انسانی جذبات کی اصلاح مولانا رومی کی حکمت تحریر: ابوسلمان

انسانی زندگی مختلف جذبات، خواہشات اور احساسات کا مجموعہ ہے۔ یہی جذبات اگر اعتدال میں ہوں تو انسان کی شخصیت کو سنوارتے ہیں اور اگر حد سے بڑھ جائیں تو انسان کی تباہی کا سبب بن جاتے ہیں۔ صوفیائے کرام اور اکابرینِ امت نے ہمیشہ انسان کو اپنے نفس کی اصلاح اور جذبات کے اعتدال کی تعلیم دی ہے۔ انہی عظیم صوفیاء میں ایک نام جلال الدین محمد رومی (مولانا جلال الدین رومی) کا ہے جن کی حکمت بھری باتیں آج بھی انسان کی رہنمائی کرتی ہیں۔
مولانا رومی سے ایک شاگرد نے چند سوالات کیے اور انہوں نے بڑے سادہ مگر گہرے انداز میں ان کے جوابات دیے، جو دراصل انسانی نفسیات اور اخلاقی تربیت کا مکمل درس ہیں۔
زہر کیا ہے؟
مولانا رومی نے فرمایا:
"جو چیز ہماری ضرورت سے زیادہ ہو، وہ زہر ہے۔ چاہے وہ طاقت ہو، دولت ہو، بھوک ہو، غرور ہو، لالچ ہو، سستی ہو، محبت ہو، حرص ہو، نفرت ہو یا کوئی اور چیز۔”
یہ جواب دراصل اسلام کے اس بنیادی اصول کی طرف اشارہ کرتا ہے جسے اعتدال کہا جاتا ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے:
وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا
“کھاؤ اور پیو مگر اسراف نہ کرو۔”
(سورۃ الأعراف: 31)
اسی طرح نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“انسان کا پیٹ چند لقموں سے زیادہ بھرنا برا ہے، جو اس کی کمر سیدھی رکھ سکیں۔”
(ترمذی)
یہ تعلیم واضح کرتی ہے کہ زندگی کی ہر نعمت اگر حد سے بڑھ جائے تو نقصان بن جاتی ہے۔
خوف کیا ہے؟
مولانا رومی فرماتے ہیں:
"خوف درحقیقت غیر یقینی حالات کو قبول نہ کرنے کا نام ہے۔ اگر ہم غیر یقینی حالات کو قبول کر لیں تو یہ خوف نہیں بلکہ ایک مہم جوئی بن جاتی ہے۔”
قرآن کریم اہل ایمان کو یہ یقین دلاتا ہے کہ اللہ پر بھروسہ کرنے والے خوف سے آزاد ہو جاتے ہیں:
أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
“خبردار! بے شک اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔”
(سورۃ یونس: 62)
امام ابو حامد الغزالی لکھتے ہیں کہ مومن کا دل اللہ پر اعتماد سے مضبوط ہوتا ہے، اس لیے دنیا کے اندیشے اس پر زیادہ اثر نہیں کرتے۔
حسد کیا ہے؟
مولانا رومی فرماتے ہیں:
"حسد دوسروں کی خوبیوں کو قبول نہ کرنے کا نام ہے۔ اگر ہم ان خوبیوں کو تسلیم کر لیں تو یہ حسد نہیں بلکہ تحریک بن جاتی ہے۔”
اسلام نے حسد کو سختی سے منع کیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“حسد سے بچو کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔”
(ابو داؤد)
قرآن کریم میں بھی ارشاد ہے:
أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَىٰ مَا آتَاهُمُ اللّٰهُ مِن فَضْلِهِ
“کیا وہ لوگوں سے اس پر حسد کرتے ہیں جو اللہ نے اپنے فضل سے انہیں دیا ہے؟”
(سورۃ النساء: 54)
بزرگ محدث ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں کہ حسد دراصل دل کی بیماری ہے جو انسان کو سکون سے محروم کر دیتی ہے۔
غصہ کیا ہے؟
مولانا رومی فرماتے ہیں:
"غصہ ان چیزوں کو قبول نہ کرنے کا نتیجہ ہے جو ہمارے اختیار سے باہر ہوں۔ اگر ہم ان چیزوں کو قبول کر لیں تو یہ غصہ نہیں بلکہ برداشت بن جاتا ہے۔”
نبی کریم ﷺ نے غصے کو قابو کرنے کی خاص تاکید فرمائی۔ ایک شخص نے آپ ﷺ سے نصیحت مانگی تو آپ ﷺ نے فرمایا:
“لا تَغْضَبْ”
“غصہ نہ کرو۔”
(بخاری)
قرآن کریم متقین کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:
وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ
“جو غصہ پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں۔”
(سورۃ آل عمران: 134)
مشہور فقیہ ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ جو شخص اپنے غصے پر قابو پا لے وہ دراصل اپنے نفس پر غالب آ جاتا ہے۔
نفرت کیا ہے؟
مولانا رومی فرماتے ہیں:
"نفرت کسی شخص کو اس کی اصل حیثیت میں قبول نہ کرنے کا نام ہے۔ اگر ہم کسی کو بغیر کسی شرط کے قبول کر لیں تو یہ نفرت نہیں بلکہ محبت بن جاتی ہے۔”
اسلام محبت، رحم اور بھائی چارے کا دین ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔”
(بخاری و مسلم)
مشہور محدث یحییٰ بن شرف النووی لکھتے ہیں کہ اسلامی معاشرے کی بنیاد باہمی محبت اور خیر خواہی پر قائم ہے۔
مولانا رومی کے یہ مختصر مگر گہرے جوابات دراصل انسان کی اخلاقی تربیت کا ایک جامع فلسفہ پیش کرتے ہیں۔ اگر انسان اپنی زندگی میں اعتدال، صبر، توکل، محبت اور برداشت کو اختیار کر لے تو اس کی شخصیت سنور جاتی ہے اور معاشرہ بھی امن و سکون کا گہوارہ بن جاتا ہے۔
اسلام کی تعلیمات بھی یہی ہیں کہ انسان اپنے نفس کی اصلاح کرے اور اخلاقِ حسنہ کو اختیار کرے۔ قرآن و سنت اور اکابرین امت کی تعلیمات ہمیں یہی سبق دیتی ہیں کہ حقیقی کامیابی دولت یا طاقت میں نہیں بلکہ دل کی پاکیزگی، اعتدال اور اخلاقِ حسنہ میں ہے۔


