103

ڈپٹی کمشنر چترال نے بھوک ہڑتالیوں سے ریشن ہائیڈل پاور سٹیشن کی بحالی کے حوالے سے اقدامات اُٹھانے کے سلسلے میں 45دن کا وقت لیا تھا ۔ جو کہ پو را ہو چکا ہے

چترال ( نمایندہ ڈیلی چترال ) تحریک بحالی بجلی گھر ریشن کے رہنماؤں سید سردار حسین شاہ ، نور عالم خان ، ناظم وی سی پرواک وور محمد خان اور محمد نبی وغیرہ نے کہا ہے ۔ کہ ڈپٹی کمشنر چترال نے بھوک ہڑتالیوں سے ریشن ہائیڈل پاور سٹیشن کی بحالی کے حوالے سے اقدامات اُٹھانے کے سلسلے میں 45دن کا وقت لیا تھا ۔ جو کہ پو را ہو چکا ہے ۔ لیکن اس دوران کسی بھی قسم کی پیش رفت تاحال دیکھنے میں نہیں آئی ۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا ۔کہ ڈپٹی کمشنر نے ریشن بجلی گھر کی بحالی تک نیشنل گرڈ کی بجلی سے بھی ریشن اور ملحقہ علاقوں کو بجلی دینے کا وعدہ کیا تھا ۔ لیکن ابھی تک اُس پر بھی کسی قسم کا عملدرآمد نہیں ہوا ۔ جس سے علاقے میں انتہائی مایوسی پھیل چکی ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ اس حوالے سے اپر چترال کے وی سی ناظمین اور ممبران ڈسٹرکٹ کونسل کا اجلاس چترال میں منعقد ہوا ۔ جس میں فیصلہ کیا گیا ہے ۔ کہ ایک وفد صوبائی اداروں ، پیڈو اور ممبران پاور سے ملاقات کریں گے ۔ جن کی طرف سے مناسب یقین دھانی نہ ہونے کی صورت میں احتجاج دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا انہوں نے ایم پی اے چترال سردار حسین کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ۔ کہ انہوں نے اے ڈی پی میں 80کروڑ روپے ریشن بجلی گھر کی بحالی کیلئے اور پندرہ کروڑ روپے عارضی طور پر بجلی مہیا کرنے کیلئے صوبائی حکومت کی طرف سے منظوری کی نوید سنائی تھی ۔ لیکن بجٹ آنے پر معلوم ہوا ۔ کہ اس مد میں صرف دس روپے رکھے گئے ہیں ۔ انہوں نے روڈ کیلئے بھی 35لاکھ روپے کا اعلان کیا تھا ۔ اور اب تک یہ صرف اعلان کی حد تک ہے ۔ جو کہ حقیقت بنتا نظر نہیں آتا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ہم ضلعی انتظامیہ اور صوبائی حکومت کو خبردار کرنا چاہتے ہیں ۔ کہ اُن کو اگر اسی طرح ٹرخانے کی کوشش کی گئی ۔ تو وہ اس ماہ کے آخر تک دوبارہ بھوک ہڑتال شروع کریں گے ۔ جس میں مرد و خواتین سب حصہ لیں گے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں