آغاخان انسٹی ٹیوٹ فارایجوکیشنل ڈویلپمنٹ اے کے یوآئی ای ڈی نےیوایس فنڈڈپراجیکٹ کے زیراہتمام کلائمٹ چینج ایجوکیشن کے موضوع پرہفتہ سیشن کاانعقاد

چترال(ڈیلی چترال نیوز )آغاخان انسٹی ٹیوٹ فارایجوکیشنل ڈویلپمنٹ  اے کے یوآئی ای ڈی نےیوایس  فنڈڈپراجیکٹ کے زیراہتمام ایک سالہ فالوشپ پروگرام  کادوسر ا ہفت روزہ سیشن  “کلائمٹ چینج  ایجوکیشن کے موضوع پرلوئرچترال کے مقامی ہوٹل میں منعقدکیاگیا۔جس میں اپراورلوئرچترال سمیت خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع سے پرائمری،مڈل ،ہائی سکول ،کالجز اوریونیورسٹیزکے 50میل وفیمل اساتذ ہ نے شرکت کی۔اختتامی تقریب میں شرکاء نے  اپنے اپنے پریزٹیشن ججزکے سامنے پیش کئے۔ججزکے فرائض ڈاکٹرنسیمہ زین ،ڈاکٹرعلی نواب اورعبدالولی انجام دے رہے تھے۔اس موقع پرمہمان خاص شاہی خطیب شاہی مسجدچترال مولاناخلیق الزمان،پروفیسریونیورسٹی آف چترال ڈاکٹرتاج الدین شرر،ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افیسرمحمدغزنوی ،ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرلوئرچترال ڈاکٹرفیازرومی   اورمختلف مکتبہ فکرسے تعلق رکھنے والے خواتین وحضرات موجو د تھے

اس پراجیکٹ کے پرنسپل انویسٹی گیٹرڈاکٹرفوزیہ،ڈاکٹرسلمان رانجھانی ،نگہت ربانی ،کریم ،جنید اوردوسروں نے کہاکہ انسانوں نے قدرتی وسائل کو ختم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، وسیع علاقوں کو جنگلات سے محروم کیا جارہا ہے جو آلودگی اور گلوبل وارمنگ کا باعث بنا ہے۔ یہ بہت اہم ہے کہ اب ہم فطرت کے تحفظ کےلیے اپنی کوششوں کا رخ درست سمت کریں۔ ماحولیاتی تبدیلی، گلوبل وارمنگ، جنگلات کی کٹائی اوردیگرقدرتی آفات کے نقصانات کوکم کرنے کے حوالے سےآگاہی گھرگھرتک پہنچانے کے لئے سکول اورکالجز کی سطح  پراس فالوشپ  پروگرام کاانعقاد کیاگیا ہے تاکہ   کہ معاشرتی ثقافت میں بنیادی تبدیلی لانے اور منفی رویوں کو مثبت طرز عمل میں تبدیل کرنے میں کلیدی کردار ادا کرسکیں۔

انہوں نے کہاکہ اس پراجیکٹ کے ذرئعے خیبرپختونخوا کے 50ٹیچرزکوٹرین کریں گے کلائمٹ چینج ایجوکیشن پرپوراسال رہنمائی کریں گے اوران کی استعدادکاربڑھائیں گےاس لئے پورا سال مینٹوررکھنے کی کوشش کی ہے۔انہوں نے کہاکہ اس سلسلے میں ہم نے خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع کے پانچ سوٹیچرز میں سے 50کوسلیکٹ کیاتھا اوران 50 میں سے 20 کوسلیکٹ کیاجائے گا اوریہ تمام فیلوزپورا سال کلائمٹ چینج ایجوکیشن کے حوالے سے اپنے علاقوں اورسکولوں میں  ماحولیاتی چیلنجوں کے بارے میں تعلیم اور آگاہی دیں گے۔انہوں نے کہاکہ اس  پروگرام کے تحت، طلباء وطالبات کو تعلیم دینے اور ماحولیاتی مسائل پر بیداری پھیلانے کے لیے اسکولوں اور کالجوں میں کلائمٹ چینج ایجوکیشن کوعام کرنے کی ضرورت ہے۔

مقریرین نے کہاکہ ماحولیاتی تبدیلی سے پوری دنیا کو مشکلات کا سامنا ہو رہا ہے ہمارے آنے والی نسلوں کو ماحولیاتی تبدیلوں سے مکمل نجات دیناہوگا۔ ہر انسان اس مشکل سے نکلنے کیلئے اپنے بساط  کے مطابق کردار ادا کرناہوگا۔ اگر کوئی ایک پودا لگاسکتا ہے تو چاہے ایک پودا لگائے لیکن لگائے ضرور کیونکہ یہ صرف حکومتوں یا چند اداروں کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ موسمیاتی تبدیلی کا یہ طوفان ہر انسان کی زندگی کو متاثر کرسکتا ہے، اس لئے مل کر ہی اس آزمائش پر فتح پانا ممکن ہے۔ ہمیں زیادہ توجہ اپنے علاقائی ماحول پر دینی چاہیے اور اس کے لئے زیادہ پُرعمل ہونے کی ضرورت ہے، اور اساتذہ کرام کو بچوں کو ماحول کی آگاہی پر زیادہ سے زیادہ توجہ دینا چاہیے

Check Also

امیر ضلع لوئیر چترال مولانا جمشید احمد کی قیادت میں ل پر بجلی کے بلوں میں اضافے، بے جا ٹیکسس، مہنگائی اور چترال میں ہونے والی لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

چترال (نمائندہ ) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی کال پر امیر ضلع …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *