دھڑکنوں کی زبان

محمد جاوید حیات
"موشگافیاں ”
گاوں کے کرکٹ گراونڈ میں لوکل ٹورنمنٹ ہورہا تھا ایک دن مجھے بھی میچ دیکھنے کا شوق چرایا ..گراونڈ جاکے ایک کنارے پہ دبکے بیٹھ گیا میرے بالکل قریب کھیلاڑی بیٹنگ کے لیے تیار بیٹھے اپنی باری کا انتظار کررہے تھے ان میں میرا ایک طالب علم سکول کے زمانے میں کرکٹ کھیلا کرتا تھا .وہ جب بیٹنگ پہ جاتا ہم اس کو نصیحت کرتے ہدایات دیتے کہ سپن بالوں کو نہیں کھیل سکتے ہو خیال رکھو اب جب وہ بیٹنگ کے لیے جارہاتھا مجھے وہ منظر یاد آیا..تو مجھے وہی جملہ دھرانے کی سوجھی کہا کہ بیٹا ! سپین بالوں کا خیال رکھو وہ میری طرف کھا جانے والی نظروں سے دیکھا اور بیٹ لہراتے ہوئے بڑی رعونت سے گراونڈ میں داخل ہواان کے ساتھی کھیلاڑیوں کو بھی میری بات بہت ناپسند آئی .خیر وہ تو سپینر کی پہلی بال پہ آوٹ ہوکے گولڈن ڈک کے ساتھ گراونڈ سے باہر آیا مگر مجھے اپنی بے وقوفانہ موشگافی پہ بہت افسوس ہوا ..میں جب ایک سکول میں ذمہ دار تھا تو ایک نوجواں معلم سے کہا بیٹا!
تمہاری کلاس خالی ہے اس نے اپنے سمارٹ فون سے نظریں ہٹا کر کہا آپ اپنی موشگافیاں اپنے ساتھ رکھیں .میں سہم سا گیا ..ایک دفعہ ایک مسجد میں ایک مولانا بڑھے جذباتی انداز میں والدین کے حقوق کے بارے میں تقریر کررہا تھا چند دن پہلے ان کے معذور والد گرامی نے مجھ سے سرے راہے ملاقات کے دوراں فرمایا تھا ..بچوں پہ بھروسہ کرنا چھوڑ دیں خدمت کی امید بھی دفن کر دیں میرے بیٹے نےمجھے چھوڑ کر علحیدہ گھر بسایا ہے اس کی آنکھوں میں بے بسی کے دو موٹے موٹے آنسو تھے .مسجد سے باہر اکر میں نے اس مولانے سے کہا مولانا صاحب حقوق والدیں پر لمبی چوڑی تقریر کرنے سے بہتر نہیں ہے کہ ہم عملی طور پر ان کے ساتھ حسن سلوک کریں لوگ ہمیں دیکھ کر عبرت حاصل کریں گے .انھوں نے نہایت حقارت سے کہا تم بے خبر اور دین سے نابلد لوگوں کا المیہ یہ ہے کہ تم کسی بات کی سوجھ بوجھ نہیں رکھتے مگر اس پر تبصرہ کرتے ہو . ایک بارناچیز روزے سے تھا شام کو دستر خوان میں چاول آیا اس میں نمک اتنا زیادہ تھا کہ کوئی ایک لقمہ بھی نہ لے سکے .میں نے صرف اتنا کہا کہ "نمک زیادہ ہے”… بیوی نے ایسی ڈانٹ پلائی کہ میں لرزہ براندام ہوا ..تم خود کیوں نہیں پکاتے نمک کے بچے ..میں نے دل میں کہا پچھلے تیس سالوں سے چاول پکارہی ہو لیکن نمک کا اندازہ نہیں ہوا . ایک بار ہم کھانے پہ بیٹھے تھے بیٹے کے ایک ہاتھ میں سمارٹ فون تھا دوسرا ہاتھ بغیر دیکھے اندازے سے پلیٹ کی طرف بڑھا رہا تھا.. میں نے لخت جگر کو نہایت نرم لہجے میں مخاطب کرکے کہا بیٹا ! پہلے کھانا کھا لو وہ کھا جانے والی نظروں سے میری طرف دیکھا لقمہ مبارک واپس دسترخوان پہ رکھا اوراٹھ کر اپنے کمرے میں گھس گیا .ہم ایک بار غواگے گاڑی میں کہیں جا رہے تھے ڈرائیور بیٹا نہایت بے احتیاطی میں گاڑی چلارہا تھا میں نے گزارش کی بیٹا ذرا احتیاط سے… اس نے سٹیرنگ ایک ہاتھ سے گماتے ہوئے کہا ..”چچا یہ سٹیرنگ تمہارے ہاتھ میں ہے کہ میرے ہاتھ میں” …میں نے کہا بیٹا ! اس سمے ہماری زندگیاں بھی تمہارے رحم و کرم پہ ہیں .دوسرے لمحے گاڑی کی ٹائر پھٹ گئی لیکن رب نے ہمیں بچالیا .ایک گاڑی میں جارہے تھے ہم فیملی کے لوگ تھے فیملی سے متعلق لطیفے سنائے جارہے تھے میں نے بھی ایک لطیفہ سناناچاہا .ایک ہی جملہ بولا تھا کہ میرے افسر بھائی نے میری بات کاٹ کر میرے بیٹے کو مخاطب کیا .مجھے اپنی بے وقوفی اور کم مائیگی پہ رونا آیا .گاؤں کے بزرگوں کی بیٹھک تھی بزرگ اور نوجوان سب موجود تھے سیاسی بحث شروع ہوئی ..نوجوان صوبے میں حکومت کو گالیاں دے رہے ہیں ایک بزرگ نے پوچھا حکومت تو تمہاری اپنی ہے بزرگ کی موشگافی پہ نوجوان آگ بگولا ہوگیا .نون لیگ والے پیپل والوں کو صلواتیں سنارہے ہیں جماعت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی میں آگ خون اور جنون کا معرکہ ہے تبلیغ والے بڑے بڑے علماء کو بھی بغیر تبلیغ میں وقت لگائے ماننے کے لیے تیار نہیں لہذا چھپ سادھ لیں بہتر ہے .تحقیق فضول لگتی ہے ہر ایک سقراط ہے ہرایک عالم بے بدل ہے سعدی نے بہت موزوں فارمولا بتایا تھا .
ان کس کہ نہ داند و نداند کہ نہ داند
در جہل مرکب ابد الدھر بماند
ادب اداب کا دور ختم ہوا .فہم و فراست عنقا ہے احترام کا تصور ختم ہے سٹیٹس کونے جنم لیا ہے .معیار دولت ہے انسانوں میں فاصلے بڑھ گئے ہیں .اب موشگافیاں نادانیاں ہیں .اپنی اوقات میں رہنا ہے .جو بندہ اپنے آپ کو سب سے بہتر سمجھے اس کو ڈسٹرپ کرنے کی ضرورت کیا ہے مشورے ، تجربے اور نصیحتوں کا دور گزر چکا ہے انفرادیت انتہا کو پہنچی ہے رشتے ناطوں کی ڈوری ٹوٹ رہی ہے .خاندان کے خاندان بکھر رہے ہیں .وقت گزاری کا دور ہے ایثار اور مدد کا دور نہیں ہے.بزرگوں نے کہا تھا پہلے تولو پھر بولو …ہم جیسوں کو بولنے کی نوبت ہی نہ أئے اس لیے کہ خاموشی بہتر ہے بعض لوگوں کی عادت ہے کہ بے جوڑ تاویلات میں پڑ جاتے بیں بے سرو پا تبصرے کرتے ہیں فضول میں تحقیق و جستجو میں لگے رہتے ہیں یہ اپنے أپ کو لوگوں کی نظروں سے گرا رہے ہوتے ہیں .



