138

چاٶموس۔۔۔۔…….آفگں رضا آوی ، اپر چترال

کالاش مزہب کی رو سے چاٶموس سال کا آخری بڑا اور انتہائی اہميت کا حامل تہوار ہے ۔۔۔ بہت ہی متبرک ہے ۔۔یہ ایک ایسا تہوار ہے جس میں اعمال کو تولو جاتا ہے ۔۔گزرے سال کی خطاٶں پر ندامت اور اور اگلے سال میں ایسے خطاٶں سے بچنے کی تدبیر کی جاتی ہے ۔۔۔وادی میں قدرتی آفات کا تناسب کیا رہا، قدرتی خوشیاں کیا رہیں ، خوشی اور غمی کے اسباب کیا رہے ، کالاش قبیلہ کا ان میں دخل کتنا رہا ، مزہب سے محبت لگاو اور جزبہ کتنا رہا ، سردمہری کی کیفیت کیا رہی، اولاد میں اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد کتنا رہا، کالاش مزیب کو خیر اباد کہنے کی وجہ کیا رہی، پچھلے سال کے دورانیہ کی زمہ داری جس شخص کے کندھوں پر ڈال دی گئ تھی اس کے قدم سے سال کیسا گزرا، فصلوں اور مویشیوں میں بڈھوتری کا پیمانہ کیا رہا، بارش کتنی ہوی، اس سے نقصان اور فائده کا شرح کیا رہا۔۔ یہ اور ایسے سارے حالات و واقعات کا احتساب اسی ”چاٶموس “ تہوار میں کیا جاتا ہے ۔۔۔۔
چاٶموس کی تیاری کا اغاز ستمبر ہوتا ہے ۔۔شوشت نام کی ٹوپی اور معروف ٹوپی کھو پھیسی میں نئ سیسیاں جڑنے کا اغاز بھی ستمبر سے ہی کیا جاتا ہے ۔۔
چاٶموس میں کالاش چاہتے ہے کہ ان کے گھر میں زیادہ سے زیادہ مہمان آئیں ۔۔۔وہ ان کو خوب کھلائیں اور پلائیں ۔۔۔
کالاش قبیلے میں ایسےکوگ بھی ہوتے ہیں جو معمولی تنازعات کی وجہ سے ان کے درمیاں بائیکاٹ رہتا ہے ۔۔۔چاٶموس کی امد پر کدورتوں کا ازالہ کر کے بائیکاٹ ختم کرایا جاتا ہے۔ہے۔ہے۔آئندہ زندگی میں اپس کی شیرو شکر زندگی کا عہد لیا جاتا ہے ۔۔ایک دوسرے کے گھروں میں آنے جانے اور تعلقات برادرانہ طے کرنے کا وعدہ لیا جاتا ہے۔۔۔۔
یہ سات دسمبر سے بائس دسمبر کو منایا جاتا ہے۔۔۔

ماخوز از، اشپاتا محمد عنایت اللہ ۔۔

Print Friendly, PDF & Email