ریشن گاوں ایک بار پھر دریائی کٹاو کی زد میں ذمہ دار کون ؟ شہزاد احمد شہزاد سوشل ورکر

اپرچترال( زاکرمحمدزخمی سے)علاقے ریشن ایک بار پھر دریائی کٹاؤ کی زد میں مستوج روڈ پھر بند ہونے کا خطرہ ہے ۔زرغی زمینات پھل دار درخت اور باغات ایک بار پھر دریاہے یارخون کے بےرحم موجوں کی نذر ہو گئے یہ سلسلہ پتہ نہیں ائندہ کتنے سال تک اؤر جاری رہے گا۔افسوس کی بات یہ کہ حکومت نے گزشتہ سال شادیر کے مقام پر کروڑوں روپے خرچ کرکے پروٹیکشن وال تعمیر کرایا تھا ۔مگر ٹھیکہ دار ،حکومت، متعلقہ حکام اور علاقے کے کچھ بلیک میلروں نے مل کر حکومت کے کروڑوں روپے ضائع کر دیے پروٹیکشن وال کے نام پر ایک ٹوٹی پھوٹی دیوار تعمیر کی گئی جسے دیکھ کر ہی لگ رہا تھا یہ پیسے کی زیان کے علاوہ کچھ نہیں ہے اس پروٹیکشن وال کا اب نام و نشان نہیں مگر میں متعلقہ حکام اور حکومت کی بے حسی کو داد دیتا ہوں کہ ہزار دفعہ نشاندہی اور شکایت کے باوجود حکومت اور متعلقہ حکام نے کان نہیں دھرا ۔اب یہ مسئلہ دوبارہ پیدا ہو گیا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ ذمہ داری کون قبول کرتا ہے کرتے بھی ہیں یا نہیں اگر خدانخواستہ مستوچ روڈ ریشن شادیر کے مقام پر دوبارہ متاثر ہوا تو ان لوگوں کو کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہیے اور اس پروٹیکشن وال کے بارے میں ان سے سوال ہونا چاہیے کروڑوں روپے خرچ ہو گئے اس کا

 

 

نتیجہ کیا نکلا وہ پروٹیکشن وال کہاں ہے ہم اس بار خاموش نہیں رہ سکتے یہ سوال سب کو کرنا چاہیے یہ لوگ کب تک ہمیں بے وقوف بناتے رہیں گے ہم کب تک خاموش تماشائی بن کر ذلیل و خوار ہوتے رہیں گے مستوج روڈ ریشن شادر کے مقام پر گزشتہ دو سالوں میں درجنوں گاڑیاں اور ٹرک ایکسیڈنٹ ہونے کی وجہ سے غریب عوام کا کروڑ روپوں کا نقصان ہوا ہے آس کا زمہ دار کون ؟ ۔اس کا مستقل حل کیوں نہیں نکالا جاتا اگر بروقت پروٹیکشن وال تعمیر کرتے اور اس پروٹیکشن وال کے پیسے خرد برد میں ضائع نہ ہونے دیا جاتا تو اس نقصان سے بچ جاتے ہے ہمارا مطالبہ ہے کہ اس میں جو ملوث ہیں ان کا تعین کرکے جو بھی ملوث ہیں ان سے اس کا حساب لیا جائے.

Check Also

امیر ضلع لوئیر چترال مولانا جمشید احمد کی قیادت میں ل پر بجلی کے بلوں میں اضافے، بے جا ٹیکسس، مہنگائی اور چترال میں ہونے والی لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

چترال (نمائندہ ) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی کال پر امیر ضلع …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *