مضامین
قدیم چترال اورنسل نو……تحریر: پروفیسرشفیق احمد



کیونکہ کیلاش قوم اپنی روایاتی قدیم زنانہ لباس (بور،پیراہن)کو برقرار رکھ کر اپنی شناحت کو زندہ رکھی ہوئی ہے۔ لہذاکہو قوم اپنے مردانہ لباس شُقہ(چغہ)اور کپوڑ(پکول)کو زیب تن کرکے اپنی شناحت قائم کر رکھی ہے ،لیکن انکی جگہ ان دنوں چائینا کے تنگ پتلون اور قسم قسم کے رنگین تنگ شرٹس کے نیچےدب کرسسکنے والی ہے۔ کیونکہ چینی قوم ہر اُس طاقت اور وقت کو موقع و محل کے مطابق استعمال کرتی رہتی ہے ۔کیونکہ امسال یوم آزادی کی تقریب کے لئے ۲۸کے حساب سے ٹن جھنڈے ،بیجز وغیرہ بھیج کر ہمارے یوم آزادی کی تقریب میں بھر پور شرکت کی ،کہیں ایسا نہ ہو شاہراہیں بنانے کے بعد پکول ،چغہ بھی ٹنوں کے حساب سےتیار کر کے سردیوں کے موسم میں شرکت نہ کر بیٹھے۔ اگر میں جدیددور کے مشینی چترالی نوجوانوں سے پوچھنا چا ہتاہوں کہ چُغہ اور پکول کونسی چیزسےاور کہاں تیار ہوتی ہے ؟شاید٪ ۵۰کا جواب درست بھی آئے ہو سکتا ہے ۵۰٪کا جواب آئے گا کس چیز سے بنتی ہے البتہ اس کا علم نہیں؟چائینا میں تیارہو کرآتی ہے———ہمیں اپنے چُغہ اور پکول کی صنعت کوجدید طریقےسے بھیڑیں پال کر اُنکے اُون سے ان مصنوعات کوتیا ر کرنےکا ذریعہ پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔بلکہ یہ قانوں بھی منظور کرواسکتےہیں کہ کسی کباڑ وغیرہ کے کپڑوں سے بنائے گئے چُغہ اور پکول کو چترالی قوم کی پہچان کے ساتھ توہین سمجھ کر اس پر پابندی بھی لگائی جاسکتی ہے۔ہم چائینا ٔسے انگور و دیگرپھل وغیرہ اور پٹی و دیگر مصنوعات برآمد کر کے مست مدہوش ہوکر اپنے آپکو بری الذمہ قرار دے کر ، اسی ذمہ داری کو ہم چائینا اُپر چھوڑ دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں کسی بھی فن سے وابسطہ باپ کا بیٹا تعلیم حاصل کرنے کے بعد ،اپنے آباؤاجدادکےپیشے کو اپنا کر کارخانے لگانے کے بجائے اسی پیشے کو خیر آباد کہ کر ترقی سمجھتا ہے۔لہذا ہمیں چاہئے کہ شاہراہیں بنے سے قبل، چائینا اور اسٹریلیا سےنئی نسل کے بھیڑ بکریاں منگوا کر اُنکو حکومتی سطح پر چترال کے مشہور اور ذرخیز چراگاہوں میں جدید طریقے سے پالنے کا انتظا م کرا سکتے ہیں ۔ جن گھرانوں میں پٹی بنانے کے چھوٹے کارخانے ہوا کرتے تھے ،انکودوبارہ جدید الات سے لیس کر کےکار خانے لگانے کے لئے فنڈ مہیاء کی جاسکتی ہے۔ اسکے علاوہ اُون سے بنی چترالی قالین ،دستانے،جُرابییں ،واسکٹ،کوٹ پتلون ،بنیاں اور چادر وغیرہ کے علاوہ مختلف نقش ونگار سےمزئین بکریوں کے سخت بال سے بنی پیلسک (door mate), رسی اور دیگر مصنوعات بنانے والےلوگوں کو جدید آلات کی فراہّمی کے لئے رقوم کی بندوبست یقینی بنائی جاسکے۔اسکے علاوہ ہاتھ سے بنی چترالی زنانہ ٹوپی جو انتہائی باریک پیچیدہ کام ہے
