94

چترال میں شدید اور طویل گرمی….. تحریر: محکم الدین ایونی

امسال گرمی کے طویل ترین دورانیے نے چترال کو ایک مرتبہ پھر زمانہ قدیم کی طرف دھکیل دیا ہے ۔ لیکن فرق یہ ہے ۔کہ اس وقت اگر دن کو شدید گرمی ہوتی تھی ۔ توراتوں کی ٹھنڈی ہوائیں دن کی گرمی کا اثر زائل کردیتی تھیں ۔ جبکہ اب وہ موسمیاتی توازن برقرار نہیں ہے ۔ دن ہو کہ رات چترال جیسے پہاڑی اضلاع بھی شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔ بریر ویلی سے تعلق رکھنے والے بلان خان کالاش کا استدلال یہ ہے ۔ کہ ہوائیں تو موجود ہیں ۔ لیکن وہ ہوائیں گلئشیرز (شایوز) سے ٹکرا کر جو ٹھنڈک کا خوشگوار احساس اپنے ساتھ لاتی تھیں ۔ اب وہ گلیشئیرز موجود نہیں ہیں ۔ بریر کا موراگوئے گلیشئیر جو وادی کے آخری حصے پر دو پہاڑوں کے بیچوں بیچ بھرا رہتا تھا ۔ اب پگھل کر ختم ہو چکا ہے ۔ ایسے میں ٹھنڈی ہوائیں کہاں سے آئیں ۔ اس لئے رات اور دن کی گرمی میں بہت کم فرق رہ گیا ہے ۔ اور گرمی کا دورانیہ بھی بڑھ گیا ہے ۔ چترال میں جون جولائی اگست گرمیوں کے مہینے قرار دیے جاتےہیں ۔ جبکہ ماہ ستمبر خزان کا پہلا مہینہ ہے ۔ لیکن دیکھا گیا ہے ۔ کہ وسط اگست سےہی راتوں کو موسم میں کافی تبدیلی محسوس کی جاتی تھی ۔ اور راتیں ٹھنڈی ہوا کرتی تھیں ۔ اب ایسا بالکل بھی نہیں ہے ۔ گذشتہ ڈیڑ ھ عشرےسے موسمیاتی تبدیلی نے چترال پر اپنے اثرات و تغیرات کے جو ان مٹ نقوش چھوڑے ہیں ۔ وہ کسی کیلئے بھی غیر محسوس نہیں ہیں ۔اور روان سال کو تو گرمی کےلحاظ سے شدیدترین اورطویل ترین سال قراردیا جا سکتا ہے ۔ چترال میں گذستہ چارمہینوں کے دوران بارش کے اتنے قطرے بھی نہیں گرے ۔ کہ درختوں کے پتوں پر پڑی گردو غبار دھل سکیں۔ نشیبی علاقوں سے لے کر گرمائی چراگاہوں تک زمین انتہائی خشکی کی لپیٹ میں ہے ۔ جس کے نتیجے میں پہاڑوں پر اگنے والی قدرتی جڑی بوٹیاں اور جنگلی پھول بھی نیم مردہ حالت میں جی رہے ہیں ۔ پہاڑ ی چراگاہیں سبزے سے خالی ہیں ۔ اس لئے مال مویشی چرنے کیلئے نکلتے ہیں ۔ تو بھوک مٹانے کی حد تک خوراک دستیاب ہے۔ بلان خان کالاش کاکہنا ہے ۔ کہ کالاش وادیوں میں پیدا ہونے والی شہد کا زیادہ تر انحصار گرمائی چراگاہوں او ر پہاڑوں پر اگنے والے جنگلی پھولوں پر پے ۔ جس سال بارش زیادہ ہوگی ۔ سبزہ اور پھول پہاڑوں کی زینت بنیں گے ۔ تو شہد کی مکھیاں زیادہ پیداوار دیں گی۔ لیکن خشک سالی میں شہد کی مکھیوں کی پیدا وار خود مکھیوں کی خوراک بن جاتی ہے ۔ اور امسال بارشیں نہ ہونے کے سبب شہد کی مکھیوں کیلئے خوراک کا بڑا مسئلہ ہے ۔ کالاش وادیوں میں پیدا ہونے والی شہد کی قدرو قیمت اس لئے زیادہ ہے۔ کہ شہد کی یہ مکھیاں دیسی ہیں ۔ جس میں مصنوعیت کا ذرا بھی عمل دخل نہیں ہے ۔ ان مکھیوں میں اتنی صلاحیت اور طاقت موجود ہو تی ہے ۔ کہ وہ دور پہاڑوں میں کھلے پھولوں کا رس چوستے ہیں ۔ اور اسی سے شہد بناتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے ۔ کہ یہ شہد آج چھ ہزار روپے کلوگرام فروخت ہوتا ہے ۔ جس کیلئے قبل از وقت بکنگ کرنی پڑتی ہے۔ کالاش وادیوں میں پیدا ہونے والی شہد کئی ایک بیماریوں کیلئے ایکسیر مانا جاتا ہے ۔ ان کی کالونیاں اتنی قدیم ہیں ۔ جتنی کالاش قبیلے کے تاریخ ہے ۔ موسمیاتی تبدیلی نے گلشئیرز پر بہت منفی اثرات چھوڑے ہیں۔ شدید اور طویل عرصے تک رہنے والی گرمی نے گلیشئیرز کے پگھلاو میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے۔ اور دریائے چترال کا بہاو گذشتہ سالوں کے مقابلے میں اس سال بہت زیادہ اور طویل عرصے تک رہا۔ بروغل چیانتر گلیشئیر ، پیچ اوچ گلیشئیر ، تریچمیر گلئشیرکے بارے میں مقامی لوگوں کاکہنا ہے ۔ کہ ان گلیشیر ز کے احاطے میں وسیع نئی زمین دریافت ہوئی ہے ۔ یہ وہ زمین ہے ،جسے صدیوں سے گلیشیر ز نے ڈھانپ رکھا تھا ۔ اب سکڑنے سے زمین گلیشئیر کے چادر سے باہر نکل آئی ہے ۔ اس سے گلیشیرز ( شایوز ) کے خطرناک اور تشویشناک صورت حال کا اندازہ ہو تا ہے ۔ میٹھے پانی کے ذخائر مسلسل کم ہو رہے ہیں ۔ اور جو پانی دستیاب ہے ۔ وہ نا سمجھی اور غفلت کی وجہ سے آلودہ کیا جا رہا ہے ۔ شہری اور دیہاتی علاقوں میں ندی نالوں کی صفائی کا خیال رکھا جاتا ہے ۔ اور نہ پائپ لائن پر توجہ دی جاتی ہے ۔ ہر فرد یہ خیال کرتا ہے ۔ کہ پائپ لائن یا نہر کا یہ پانی صرف اسی کا ہے ۔ جس پر کسی اور کا حق نہیں ۔ یوں اس منفی سوچ کی بناپر اپنی ضرورت کے علاوہ پانی کو گند ہ کرنے میں تامل نہیں کرتے ۔ موسمیاتی تبدیلی نے پھلوں کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے ۔ دور دراز کے سرد علاقوں کو چھوڑکر اگر شہری مقامات کو دیکھا جائے ۔ تو پھل پکنے اور رس بھرنے سے پہلے ہی خراب ہو جاتے ہیں۔ ایون اور چترال شہر کےکئ مقامات پر انگور ، ناشپاتی، خوبانی اور چیری کے پھل خراب ہو گئے ۔ شغوری ناشپاتی جو عمر کے لحاظ سے سب سے طویل عرصے تک قابل استعمال رہنے والا پھل سمجھا جاتا ہے ۔ اب رس بھرنے سے پہلے ہی خراب ہو کر درخت سے گر جاتے ہیں ۔ اور یہی صورت دیگر پھلوں کی ہے ۔ لوئرچترال میں تمام پھلوں کی عمر گھٹ کر نصف رہ گئی ہے ۔ ان میں سے بہت کم کھانے کے قابل بچتے ہیں ۔ بعض افراد کا کہناہے ۔ کہ ایمپورٹڈ پودوں کی وجہ سے مقامی پھل خراب ہو گئے ہیں ۔ لیکن یہ بات حقیقت ہے ۔ کہ بارشوں کا نہ ہونا، گرمی میں غیر معمولی اضافہ ، اور طویل دورانیے تک اس کا رہنا پھلوں کے خراب ہونے کا سبب ہیں ۔ چترال میں روان سال کئی مقامات پر قدرتی جنگلات کے آگ لگنے کے افسوسناک واقعات ہوئے ۔ جن میں بریر ، چمرکن اور چترال نیشنل پارک کے جنگلات قابل ذکر ہیں ۔ آگ لگنے کے نتیجے میں ہزاروں درخت جل کر خاکستر ہو گئےہیں ۔ اور ملک کو اربوں روپوں کا نقصان ہوا ہے ۔ جو کہ انتہائی طور پر افسوسناک ہے ۔ کیونکہ ایک طرف مقامی لوگوں کو عمارتی لکڑی کے پرمٹ کے حصول کیلئے سینکڑوں مرتبہ محکمہ فارسٹ کے دفتر کے چکر کاٹنےپڑتے ہیں ۔ اور بہت خوش قسمت فرد کو پچاس فٹ کی پرمٹ ملتی ہے ۔ جبکہ دوسری طرف کمیونٹی کی غفلت اور محکمہ جاتی نا اہلی اور عدم دلچسپی کی وجہ سے بے حساب جنگلات جل کر کوئلہ بنتے جا رہے ہیں ۔ اور کوئی گرفت نہیں ہے ۔ اس پر مستہزاد یہ کہ حکومت نئے جنگلات لگانے کیلئے اربوں روپے خرچ کر رہی ہے ۔ بلاشبہ عالمی حدت کو کم کرنے اور موسمیاتی تبدیلی کو دوبارہ اپنے اصل توازن پر لانے کیلئے شجر کاری سے بہتر کوئی کام نہیں ہے ۔ اور چترال جیسے خشک علاقے کو جنگلات کی تو اور بھی اشد ضرورت ہے ۔ کیونکہ اس کے کل رقبے کے دو فیصد پر بھی جنگلات نہیں ہیں ۔ ایسے میں جتنی ضرورت نئے پودے لگانے کی ہے ۔ اس سے کئی گنا زیادہ پہلے سے موجود جنگلات کی حفاظت کی ہے ۔ لیکن اس میں محکمہ فارسٹ کا کردار کبھی بھی قابل رشک نہیں رہا۔ چترال میں گذشتہ دو عشروں کے دوران موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے جو تباہی آئی ۔ وہ دراصل جنگلات کی بے دریغ کٹائی کرکے اپنی تجوریاں بھرنے کی ہوس کانتیجہ ہے ۔ جس میں حکومت ، فارسٹ ڈویلپمنٹ کار پوریشن ، محکمہ فارسٹ اور چترال کےمنتخب نمایندگان شامل رہے ۔ اور لاکھوں فٹ غیر قانونی لکڑی دوسرے صوبوں کو منتقل ہوئی ۔ لیکن چترال کو سوائےتباہی و بربادی کے کچھ نہیں ملا ۔ اس کا خمیازہ چترالی قوم سیلابی تباہی، بارشوں کی کمی ، گلیشئیرز کے تیز ترین پگھلاو ، صاف پانی کی کمی اورشدید گرمی کی شکل میں بھگت رہا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں