62

سَر اُٹھاتی دہشت گردی۔۔۔۔پروفیسر رفعت مظہر

پچھلے کئی دنوں سے پاکستان میں دہشت گردی ایک دفعہ پھر سَر اُٹھا رہی ہے ۔ لاہور کے بعد سب سے زیادہ خوفناک حملہ شہباز قلندر کے دربار پر ہوا جہاں لگ بھگ 100 مرد ، خواتین اور بچے شہید ہوئے ۔ زخمیوں کی تعداد اڑھائی سو سے بھی زیادہ تھی ۔ اب تو یہ صورتِ حال ہے کہ تقریباََ ہر روز کہیں نہ کہیں دھماکہ ہو جاتا ہے ۔ 21 فروری کو خود کُش بمباروں نے چار سدّہ کی کچہری میں گھُسنے کی کوشش کی لیکن پولیس کے بہادر نوجوان اُن کی راہ میں سَدِّ سکندری بن گئے ۔ آٹھ جوان شہید ہوئے اور چار سدّہ بہت بڑی دہشت گردی سے بچ گیا ۔ صدرِ مملکت ، وزیرِاعظم ، آرمی چیف اور عمران خاں نے پولیس کے اِن جوانوں کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا۔ پوری قوم بھی اُن کی عظمتوں کو سلام پیش کرتی ہے۔
سابق سپہ سالار جنرل راحیل شریف کے دَور میں جس انداز سے دہشت گردوں کا صفایا کیا گیا ، وہ یقیناََ لائقِ تحسین ہے ۔ جنرل صاحب نے کہا تھا کہ 2016ء دہشت گردی کے خاتمے کا سال ہے لیکن ایسا ممکن نہ ہو سکا ۔اگر اِن دہشت گردوں کو بھارت کی بھرپور مدد حاصل نہ ہوتی اور افغانستان اِن کا ٹھکانہ نہ ہوتا تو پاکستان سے دہشت گردی کا نام و نشان بہت پہلے مِٹ چکا ہوتا۔ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘افغانستان کے ذریعے پاکستان میں تخریب کاری کروا رہی ہے جس کے مکمل ثبوت اقوامِ عالم کو دیئے جا چکے لیکن عالمی سطح پر خاموشی ہی ہے ۔ یہ دہشت گرد افغانستان سے پاکستان پر حملہ آور ہوتے ہیں اور پھر یا تو دہشت گردی کی تکمیل کے بعد افغانستان فرار ہو جاتے ہیں یا پھر کتّے کی موت مارے جاتے ہیں۔ یقیناََ پاکستان میں بھی اِن کے سہولت کار موجود ہیں جو سوائے افغان پناہ گزینوں کے اور کون ہو سکتا ہے ۔
اِن دہشت گردوں کا دینِ مبیں سے دور کا بھی واسطہ نہیں لیکن بھارت اور اقوامِ مغرب کے ہاتھ اسلام کو بدنام کرنے کا بہانہ ضرورآ جاتا ہے۔ امریکی نَومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اسلام کو دہشت گردی سے جوڑتے ہوئے ’’اسلامی دہشت گردی‘‘ کی اصطلاح گھڑی اور سات اسلامی ممالک پر ویزے کی پابندی لگا دی جس کے خلاف نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا میں شدید احتجاج ہوا اور امریکی عدالت نے بھی اِس پابندی کو کالعدم قرار دے دیا ۔ اب شنید ہے کہ ٹرمپ ایک نیا ایگزیکٹوآرڈر جاری کرنے والے ہیں اور اِس بار بھی اُن کا فوکس عالمِ اسلام ہی ہوگا ۔ سوال مگر یہ ہے کہ ہم اپنی اداؤں پر غور کیوں نہیں کرتے؟۔ تمام سیاسی جماعتیں متحد ہو کر دہشت گردی کے خاتمے کے عزم کا اظہار تو ضرور کرتی ہیں لیکن اُن کے افعال اُن کے اعمال کی گواہی نہیں دیتے ۔ ایک طرف دہشت گردی کے خاتمے کا عزم بالجزم اور دوسری طرف الزامات کی بارش ، طعنہ زَنی اور غیر پارلیمانی زبان ۔ قوم دیکھ رہی ہے کہ جوتیوں میں دال بَٹ رہی ہے اور ہوسِ اقتدار کے بھوکے یہ سیاستدان ایک دوسرے پر جھپٹ رہے ہیں ،یہ سوچے بغیر کہ دہشت گردی کی جو نئی لہر اُٹھی ہے وہ پہلے کبھی دیکھی نہ سُنی ، یہ دیکھے بغیر کہ کہ کتنے گھروں میں صفِ ماتم بِچھی ہے اور یہ سمجھے بغیر کہ ہمارا بَدترین دشمن بھارت ہمیں اندرونی طور پر کمزور کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کر رہا ہے تاکہ اُس کا اَکھنڈ بھارت کا خواب پورا ہو سکے۔ وہ کشمیر میں بے گناہوں کا خون بہا سکے اور عفت مآب بیٹیوں کی عزتیں تار تار کر سکے ۔
اگر سبھی سیاسی رہنماؤں کو اعلیٰ عدلیہ پر اعتماد ہے،جس کا وہ گلی گلی ڈھنڈورا پیٹتی پھرتی ہیں ، تو پھرعدلیہ کو اپنا کام کیوں نہیں کرنے دیا جاتا اور ہر روز عدالت کے باہر عدالت کیوں لگائی جاتی ہے؟۔ ایسا کرتے ہوئے ہم اقوامِ عالم کو کیا پیغام دیتے ہیں؟ ۔ کیا ہمارے رہنماؤں کو یہ بھی ادراک نہیں کہ جو قومیں اندرونی طور پر افراتفری کا شکار ہوتی ہیں ، وہ کبھی بیرونی دشمن کا مقابلہ نہیں کر سکتیں لیکن ہم تو سپریم کورٹ سے بھی اپنی مرضی کا فیصلہ کروانا چاہتے ہیں ۔ یاد آیا کہ اِدھر ہلاکو کی فوج بغداد کی فصیلوں پر کمندیں ڈال رہی تھی اور اُدھر بغداد میں پانچ سو جگہوں پر مناظروں کا بازار گرم تھا ۔ پھر بغداد کا جو حشر ہوا وہ اب تاریخ ہے ۔ کیا (خاکم بدہن) ہم بھی وہی تاریخ دہرانا چاہتے ہیں؟۔
جب سے پی ایس ایل کا لاہور میں فائنل کروانے کا فیصلہ ہوا ہے ، بھارت کے پیٹ میں مروڑ اُٹھنے لگے ہیں کیونکہ اگر یہ فائنل لاہور میں منعقد ہو گیا (جو انشاء اللہ ہو کر رہے گا) تو پاکستان میں نہ صرف بین الاقوامی کرکٹ کے دروازے کھُل جائیں گے بلکہ پاکستان پر لگا دہشت گردی کا دَھبہ بھی بڑی حد تک دُھل جائے گا ،جو بھارت کو کسی بھی صورت قبول نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اِدھر پی ایس ایل لاہور میں کروانے کا اعلان ہوا اور اُدھر دہشت گرد حملوں کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا لیکن دِل خوش کُن خبر یہ ہے کہ یہ فائنل لاہور میں کروانے کا حتمی فیصلہ ہو چکا اور پچاس سے زائد غیرملکی کھلاڑیوں ، جن میں انگلینڈ ، جنوبی افریقہ ، سری لنکا ، ویسٹ انڈیز ، بنگلہ دیش اور زمبابوے کے کھلاڑی شامل ہیں ، نے لاہور میں کھیلنے پر رضامندی کا اظہار کر دیا ۔ اگر یہ فائنل لاہور میں منعقد کیا نہ جا سکتا تو یقیناََ یہ ہماری غیرتوں پر تازیانہ ہوتا ۔ یہ غیرت مندانہ فیصلہ ہے جسے پوری قوم خوش آمدید کہتی ہے ۔
نئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی یہ ثابت کر دیا کہ
غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دَو میں
پہناتی ہے دُرویش کے تاجِ سرِ دارا
اُنہوں نے اپنے آہنی عزم کا اظہار کرتے ہوئے دشمن کو للکارا ، افغانستان کے اندر جا کر ٹارگیٹڈ آپریشن کرکے بہت سے دہشت گردوں کو واصلِ جہنم کیا ۔ ملک کے اندر بھی ایک ہی رات میں پاک فوج ، رینجرز اور پولیس کے آپریشن سے 100 سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کیا اور پاک افغان بارڈر مکمل طور پر بند کر دیا گیا۔ جنرل باجوہ نے پاک آرمی کو یہ حکم دیا ہے کہ رنگ و نسل کی تمیز کیے بغیر کارروائی کی جائے اور کسی بھی شخص کو بارڈر کراس کرتے دیکھ کر گولی مار دی جائے ۔ بھاری توپ خانہ افغان سرحد پر منتقل کر دیا گیا ہے ۔ جنرل صاحب نے فرمایا ہے کہ قوم بھارتی سازشوں سے آگاہ ہے اور اُسے اشتعال انگیزی کا بھرپور جواب ملے گا ۔ کلبھوشن کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا ۔ وزیرِاعظم میاں نواز شریف نے بھی فرمایا کہ دہشت گرد جہاں بھی ہوں گے ، اُنہیں نشانہ بنایا جائے گا۔
جنرل صاحب کی خواہش تو یہی ہے کہ پاک ، افغان افواج مشترکہ آپریشن کے ذریعے دہشت گردوں کا خاتمہ کریں لیکن ایسا ہوتا ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ نریندر مودی کی جھولی میں بیٹھا اشرف غنی وہی کرے گا جو مودی کا حکم ہو گا ۔ یہی وجہ ہے کہ افغان حکام نے پاکستان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پاکستان نے سرحد پار گولہ باری کا سلسلہ بند نہ کیا تو اُسے بھرپور جواب دیا جائے گا ۔ افغان وزارتِ خارجہ کے مطابق پاکستان کی جانب سے حملے بند ہونے چاہییں اور مسلے کا سفارتی سطح پر حل تلاش کیا جائے ۔ تاہم اگر ایسا نہ ہوا تو افغانستان خاموش نہیں بیٹھے گا اور پاکستانی اقدامات کے جواب میں اندرونی ، علاقائی اور عالمی طاقت استعمال کی جائے گی۔ہم تو برادر اسلامی ملک افغانستان کے ساتھ اخوت و محبت کا رشتہ قائم رکھنا چاہتے ہیں لیکن اگر وہ اپنی آستین میں بھارتی خنجر چھپائے بیٹھا ہے تو پھر اُس کو بھرپور جواب بھی ملے گا۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں