تازہ ترین
Home >> خواتین کا صفحہ >> “چترال اور اقدام خودکشی”۔۔۔۔دلشاد پری بونی
Qashqar Lab

“چترال اور اقدام خودکشی”۔۔۔۔دلشاد پری بونی

چترال میں آئے روز خود کشی اور اقدام خود کشی کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے۔ زیادہ تر واقعات گھریلو ناچاقی، کسی لڑکے کا لڑکی کے ساتھ فراڈ کرنے یا شادی شدہ مرد کا غیر شادی شدہ بن کے لڑکی کے ساتھ پیار کی پینگین بڑھانے کی وجہ سے ہیں۔ عورت کو اپنے ہاتھوں کھلونہ بنانے والے مرد وں سے میں صرف اتنا پوچھتی ہوں کہ آپ کی کوئی ماں، بہن ، بیٹی نہیں ہے؟؟ایک ایریا میں اگر کوئی شادی شدہ مرد جو کہ چالیس سال سے بھی زیادہ کا ہوتا، کالج کی معصوم کم عمر یعنی اپنی بیٹی کی عمر کے لڑکی کو رنگ کالر اور غیر شادی شدہ بن کے برباد کرتا ہے اور درندگی کی انتہاکرتا ہے تو دوسری طرح کوئی مردشادی شدہ عورت کو اپنے جھال میں پھنسا کے اس کے شوہر کو قتل کرتا ہے۔انسانیت کے قاتلوں یاد رکھنا تاریخ اپنے آپ کو دھراتی ہے۔ کل آپ کی اپنی بہن اور بیٹی کے ساتھ بھی یہی ہونے والا۔ درندگی کی انتہا کرنے والے بے ضمیر مرد چترال جیسے پرامن اور پاکیزہ ماحول کو مزید اپنے ناپاک ارادوں سے گندگی اور غلاظت کا ڈھیر مت بنانا۔
قتل لفظ کا تصور بھی چترال میں نہیں تھا۔مگر آج کل تو پرندوں کے شکار سے بھی آسان ہوگئی ہے۔معشوقہ اپنے معشوق کے ساتھ مل کر اپنے شوہر کو قتل کرتی ہے۔ ایک مرد کے بہکاوے میں آکر عورت اپنی پوری زندگی برباد کرتی ہے۔ کیا یہ لوگ د ایک دوسرے سے وفا کر پائیں گے ؟؟ اپنے آپ سے نظرین ملا ائیں گے؟؟
عورت کو کھلونہ سمجھنے والے مردوں سے صرف اتنا پوچھتی ہوں کہ ایک عورت اپنا گھر بار رشتے ناطے آپ کے لئے چھوڑ کر ایک پاک رشتہ نکاح میں بندھ کے آپ کے گھر آتی ہے آپ کے لئے۔ آپ پرائے لڑکیوں سے تعلق رکھ کر کتنے لوگوں کی زندگی برباد کرتی ہو؟رانگ کالر بن کر ٹائم پاسنگ کرنے والے بے ضمیر مردوں آپ کے ایک غلط کال سے کتنی لوگوں کی زندگیاں برباد ہوجاتی ہے کبھی سوچا؟؟
درندگی کی انتہا ہوتی جارہی ہے اور انسانیت تو بالکل ختم۔ ایسے مجرموں کو سخت سے سخت سزا دینی چاہئے۔ والدین سے بھی گزارش ہے کہ اپنے کم عمر لڑکیوں کو ہوسٹل کالج چھوڑنے کے بعد کڑی نظر رکھیں ان پر۔ کم عمر لڑکیوں کے ہاتھ میں موبائیل نہیں دینا چاہئے اورگھناونا کھیل کھیلنے والے ان حیوان نما مردوں کو سخت سزا ملنی چاہئے تاکہ ہر کسی کی ماں،، بیٹی ،بہن کی عزت اور زندگی محفوظ رہے۔اپنے بیٹیوں کو ضرورت سے زیادہ آذادی نہیں دینی چاہئے اور مردوں پر اتنی جلدی بھروسہ کرنے والے خواتین سے التجا ہے کہ خدارا اپنے والدین کی عزت دو ٹکے کے لڑکے کے لئے برباد مت کر۔ ماں باب آپ پر بھروسہ کرکے آپ کو تعلیم کے لئے بھیجتی ہے تو ان کی اعتماد اور بھروسہ کو مت توڑنا جو شادی شدہ مرد اپنی بیوی کے ساتھ وفا نہیں کرتی وہ آپ کے ساتھ کیا خاک وفا کرپائے گا؟ خدا کا واسطہ ہمارے پاک پرامن ماحول کو غلاظت کا ڈھیر مت بنانا۔