دادبیداد,….. سب سے پہلے پاکستان۔…. ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے علماء کرام کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو لوگ دوسرے ملکوں کی لڑائی پاکستان میں لا کر ہمارے دفاتر، ہسپتالوں اور سکولوں کو جلانا چاہتے ہیں، وہ تخریب کار عناصر ہیں۔ ایسے عناصر سے ہوشیار رہیں، حکومت ایسے عناصر کو 9 مئی کے تخریب کاروں کی طرح عبرت کا نمونہ بنائے گی۔ پاکستان کے 25 کروڑ عوام کسی اور ملک کی جنگ کو پاکستان کی گلیوں میں لانا نہیں چاہتے۔ ہمارے لیے پاکستان سب سے اہم ہے۔ ہمارا نعرہ کل بھی یہی تھا آج بھی یہی ہے کہ "سب سے پہلے پاکستان”۔
فیلڈ مارشل نے یہ بات سکردو، کراچی اور دیگر مقامات پر ایک بیرونی ملک کی حمایت میں جلوس نکالنے والوں کو مخاطب کر کےہلڑ بازی اور تخریب کاری کے واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے کہی، ایسے مواقع پر نیم خواندہ یا ناخواندہ عوام سے عموماً کہا جاتا ہے کہ اپنی حد میں رہو ” آبیل مجھے مار”، کہہ کر اپنے لیے مصیبت مول لینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ جب علماء کرام کا کوئی طبقہ یا گروہ سامنے بیٹھا ہو تو قرآن و حدیث کے حوالے دیے جاتے ہیں، کیونکہ وہ قرآن و حدیث کے علوم سے واقف ہیں۔
صلح حدیبیہ کا مشہور واقعہ اسلامی تاریخ کا شاندار باب ہے۔ صلح نامہ لکھتے وقت حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے محمد الرسول اللہ لکھا تو مشرکین مکہ نے اعتراض کیا کہ رسول اللہ مت لکھو، محمد بن عبد اللہ لکھو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے منظور کر کے فرمایا رسول اللہ کے الفاظ مٹا دو، مولائے کائنات نے عرض کیا میں اپنے قلم سے یہ الفاظ کبھی نہیں مٹاؤں گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا "لاؤ، میں اپنے ہاتھ سے مٹاتا ہوں”۔ یہ اسوہ حسنہ کی ایک جھلک ہے۔
قرآن مجید فرقان حمید کے اندر سورہ نمل میں دو اہم واقعات علماء کرام سے پوشیدہ نہیں۔ آیت 18 میں چیونٹی کا ذکر ہے، وہ دوسری چیونٹیوں سے کہتی ہے "اپنے بلوں میں گھس جاؤ، سلیمان علیہ السلام اور ان کا لشکر تم کو روند نہ ڈالیں”۔ سلیمان علیہ السلام پوچھتا ہے تم نے یہ بات کیوں کہی؟ چیونٹی کہتی ہے، میں ان کا ذمہ دار ہوں ان کو کسی آفت سے بچانا میری ذمہ داری ہے۔ اسی طرح آیت 34 میں ملک سبا کی ملکہ کا واقعہ آیا ہے، ملکہ کے درباری مشورہ دیتے ہیں کہ ہم جنگ میں طاقتور ہیں اگرسلیمان علیہ السلام نے حملہ کیا تو ہم مقابلہ کریں گے، خوب لڑیں گے، بہادری کے جوہر دکھائیں گے، سب کے ایسے ہی مشورے سننے کے بعد ملکہ کہتی ہے جب کسی بادشاہ کا لشکر حملہ کرتا ہے تو وطن کے اندر فساد برپا ہوتا ہے، لشکر کے ہاتھوں عزت دار لوگ ذلیل ہو جاتے ہیں۔ ہم جنگ کو اپنے وطن میں دعوت نہیں دیں گے، تحفے تحائف بھیج کر صلح کریں گے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کتاب و سنت کی روشنی میں بالکل درست بات کہی ہے۔ علماء کرام کے سامنے صاف ستھرے الفاظ میں لگی لپٹی رکھے بغیر حکومت پاکستان کا دو ٹوک موقف کسی مداہنت کے بغیر رکھا ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ پاکستان کے کسی شہری کو اگر کوئی دوسرا ملک پاکستان سے زیادہ عزیز اور پسند ہے تو وہ جاکر اس ملک میں گھر بسائے۔
غزوہ خیبر میں جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے مرحب کو جہنم رسید کیا، قلعہ خیبر کو فتح کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اعلان کیا "تم اگر پر امن اور وفادار شہری بن کر رہنا نہیں چاہتے تومدینہ سے نکل جائے چنانچہ خیبر والوں کومدینے سے نکالا گیا۔


