65

موسم برسات میں چترال میں انسانی المیہ رونما ہونے اور امن وامان کا تشویش ناک صورت حال پید ا ہونا یقینی امر ہے ۔ایم این اے شہزادہ افتخار

چترال (نمائندہ ڈیلی چترال ) چترال سے قومی اسمبلی کے رکن شہزادہ افتخار الدین نے چترال میں گزشتہ سال سیلا ب سے متاثرہونے والے انفراسٹرکچرز میں سے دو فیصد کی بحالی میں بھی ناکامی پر صوبائی حکومت کو سخت ہدف تنقید بناتے ہوئے تنبیہ کی ہے کہ اگر یہی صورت حال جاری رہی تو آنے والے موسم برسات میں چترال میں انسانی المیہ رونما ہونے اور امن وامان کا تشویش ناک صورت حال پید ا ہونا یقینی امر ہے جس کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر ہوگی۔ پیر کے روز چترال پریس کلب میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اپر چترال میں کوشٹ، موژگول، رائین، نشکو ، موردیر کے مقامات پر جیپ ایبل پل گزشتہ سال کے سیلاب میں یا تو مکمل طور پر بہہ گئے تھے یا ناقابل استعمال ہوچکے ہیں لیکن صوبائی حکومت نے ابھی تک ایک پائی بھی ان پر خرچ نہیں کی اور ابھی موسم برسات کی دوبارہ آمد آمد ہے جس کے بعد کئی qqوادیوں کے لوگ گزشتہ سال کی طرح کئی ماہ تک اپنی اپنی وادیوں میں محصور ہوکر رہ جائیں گے اور اشیائے خوردونوش کی رسد نہ ہونے کی وجہ سے فاقوں کی نوبت بھی پڑ سکتی ہے جس سے غذائی قلت کی وجہ سے کئی اموات ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ سال چترال کے کوراغ کے مقام پر وزیر اعظم نے تو اپنے وعدے کے مطابق اپنے اعلان کردہ پچاس کروڑ روپے انفراسٹرکچرز کی بحالی کے لئے فراہم کردئیے لیکن صوبائی حکومت نے اپنا وعدہ اور ذمہ داری نبھانے میں بری طرح ناکام رہی ۔ شہزادہ افتخار نے کہا کہ گرم چشمہ، بمبوریت ، تورکھو، موڑکھو، شیشی کوہ ، بیوڑی اور کریم آباد روڈز بھی سیلاب سے متاثر ہوچکے ہیں اور ان کی بحالی کی مد میں صوبائی حکومت نے ابھی تک سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ صرف سات کروڑ روپے ریلیز کی ہے جوکہ شرمناک بات ہے جبکہ ضرورت اربوں میں ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت کی وعدوں کی ایفاکرنے پر وزیر اعظم نواز شریف کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ چکدرہ چترال روڈ کے لئے فنڈز ریلیز کرکے نہ صرف چترال بلکہ ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کا دل جیت لیا ہے۔ ایم این اے چترال نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا اپنے متعلق ریمارکس کو مسترد کرتے ہوئے انہیں مشورہ دیا کہ وہ صوبائی حکومت کا حصہ ہوتے ہوئے اپنا کردار ادا کریں اور خاموش تماشائی بننے کی بجائے انفراسٹرکچروں کی بحالی کے لئے فنڈز ریلیز کرائیں۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں