73

جاہلوں کا علاج خاموشی…..ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی

پاکستانی قوم نے5آگست کا تاریخ دن بھارت کی مودی سرکار کے خلاف جارحانہ بلابازی میں گذارا دشمن کو زبردست پیغام بھیجا اور اپنے لئے مستقبل کا واضح راستہ متعین کیا5آگست 2019وہ سیاہ دن تھا جب بھارت نے آئین کے دودفعات کو ختم کرکے کشمیر کو بھارت کو حصہ قرار دیا اور بھارتی ہندووں کو کشمیری مسلمانوں کی زمینیں خریدنے کی آزادی دیدی کشمیریوں نے اس پرواویلا مچایا تو مودی سرکار نے کرفیو لگاکر لوگوں کی آواز کو دبادیا۔مودی سرکار کو شاید معلوم نہیں تھا کہ کشمیری اکیلے نہیں ہیں۔پوری پاکستانی قوم کشمیریوں کے پیچھے کھڑی ہے

 بھارت کو خوف تھا کہ پاکستان کشمیر کامقدمہ لیکر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا دروازہ کھٹکھٹائے گا۔سلامتی کونسل میں کسی دوست ملک کے ذریعے قرارداد پیش کرکے بھارت پر عالمی پابندیاں نافذ کروائے گا یہ ایسی ہی پابندیاں ہونگی جیسی پابندیاں چند سال پہلے عراق،افغانستان اور ایران کے خلاف لگائی گئی تھیں سفری پابندیاں ہونگی تجارتی پابندیاں ہونگی،معاشی پابندیاں ہوگی یہ ایسی پابندیاں ہونگی جو بھارت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردینگی لیکن ہماری حکومت کے پاس ایک وژن تھا ایک منصوبہ تھاایک حکمت عملی تھی ہم نے اپنی جارحانہ بلے بازی کا آغاز ایک منٹ دھوپ میں کھڑے ہونے سے کیاوہ تاریخی دن تھا جب پاکستانی قوم دھوپ میں ایک منٹ کے لئے کشمیری عوام کے ساتھ کھڑی تھی پوری دنیا نے دیکھا کہ دھوپ میں کھڑے 22کروڑ 95لاکھ پاکستانی قوم کشمیریوں کوکھبی تنہا نہیں چھوڑیگی اس پیغام نے بھارت کے چھکے چھڑادیے وہ بھی تاریخی دن تھا جب27ستمبر2019ء کو وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا بعد میں معلوم ہوا کہ جنرل اسمبلی نہ رائے شماری کراسکتی ہے نہ پابندیاں لگواسکتی ہے نہ کشمیریوں پر توڑے جانے والے مظالم کو رکواسکتی ہے اس کے باوجود ہمارے وزیراعظم کی تقریر نے بھارت کے درودیوار کوہلاکر رکھ دیا وہ بھی تاریخی لمحہ تھا جب پاکستان کے دفتر خارجہ نے بڑے غوروخوص کے بعد سلامتی کونسل کی 50رکنی کمیٹی کی رکنیت کے لئے ایشیا کے کوٹے کا ووٹ بھارت کو دیدیا یہ پاکستان کی دور اندیشی تھی کہ سلامتی کونسل کا رکن بنکر بھارت 3سالوں کے لئے پاکستان کا احسان مند ہوگا ترکی،مصر اور جاپان کوووٹ دینے سے ہمیں کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا بھارت ہمارا ہمسایہ ہے،پڑوسی ملک ہے اس کا ہم پرحق ہے۔ہم نے پاکستان پر حملہ کرنے والے بھارتی پائیلٹ ونگ کمانڈر ابھی نندن کو24گھنٹے گذرنے سے پہلے غیر مشروط رہا ئی دیدی تاکہ بھارت پر ایک اور احسان کا بوجھ لاداجائے آخر وہ کب تک ہمارے احسانات کے بوجھ تلے دبا رہے گا ابھی ہماری حکومت کوشش کررہی ہے کہ تخریب کاری میں ملوث بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو رہا کرکے بھارت پرایک احسان کیا جائے ہماری جارحانہ بیٹنگ میں ایک موڑ اُس دن آیا جب ہم نے اسلام آبادمیں کشمیرہائی وے کا نام سری نگر ہائی وے رکھ دیا یہ بھی بھارت کے منہ پر ایک زور دار طمانچہ ہے ہم نے دنیا کو بتادیا ہے کہ کشمیر کس طرح بھارت کا اٹوٹ انگ ہوسکتا ہے جبکہ سری نگر ہائی وے اسلام آباد میں ہے۔عقل کے اندھوں کو ایک نہ ایک دن سمجھ آئیگی کہ کشمیر پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے چنانچہ سری نگر،جموں،شوپیاں وغیرہ میں بھارتی فوج کی طرف سے سال بھر جاری رہنے واا کرفیودنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے سوا کچھ اور نہیں کسی کو شک ہو تو اسلام آباد آکر سری نگر ہائی وے کا سائن بورڈ دیکھے تو اس کا دماغ ٹھکانے آجائے گا۔5آگست 2020ء کو کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ اور ظالمانہ قبضے کا ایک سال پورا ہوا تو اُس دن بیٹنگ کریز پر زور دار چھکا مارنے کے لئے ہم نے گھروں سے باہر نکل کر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی اور پوری دنیا کی توجہ کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی طرف دلائی یہ ایسا چھکا تھا جس کاکوئی علاج ہمارے دشمن کے پاس نہیں تھا بال نے200فٹ کی بلندی سے بونڈری کو پار کیا تماشائیوں نے زور دار تالیاں بجائیں اور دنیا نے دیکھا کہ کشمیر میں بڑا ظلم ہورہا ہے۔

ہمارے دوست شاہ صاحب کو ہرکام میں کیڑے ڈالنے کی عادت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سال کے365دن خاموشی اختیار کی بھارت کے کانوں میں جوں تک نہ رینگی ہماری ایک منٹ کی خاموشی سے بھارت کو کیا فرق پڑے گا؟ابھی ہم نے شاہ صاحب کو جواب نہیں دیا تھا کہ ٹی وی پر خبریں آگئیں وزیراعظم نے ایک نقشہ دکھایا جس میں مقبوضہ کشمیر کو پاکستان میں شامل کیا گیا ہے اس پر ہمارے وزیرخارجہ نے اپنی نشست سے اُٹھ کروزیراعظم کو مبارک باد دی نیز اس موقع پر ہماری حکومت نے ایک گانا بھی ریلیز کیا جس نے بھارت کو لاجواب کردیا ہم نے شاہ صاحب سے کہا دیکھو اتنا فرق پڑتاہے ایک منٹ کی خاموشی کوئی معمولی بات نہیں ہوتی بعض اوقات ایسی خاموشی پورے 365دنوں کی خاموشی پر بھاری ہوتی ہے۔مرزا اسد اللہ خان غالب نے سوباتوں کی ایک بات دومصرعوں میں کہی ہے۔
نشونما ہے اصل سے غالب فروع کو
خاموشی ہی سے نکلے ہے جوبات چاہیے۔

Print Friendly, PDF & Email