106

اپر دیر سے تعلق رکھنے والی زوجہ شیرین خان نےایون کے سامنے انتظار گاہ کے قریب ایمبولینس کے اندر ہی بچی کو جنم دیا، ڈیلوری کے بعد ماں اور بچی دونوں بالکل تندرست ۔

چترال ( نمایندہ  )اپر دیر سے تعلق رکھنے والی زوجہ شیرین خان جس کو ڈیلو ری کیس کے سلسلے میں ریسکیو 1122 کے ایمبولینس میں دروش سے ڈی ایچ کیو ہسپتال لوئر چترال منتقل کیا جا رہا تھا، ایون کے سامنے انتظار گاہ کے قریب ایمبولینس کے اندر ہی بچی کو جنم دیا، ڈیلوری کے بعد ماں اور بچی دونوں بالکل تندرست ہیں۔ اپر دیر سے تعلق رکھنے والے شیرین خان دروش کے ایک گاؤں میں کرایے کے مکان میں رہتے ہیں. جہاں آج ان کی بیوی کو ڈیلیوری کی تکلیف ہوئی۔ اور ٹی ایچ کیو کے پاس ایمبولینس نہ ہونے کے سبب ریسکیو 1122کا ایمبولینس طلب کیا گیا تھا۔ شرین خان نے ریسکیو کے ضلعی انچارج اور صوبائی سربراہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے ۔ کہ ریسکیو کاادارہ غریب لوگوں کا واحد سہارا بن چکا ہے ۔ اور دن رات خدمت سے لوگوں کا اعتماد حاصل کر چکا ہے۔ درین اثنا عوامی حلقوں نے کہا ہے ۔ کہ ریسکیو کی 1122اچھی کار کردگی یقینا قابل تحسین ہے ۔ لیکن یہ بات قابل افسوس ہے ۔ کہ ڈی ایچ او چترال کے زیر نگرانی مختلف ہسپتالوں کے ایمبولینس مستقل طور پر ناکارہ ہو چکے ہیں ۔ ان کی مرمت کی جاتی ہے ۔ اور نہ یہ عوام کو ایمرجنسی سہولت دینے کے قابل ہیں ۔ اس لئے ہسپتالوں کی ایمرجنسی کا یہ بوجھ ریسکیو 1122 کے سر پڑ گیا ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا ۔ کہ ڈی ایچ کیو لوئر چترال ، ٹی ایچ کیو دروش ، آر ایچ سی ایون سمیت جتنے بھی ایمبولینس ناکارہ ہو نے کی وجہ سے سروس دینے سے قاصر ہیں ۔ ان کی فوری مرمت کا انتظام کیا جائے ۔ اور محکمہ ہیلتھ چترال ایمرجنسی کی ذمہ داری ریسکیو 1122 پر ڈال کر خود کو بری الذمہ کرنے کی کوشش نہ کرے ۔ یہ یقینا ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر چترال کی غفلت اور لاپرواہی کا واضح ثبوت ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email