83

خاندانِ حلیمہؓ کی شان۔۔۔تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

ننھے حضور ﷺ محبوب خدا نے قدرت کے عظیم پلان کے مطابق بچپن کے جو دن صحرا میں بنی سعد کے ہاں گزارے اُن سالوں کی بدولت آپ ﷺ صحت و تندرستی جسمانی قوت فصاحت و بلاغت جرات اور بے با کی اعلی صفات سے مالا مال ہو ئے ۔ ڈاکٹر مصطفی سیاعی لکھتے ہیں ۔ حضور ﷺ نے جو ابتدائی چند سال بنی سعد کے درمیان صحر ا میں گزارے وہاں گزارے ہو ئے وقت میں قوت تندرستی فصاحت و بلاغت اور بے باکی و جرات جیسی صفات سے مالا مال ہو ئے بچپن ہی سے بہترین شہ سوار ہو ئے اِس صحرا میں آپ ﷺ کی صلاحیتوں کو پروان چڑھنے اور سورج کی دھوپ اور کھلی ہوا میں جسمانی و روحانی تربیت حاصل کر نے کے بہترین مواقع میسر آئے آپ ﷺ بچپن ہی سے نجابت و شرافت کا پیکر تھے ہو ش مندی اور بیداری مغزی چہرے سے عیاں تھی جو ہر ایک کو اپنی طرف متوجہ کر لیتی ۔بچپن سے ہی ننھے حضور ﷺ کی فطرت میں کائنات کے حسن ترتیب اور اصولوں کے بارے میں سوچنا موجود تھا آپ ﷺ کی قدرت اور خداکی بنائی ہو ئی ہر چیز کے بارے میں مشاہدہ اور غور کر تے اورپھر اس کے متعلق اپنے بھائیوں اور اپنی ماں سے سوالات کر تے کہ آپ ﷺ کے بہن بھائی اور رضائی ماں باپ دنگ رہ جاتے حضرت حلیمہؓ اور گھر والے آپ ﷺ کی عقل و شعور سے معمور باتیں سن کر بہت خوش ہو تے حضرت حلیمہؓ اور گھر والے یہ جان چکے تھے کہ اُن کے گھر میں بہت بڑے انسان کی پرورش ہو رہی ہے اور آگے جا کر یہ انسان بہت بڑا نجات دہندہ بنے گا ۔ حضور ﷺ نے ہوش کی آنکھ صحرا اور ریگستان میں کھولی جہاں پر فطرت اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ جلوہ گر تھی صحرا کی وسعت پراسراریت پہاڑوں کی فلک بوس چوٹیاں چشموں کے ابلتے پانی جنگلی جڑی بوٹیاں صحرائی موسموں کی آنکھ مچولیاں کھلا آسمان سورج اور چاند کے دلنشیں نظارے قدرت نے مستقبل کی تیاری کے لیے ننھے حضور ﷺ کو اِس صحرا میں بھیجا تھا یہاں پر آپ ﷺ کی تربیت فطرت کے عین مطابق ہو ئی ۔ بدویوں کی صحرائی زندگیاں اور انسانی فطرت کے قریب ترین ماحول اور پرورش نے ننھے حضور ﷺ کی زندگی میں حقیقی اور خوبصورت رنگ بھر دئیے آپ ﷺ اپنی وضاحت و بلاغت کا اکثر اظہار بھی کر تے ایک بار آپ ﷺ نے فرمایا میں تم سے سب سے زیادہ خالص عرب ہوں میں قریشی ہوں اور میں نے بنی سعد بن بکر کے قبیلے میں دودھ پی کر پرورش پائی ہے اِسی طرح مزید فرمایا میں تم سب سے زیادہ فصیح اِ س لیے ہو ں کہ قریش سے ہوں اور میری زبان بنی سعد بن بکر کی زبان ہے جو عربوں میں بہت مشہور ہے ، روایت کے مطابق چار یا پانچ سال صحرائی تربیت کے بعد جب حضر ت حلیمہ سعدیہؓ مغموم اداس دل کے ساتھ قدرت کے سب سے بڑے شاہکار ننھے حضور ﷺ کو حضرت آمنہؓ سے ملانے کے لیے لا ئیں تو آپؓ فرماتی ہیں عالم طفلی میں کو ئی گندی حرکت آپ ﷺ سے سر زد نہ ہو ئی آپ دوسرے بچوں کی طرح گریہ زاری نہیں فرماتے تھے حوائج ضروری سے فراغت کا وقت متعین تھا آپ ﷺ چاند کی طرف بہت راغب تھے اکثر چاند سے باتیں کر تے تھے کو ئی غیبی ہا تھ آپ ﷺ کا پنگھوڑا ہلاتا رہتا بڑے ہو تے ہو ئے عام بچوں کی طرح کھیل کود میں وقت ضائع نہیں کر تے تھے خو د بھی وہاں سے ہٹ جاتے اور اُنہیں بھی کھیلنے سے منع فرماتے ۔ ننھے حضور ﷺ کی پرورش اور خدمت سے حضرت حلیمہؓ اور اس کا گھرانہ قیامت تک کے لیے امر ہو گیا جو شہرت اور مقام اس قبیلے کو ملا ہر دور کے بادشاہ بھی اِس مقام پر رشک ہی کریں گے مقام کے ساتھ ساتھ حضرت حلیمہ سعدیہؓ کے خاندان کو سب سے بڑی دولت اسلام قبول کر نا نصیب ہو ئی جو دنیا بھر کے خزانوں سے بڑھ کر ہے ۔ شہنشاہ دو جہاں محبوب خدا شافع محشر ﷺ نے اِس رضاعت کا پاس عمر بھر رکھا اور آپ ﷺ کے دنیا سے جانے کے بعد آپ ﷺ کے خلفاء نے بھی حضرت حلیمہؓ کے خاندان کا احترام رکھا حافظ ابو الفرج البخوری لکھتے ہیں حضرت حلیمہ سعدیہؓ ایک بار نبی کریم ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو ئیں جب نبی کریم ﷺ نے حضرت خدیجہؓ سے شادی کر لی تھی حلیمہؓ نے اپنی غربت اور قحط سالی کی شکایت کی تو سرور کا ئنات ﷺ نے اپنی رفیقِ حیات حضرت خدیجہؓ کو ان کے بارے میں سفارش کی تو حضرت خدیجہؓ نے ان کو چالیس بکریاں اور ایک اونٹ بطور ہدیہ عطا فر ما یاپھر سرور دو جہاں ﷺ کی بعثت کے بعد حاضر ہو ئیں آپؓ بھی ایمان لے آئیں اور اُن کے خاوند نے بھی اسلام قبول کر لیااِسطرح دونوں نے حضور اقدس ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی ۔قاضی عیاض لکھتے ہیں حضرت حلیمہ سعدیہؓ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو ئیں حضور ﷺ نے ان کے لیے اپنی چادر بچھائی اور اُن کی حاجت کو پورا کیا ۔ حضرت حلیمہ سعدیہؓ حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے دورِ خلافت میں بھی مدینہ تشریف لائیں اور حضرت ابو بکرؓ سے ملیں تو حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے بہت زیادہ احترام کیا اپنے آقا ﷺ کا عمل دہرایا اور بہت کچھ حضرت حلیمہؓ کی خدمت میں پیش کیا ۔ فتح مکہ کے بعد غزوہ حنین میں قبیلہ ہوازن اور بنی سعد کے بہت سارے لوگ مال غنیمت کے طور پر مجاہدین میں تقسیم ہو گئے تو ہواز ن کا سردار آیا ایمان لایا اور کہا یا رسول اللہ ﷺ اِن اسیران جنگ میں آپ ﷺ کے رضائی بہن بھائی اور رشتے دار بھی ہیں جب صحابہ کرام کو اِس حقیقت کا پتہ چلا تو سب نے خوشی سے اپنا مال اور غلام جو جنگ میں ان کے حصے آئے تھے واپس کر دیے آپ ﷺ نے اپنی بہن حضرت شیماؓ کو اپنی چادر پر بٹھایا اور بہت زیادہ احترام اور محبت کے بعد تحفے تحائف سے واپس کیا ۔ آپ ﷺ کے رضائی والد حضرت حارث کے ایمان لانے کا ایمان افروز واقعہ ابن اسحاق نے یوں بیان کیا ہے ۔ حضور ﷺ پر نزول قرآن کے بعد حارث مکہ مکرمہ میں حضور ﷺ سے ملاقات کے لیے آئے قریش نے اُنہیں دیکھا تو کہا اے حارث تم نے سنا کہ تمھارا بیٹا کیا کہتا ہے انہوں نے پوچھا وہ کیا کہتے ہیں کفار نے بتایا وہ کہتا ہے کہ موت کے بعد ہمیں پھر اٹھا یا جا ئے گا اور اللہ تعالی نے جنت اور دوزخ بنائے ہیں نیکو کاروں کو جنت اور بد کاروں کو دوزخ میں بھیجا جا ئے گا اس نے قوم کے اتحاد کو پارہ پارہ کر دیا ہے تو حارث حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو ئے اور عرض کیا میرے بیٹے آپ ﷺ کی قوم آپ ﷺ کا شکوہ کیوں کرتی ہے پھر قریش نے حضور ﷺ کے بارے میں جو کچھ اسے کہا تھا اُس نے بتا دیا تو حضو ر اقدس ﷺ نے فرمایا بے شک میں ایسا ہی کہتا ہوں جب وہ دن آئے گا میں تمھارا ہا تھ پکڑ کر آج کی گفتگو تمھیں یا د دلا ؤں گا حضور ﷺ کے ارشاد نے حارث کی آنکھیں کھول دیں اور وہ مشرف بہ اسلام ہو گیا اور پھر ساری زندگی احکام الہی کی تعمیل کا حق ادا کیا اسلام قبول کر نے کے بعد وہ اکثر کہا کر تے تھے ترجمہ: یعنی اگر میرے بیٹے نے میراہاتھ پکڑا اور مجھے وہ گفتگو یاد دلائی تو پھر انشا ء اللہ تعالی میرا ہاتھ اس وقت تک نہ چھوڑے گا جب تک وہ مجھے جنت میں داخل نہ کر دے گا ۔ حضرت عمر بن سعدؓ بیان فرماتے ہیں ۔ ایک عورت آئی اور آپ ﷺ سے ملنے کی اجازت چاہی جب سرور کا ئنات مجسم رحمت شافع محشر محبوب خدا ﷺ نے اُنہیں دیکھا تو بے اختیاار پکار اُٹھے میری ماں میری ماں کہتے ہو ئے اُٹھے اپنی چاد ر مبارک بچھا کر عزت سے اُنہیں بٹھا یا فرطِ محبت سے اپنا ہاتھ مبارک اُن کے سینے پر رکھا اور ماں ماں کہتے رہے پیاری بھری گفتگو کر تے رہے اور ان کی ہر ضرورت پو ری کی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں