کے اٹو گراف بک پہ ہوتا تو وہ اپنے آپ کو خوش قسمت کہتا ،اس کی گاہیں کسی کی طرف اُٹھتیں تو ادھر سے محبت اور احترام کی سوتیں پھوٹتیں ۔۔۔یہ سید انور تھا ۔جس کی ٹیم کا ہر ممبر اس کی شرافت سے متاثر تھا ۔ اس کا احترام کیا کرتا ۔ اس کے گلے سے لگے جاتا ۔اس کی پشانی چومتا ،اس کے کند ھے پہ تپکی دیتا ۔۔۔؂یہ سندر انور تھا ۔اس سے رابطے ہوتے اس کو اشتہار میںآنے کی افر ہوتیں ۔ اس کو ہوٹلوں میں کھانے پہ ٹنڈر دیا جاتا ۔اس کو ایک سوئٹر پہنا کر کیمر ے کی آنکھ میں محفوظ کر نے کے لئے ڈالروں کی افر ہوتی ۔۔۔یہ سید انور تھا ۔جس کے ارد گرد چمکتی دنیا تھی۔موج میلے تھے ۔یہی سید انور لمبی کا لی گھنی داڑھی کے ساتھ پگڑی باند ھے ،معمو لی کالے کپڑوں میں پاؤں میں چپل پہنے میرے شہر میں تھا ۔اوپر سے برف باری تھی ۔راستے بندتھے ۔زلزلہ تھا ۔ درردیوار ہل گئے تھے ۔کڑکتی سردی تھی ۔غضب کے بادل تھے ۔مسجدوں میں پانی ٹھنڈا تھا مگر یہ سید انور تھا کہ سب کچھ برداشت کر رہا تھاشکرکررہا تھا ۔اور کائنات کے مالک کی بڑھائی بیان کر رہا تھا ۔۔۔۔یہ سید انور تھا کہ اس کواپنی گذری ہوئی شاندار زندگی کی کوئی آرزو نہیں تھی ۔ وہ کہہ رہا تھا ۔۔ وہ ’’ دنیا ‘‘تھی۔ یہ دنیا سے آگے کی کوئی چیز ہے۔وہ ’’ سکندری ‘‘ تھی ۔یہ’’ قلند ری ‘‘ ہے ۔مگر اس ’’ سکند ری ‘‘ سے یہ ’’ قلندری ‘‘ لاکھوں گنا خوبصورت ہے ۔وہاں دنیا کی دولت کی فراوانی تھی یہاں پر سکون کی دولت کی فراوانی ہے ۔وہاں پر صرف ’’ عارضی دنیا ‘‘ تھی یہاں پر عارضی دنیا کے علاوہ ایک دائمی دنیابھی ہے۔ وہ محلات ،شاہ نیشن پارک ، اور تفریح گاہوں کی دنیا تھی یہ گلی کو چوں کی دنیا ہے ۔جھونپڑیوں کی دنیا ہے وہاں پر امیری تھی تاز نخرے والے ، والیاں تھیں ۔غر ور کے بت تھے ۔یہاں پر غربت ،سادگی اور خلوص سے بھرے وہ وجود ہیں جو پاکیزہ ہیں اور ان کی محبت اور خلوص کا کوئی متبادل نہیں۔ اگروہاں جھکنا پڑنا تو مخلوق کے آگے یہاں پر اگر جھکنا پڑتا ہے تو صرف خالق کے آگے ۔۔۔یہ سید انور تھا جو عارضی دنیا کو حقیقی دنیا کی عینک لگا کر دیکھ رہے تھے دعوت تبلیغ نے اس کی دنیا ہی بدل دی تھی وہ عظیم تھا اور عظیم بن گیا تھا اس سے مل کر مجھے ماضی ستارہا تھا میں نے سیٹچ میںآکر اس کاتعارف کروایا اور سٹیج یہ بلایا۔ اس کے سامنے سکول کے600 بچے استاتذہ اور اس کے ساتھ آئے ہوئے مہمان تھے ۔اس نے تقر یر شروع کی اور میں ماضی میں چلا گیا میں نے دیکھا کہ مکے کا ایک مغرور سردار جس کے نام سے پہار لرز جاتے جب حقیقی دنیا میں امیر ’’ بن جاتا ہے تواس زمانے کے سپر پاور روم کا ایلچی اس سے ملنے آتا ہے ۔پوچھ پوچھ کر مسجد نبوی ؐ پہنچتا ہے لوگ اشارہ سے اس کو بتاتے ہیں کہ لو وہاں پر انیٹوں کو تکیہ بنا کر زمین پر سویا ہوا ہے وہی ہمارا امیر ہے۔ایلچی وہاں جاکر دیکھتاہے کہ دھوپ کی تمازت سے پسینہ میں شر ابور ہے داڑھی مبارک سے پسینہ ٹیک کر نیچے ریت پر جگہ بنا یا ہے ۔ وہ سراُٹھا کر ایلچی کی طرف دیکھتا ہے ایلچی اس کی نگاہوں کی تاب نہیں لاسکتا لرزہ برآاندا م ہو تا ہے۔ امیر کی نگاہوں میں دونوں جہانوں کی شا ہینشانیت تھی ۔ایلچی عارضی دنیا کا باد شاہ تھا۔۔ میں ہوش میںآیا تو سید ر انور دعا فر مارہے تھے۔۔ اے اللہ ہم سب کواپنی راہ میں قبول فرما۔۔ اے اللہ محمد مصطفےٰ ؐ کے لائے ہوئے دین اور آپ ؐ کی سنت کے مطابق زندگی گزار نے کی توفیق عطا فرما۔۔ میں نے آمین کہا ۔سید ہ انور کی زبان پہ اللہ کا نام تھا ۔اللہ کے دین کی طرف دعوت تھی اس لئے اس کی ’’ قلندری ‘‘ ’’ سکند ری ‘‘ بن گی تھی ۔ جس کا متبادل نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں