81

کسٹم اسٹیشن کے کلاس فور ملازمتیں گبورکے زمین مالکان کو نہ دئیے گئے تو وہ عدالت میں جانے پر مجبور ہوں گے/سابق تحصیل ممبرخوش محمداوردیگرکاپریس کانفرنس

چترال (نمائندہ ) چترال کے سرحدی گاؤں گبور کے باشندوں نے شاہ سدیم کے مقام پر کسٹم اسٹیشن میں مختلف ملازمتوں کو مبینہ طور پر سابق ممبر ضلع کونسل محمد حسین اور پی ٹی آئی کے مقامی رہنماؤں کے ذریعے فروخت کرنے کے بارے میں اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انکوائری کمیٹی تشکیل دے کر اس کی مکمل تحقیقات کرائی جائے۔ منگل کے روز چترال پریس کلب میں سابق نائب ناظم یونین کونسل گرم چشمہ خوش محمد خان نے گبور کے باشندوں محی الدین، خان گل اور احمد طاہر کی معیت میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اس علاقے میں کسٹم اسٹیشن کی قیام کے لئے مقامی لوگوں نے اپنی زرعی زمینوں کی قربانی دی ہے لیکن ان کو کلاس فور کی ملازمتیں بھی نہیں دی جارہی ہیں جوکہ ان کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔ انہوں نے کہاکہ 18فروری کو کسٹم اسٹیشن شاہ سدیم گبور کے لئے ملازمتوں پر بھرتی کا شیڈول منسوخ کرکے دوبارہ شفاف طریقہ اپنانے اور محکمہ کے ذریعے براہ راست بھرتی کی بجائے ان کی سیلیکشن ٹیسٹنگ سروس کے ذریعے کرائی جائے۔ انہوں نے کہاکہ تمام صوبائی اور وفاقی محکمہ جات میں سیلیکشن ٹیسٹنگ سروسز کے ذریعے ہوتے ہیں تو کسٹم ڈیپارٹمنٹ میں براہ راست بھرتیوں کو جاری رکھنے سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ محمد حسین سمیت پی ٹی آئی کے رہنما ؤں نے ان اسامیوں کا سودا پہلے سے کرلیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر کلاس فور ملازمتیں زمین مالکان کو نہ دئیے گئے تو وہ عدالت میں جانے پر مجبور ہوں گے۔

Print Friendly, PDF & Email