بجلی کے صارفین پر بڑھتا ہوا مالی بوجھ: ایک سنگین قومی مسئلہ۔۔بشیر حسین آزاد۔۔

پاکستان میں بجلی کے صارفین اس وقت شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں۔ بجلی کے بلوں میں مسلسل اضافہ، مختلف مدات میں چارجز، اور پیچیدہ ٹیرف نظام نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ حالیہ مہینوں میں میٹر رینٹ، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ (FPA)، اور دیگر ٹیکسوں کی مد میں جو اضافی بوجھ ڈالا گیا ہے، وہ نہ صرف غیر منصفانہ محسوس ہوتا ہے بلکہ عوامی سطح پر شدید بے چینی کا سبب بھی بن رہا ہے۔
کمرشل صارفین پر کئی مہینوں سے 1000 روپے ماہانہ کے حساب سے میٹر رینٹ عائد کیا جا رہا ہے، جبکہ اب گھریلو صارفین کو بھی 300 سے 600 روپے تک اس مد میں ادا کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب صارفین پہلے ہی 15 سے 20 ہزار روپے دے کر میٹر خریدتے ہیں، تو پھر یہ مسلسل میٹر رینٹ کس بنیاد پر وصول کیا جارہا ہے؟ اس حوالے سے نہ تو واضح پالیسی سامنے آتی ہے اور نہ ہی عوام کو کوئی تسلی بخش جواب دیا جا رہا ہے۔
بجلی کے بلوں میں شامل ایف پی اے، جی ایس ٹی، اور دیگر ٹیکسوں کے باعث فی یونٹ قیمت گھریلو صارفین کے لیے 60 روپے سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ کمرشل صارفین کے لیے یہ 100 روپے فی یونٹ سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔ اس صورتحال میں متوسط اور کم آمدنی والے طبقات کے لیے بجلی کا استعمال ایک عیاشی بنتا جا رہا ہے۔
پاکستان قدرتی وسائل، خصوصاً پانی، سے مالا مال ملک ہے اور پن بجلی (Hydropower) کے لیے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ چترال میں 106 میگاواٹ کا پاور ہاؤس بننے کے باوجود مقامی صارفین کو سستی بجلی فراہم نہیں کی جارہی، جو کہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ مقامی سطح پر پیدا ہونے والی بجلی کو اگر وہیں کم نرخوں پر فراہم کیا جائے تو نہ صرف عوام کو ریلیف مل سکتا ہے بلکہ علاقائی ترقی بھی ممکن ہے۔
دنیا کے کئی ممالک میں بجلی کے استعمال میں اضافہ ہونے پر فی یونٹ قیمت کم کر دی جاتی ہے تاکہ صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔ اس کے برعکس پاکستان میں جوں جوں یونٹس بڑھتے ہیں، ٹیرف بھی بڑھتا جاتا ہے، جس سے صارفین مزید بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔ یہ پالیسی نہ صرف غیر منطقی ہے بلکہ معاشی ترقی میں بھی رکاوٹ بنتی ہے۔
اس صورتحال میں ضروری ہے کہ عوامی نمائندے، خصوصاً سینیٹرز، ایم این ایز اور ایم پی ایز، اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں۔ سینیٹر طلبہ محمود سمیت دیگر ذمہ داران کو چاہیے کہ وہ پارلیمان میں اس معاملے کو اٹھائیں اور عوام کو ریلیف دلانے کے لیے مؤثر قانون سازی کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ وکلاء اور سول سوسائٹی کو بھی اس ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے۔
میٹر رینٹ کو فوری طور پر ختم کیا جائے
بجلی کے ٹیرف پر نظر ثانی کی جائے
مقامی سطح پر پیدا ہونے والی بجلی کو سستے نرخوں پر فراہم کیا جائے
ٹیکسوں اور اضافی چارجز کو کم کیا جائے
زیادہ استعمال پر کم نرخ کی پالیسی اپنائی جائے
بجلی کے بلوں میں بے تحاشا اضافہ اور غیر ضروری چارجز عوام کے ساتھ ایک معاشی ناانصافی ہے۔ اگر بروقت اصلاحات نہ کی گئیں تو یہ مسئلہ نہ صرف عوامی غم و غصے میں اضافہ کرے گا بلکہ ملکی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب کرے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت فوری اقدامات کرے اور عوام کو اس بوجھ سے نجات دالائے۔

