کب ہم بھی اُس شخص کی طرح تو نہیں؟ رمضان، اصلاحِ نفس اور ہماری حقیقت تحریر: ابوسلمان محمد قاسم

رسولِ اکرم ﷺ نے سیدنا عبداللہ بن عمروؓ سے ارشاد فرمایا:
“اے عبداللہ! اُس شخص کی طرح نہ ہو جانا جو تہجد پڑھتا تھا، پھر اس نے رات کو قیام (عبادت) کرنا چھوڑ دیا۔”
(صحیح مسلم)
یہ مختصر مگر گہری نصیحت دراصل ہمارے باطن کا آئینہ ہے۔ ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو رمضان المبارک میں عبادات کا اہتمام کرتے ہیں، مگر جیسے ہی یہ بابرکت مہینہ رخصت ہوتا ہے، ہم اپنی سابقہ روش کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم بھی کہیں اُس شخص کی طرح تو نہیں جسے نبی کریم ﷺ نے متنبہ فرمایا؟
ذیل میں چند اہم پہلو قرآن و سنت اور اکابرینِ امت کے اقوال کی روشنی میں پیش کیے جا رہے ہیں:
1۔ رمضان میں قرآن سے تعلق، بعد میں غفلت
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“یہ (قرآن) برکت والی کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا تاکہ لوگ اس کی آیات میں غور کریں۔” (سورۃ ص: 29)
رمضان میں ہم تلاوت کرتے ہیں، تراویح میں کھڑے ہوتے ہیں، مگر بعد میں قرآن کو طاقِ نسیاں پر رکھ دیتے ہیں۔
حضرت حسن بصریؒ فرماتے ہیں: “قرآن پڑھنے کے لیے نہیں، سمجھنے اور عمل کرنے کے لیے نازل ہوا ہے۔”
2۔ نماز باجماعت کا اہتمام، پھر سستی
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “باجماعت نماز اکیلے کی نماز سے ستائیس درجے زیادہ افضل ہے۔” (بخاری)
رمضان میں مساجد آباد ہوتی ہیں، مگر بعد میں صفیں ویران ہو جاتی ہیں۔
حضرت عمرؓ فرمایا کرتے تھے: “نماز دین کا ستون ہے، جو اسے قائم رکھے گا وہ دین کو قائم رکھے گا۔”
3۔ سنتوں اور نوافل کی پابندی، پھر ترک
رمضان میں ہم تہجد، اشراق، چاشت اور دیگر نوافل کا اہتمام کرتے ہیں، مگر بعد میں فرض نمازوں میں بھی کوتاہی شروع ہو جاتی ہے۔
امام ابن القیمؒ فرماتے ہیں: “نوافل، فرائض کی حفاظت کا ذریعہ ہیں۔”
4۔ سخاوت و خیرات، پھر بخل
رمضان میں ہم دل کھول کر صدقہ کرتے ہیں، مگر بعد میں محتاجوں کو بھول جاتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ سب سے زیادہ سخی تھے، اور رمضان میں آپ ﷺ کی سخاوت اور بڑھ جاتی تھی۔ (بخاری)
حضرت علیؓ فرماتے ہیں: “صدقہ گناہوں کو ایسے مٹاتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے۔”
5۔ اخلاق میں نرمی، پھر سختی
رمضان میں ہم غصہ ضبط کرتے ہیں، جھگڑوں سے بچتے ہیں، مگر بعد میں معمولی باتوں پر ناراض ہو جاتے ہیں۔
قرآن کہتا ہے: “اور غصہ پینے والے اور لوگوں کو معاف کرنے والے اللہ کو محبوب ہیں۔” (آل عمران: 134)
6۔ گناہوں سے اجتناب، پھر بے باکی
رمضان میں آنکھ، زبان اور دل کی حفاظت کی جاتی ہے، مگر بعد میں وہی لغزشیں لوٹ آتی ہیں۔
حضرت فضیل بن عیاضؒ فرماتے ہیں: “نیکی کا اثر یہ ہے کہ اس کے بعد بھی نیکی نصیب ہو، اور گناہ کی سزا یہ ہے کہ اس کے بعد مزید گناہ ہو جائیں۔”
7۔ ذکر و دعا کی کثرت، پھر غفلت
رمضان میں زبان ذکر سے تر رہتی ہے، مگر بعد میں دل سخت ہو جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: “یاد رکھو! اللہ کے ذکر سے دلوں کو اطمینان ملتا ہے۔” (الرعد: 28)
حقیقی کامیابی کیا ہے؟
رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:
“اللہ تعالیٰ کو وہ عمل سب سے زیادہ محبوب ہے جو ہمیشہ کیا جائے، چاہے وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔”
(صحیح بخاری)
یہی اصل پیغام ہے عبادت کا تسلسل۔ دین وقتی جوش کا نام نہیں، بلکہ مستقل مزاجی کا تقاضا کرتا ہے۔
اصلاح کا راستہ
اگر ہم واقعی اپنی حالت بدلنا چاہتے ہیں تو ہمیں چاہیے:
روزانہ کم از کم تھوڑی تلاوت کو معمول بنائیں
پانچ وقت نماز باجماعت کا اہتمام کریں
ہفتہ وار صدقہ کا معمول بنائیں
روزانہ کچھ وقت ذکر اور دعا کے لیے مقرر کریں
اپنے اخلاق کا مسلسل محاسبہ کریں
رمضان ہمیں بدلنے آتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم بدلتے ہیں؟
اگر رمضان کے بعد بھی ہماری زندگی میں نیکیوں کا تسلسل قائم رہے تو یہی اس مہینے کی حقیقی قبولیت کی علامت ہے۔
آئیے! ہم خود سے عہد کریں کہ ہم اُس شخص کی طرح نہیں بنیں گے جو نیکی شروع کر کے چھوڑ دیتا ہے، بلکہ ہم مستقل مزاجی کے ساتھ اللہ کی رضا کے راستے پر چلتے رہیں گے۔
اللّہ تعالیٰ ہمیں اپنی اصلاح کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین
