مضامین
بیرونی دفاع سے اندرونی دفاع تک ۔۔۔ ایک سبق ۔۔۔ تحریر : ڈاکٹر غلام مرتضیٰ

6 ستمبر پاکستان کی تاریخ کا وہ دن ہے جو ہمیں صرف ایک جنگ کی یاد نہیں دلاتا بلکہ قومی اتحاد، جذبہ حب الوطنی، قربانی، عزم اور دفاعِ وطن کی ایک ایسی داستان سناتا ہے جس کی مثال ہماری تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب قومیں اپنے مقصد پر متحد ہو جائیں تو بڑے سے بڑا چیلنج بھی ان کے حوصلے پست نہیں کر سکتا۔
ستمبر 1965ء میں جب بھارتی افواج نے پاکستان کی سرحدوں پر جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو پاک فوج نے نہ صرف بھرپور دفاع کیا بلکہ دشمن کے عزائم کو ناکام بنانے میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ چونڈہ اور کھیم کرن سمیت مختلف محاذوں پر پاکستانی جوانوں نے بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کیا۔ یہ وہ وقت تھا جب وطن کے دفاع کی ذمہ داری صرف فوجی جوانوں تک محدود نہیں رہی تھی بلکہ پوری قوم ایک صف میں کھڑی دکھائی دیتی تھی۔
شہروں میں عوام نے اپنے فوجی بھائیوں کے لیے خون کے عطیات دیے، مالی امداد فراہم کی اور اپنی استطاعت کے مطابق دفاعی کوششوں میں حصہّ لیا۔ لوگوں نے اپنی ضروریات محدود کر کے قومی دفاع کے لیے تعاون کیا۔ یہ جذبہ اس بات کی گواہی تھا کہ وطن صرف زمین کے ایک ٹکڑے کا نام نہیں، بلکہ اس کے لیے قربانی دینے والے کروڑوں لوگوں کے جذبات اور امیدوں کا نام بھی ہے۔
6 ستمبر ہمیں ان شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع بھی دیتا ہے جنہوں نے اپنے آج کو قوم کے کل پر قربان کر دیا۔ سرحدوں پر کھڑا سپاہی جب اپنے گھر، خاندان اور ذاتی خواہشات کو پیچھے چھوڑ کر وطن کی حفاظت کا عہد کرتا ہے تو پوری قوم پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس قربانی کی قدر کرے اور ملک کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔
یومِ دفاع کا اصل پیغام صرف یہ نہیں کہ ہم ماضی کی کامیابیوں کو یاد کریں، بلکہ یہ بھی ہے کہ ہم اپنے حال کا جائزہ لیں اور مستقبل کے لیے درست سمت کا تعین کریں۔ دفاع صرف سرحدوں پر دشمن کے مقابل کھڑے ہونے کا نام نہیں۔ ایک مضبوط ریاست کے لیے بیرونی دفاع کے ساتھ ساتھ اندرونی استحکام بھی ضروری ہے۔
پاکستان نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور مشکل جنگ لڑی ہے۔ آپریشن ضربِ عضب اور آپریشن ردالفساد جیسے اقدامات نے دہشت گردی کے خلاف قومی عزم کو واضح کیا۔ ہماری مسلح افواج، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے بھی بے شمار قربانیاں دیں۔ آج بھی ملک کی سرحدوں اور حساس علاقوں میں تعینات جوان اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ان قربانیوں کو سلام پیش کرنا پوری قوم کی ذمہ داری ہے۔
لیکن یہاں ایک بنیادی سوال ضرور پیدا ہوتا ہے: کیا کسی ملک کا دفاع صرف اس کی سرحدوں کے تحفظ سے مکمل ہو جاتا ہے؟
میرے نزدیک اس کا جواب نفی میں ہے۔
ملک کا حقیقی دفاع اس وقت مکمل ہوتا ہے جب اس کا شہری خود کو محفوظ محسوس کرے، اسے انصاف میسر ہو، اس کے جان و مال اور عزت و آبرو کا تحفظ یقینی ہو، نوجوان کو اپنے مستقبل کے لیے امید نظر آئے، مزدور کو اپنی محنت کا مناسب صلہ ملے، کسان اپنی فصل کے بارے میں مطمئن ہو، تاجر قانون کی بالادستی پر اعتماد کرے اور عام آدمی کو یہ یقین ہو کہ ریاست مشکل وقت میں اس کے ساتھ کھڑی ہے۔
اگر ایک طرف سرحد مضبوط ہو لیکن دوسری طرف معاشرہ بدامنی، ناانصافی، کرپشن، بے روزگاری، مہنگائی، ادارہ جاتی کمزوری اور مایوسی کا شکار ہو تو ہمیں اپنے دفاع کے تصور کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔
اندرونی دفاع سے مراد صرف دہشت گردی کا مقابلہ نہیں۔ اس میں ریاستی اداروں کی مضبوطی، قانون کی حکمرانی، معاشی استحکام، تعلیم، صحت، روزگار، سماجی انصاف اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ بھی شامل ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں نوجوان اپنے مستقبل سے مایوس ہو جائیں، جہاں عام شہری اپنے مسائل کے حل کے لیے دروازے کھٹکھٹاتا رہے اور جہاں طاقتور اور کمزور کے لیے قانون کے پیمانے مختلف محسوس ہوں، وہاں قومی سلامتی کا تصور نامکمل رہ جاتا ہے۔
ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ بعض اوقات بیرونی دشمن سے زیادہ خطرناک اندرونی کمزوریاں ثابت ہوتی ہیں۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ قومیں صرف بیرونی حملوں سے نہیں ٹوٹتیں، بلکہ سیاسی انتشار، ادارہ جاتی کمزوری، غلط فیصلوں، معاشی بحران اور باہمی عدم اعتماد بھی ریاستوں کو اندر سے کمزور کر سکتے ہیں۔
1971ء کا سانحہ بھی ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ قومی یکجہتی، سیاسی بصیرت، عوامی اعتماد اور درست فیصلوں کی کتنی اہمیت ہے۔ کسی بھی قومی سانحے کو صرف ایک ادارے یا ایک طبقے کے کھاتے میں ڈالنے کے بجائے اس کے تمام اسباب کا غیر جانب دارانہ جائزہ لینا چاہیے تاکہ تاریخ دوبارہ خود کو نہ دہرائے۔
اسی طرح مختلف ادوار کے سیاسی اور قومی واقعات، جن میں سانحہ ماڈل ٹاؤن جیسے واقعات بھی شامل ہیں، ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ ریاستی طاقت کا بنیادی مقصد شہریوں کا تحفظ، قانون کی بالادستی اور انصاف کا قیام ہونا چاہیے۔ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کی دیوار مضبوط ہو تو دشمن کے لیے اندرونی انتشار پیدا کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔
یومِ دفاع ہمیں اپنے شہداء اور غازیوں کو یاد کرنے کے ساتھ ساتھ یہ سوال کرنے کا موقع بھی دیتا ہے کہ ہم نے ان قربانیوں سے کیا سبق حاصل کیا؟
کیا ہم نے اپنے اداروں کو مضبوط کیا؟
کیا ہم نے قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا؟
کیا ہم نے نوجوان نسل کو ایسا مستقبل دیا جس میں انہیں امید نظر آئے؟
کیا عام شہری خود کو ریاست کا برابر کا حصہّ سمجھتا ہے؟
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا ہم نے قومی مفاد کو ذاتی، گروہی اور سیاسی مفادات سے بالاتر رکھنے کی کوشش کی؟
یہ سوالات کسی ایک فرد، ادارے یا حکومت کے خلاف نہیں بلکہ پوری قوم کے اجتماعی احتساب کا تقاضا ہیں۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ پاک فوج اور دیگر سکیورٹی اداروں کی قربانیوں کا بہترین اعتراف صرف تقریبات، بینرز اور نعرے نہیں بلکہ ایک مضبوط، منصفانہ اور مستحکم پاکستان کی تعمیر ہے۔ جس سپاہی نے سرحد پر اپنا خون دیا، وہ یقیناً یہ چاہے گا کہ اس کا وطن اندر سے بھی مضبوط ہو، اس کے لوگ خوشحال ہوں اور اس کے شہری عزت و وقار کے ساتھ زندگی بسر کریں۔
6 ستمبر ہمیں ماضی کے بہادر سپاہیوں کی یاد دلاتا ہے، مگر ساتھ ہی مستقبل کے پاکستان کی ذمہ داری بھی سونپتا ہے۔ آج کا محاذ صرف سرحد پر نہیں؛ تعلیم گاہ میں بھی ہے، عدالت میں بھی، بازار میں بھی، دفتر میں بھی، میڈیا میں بھی اور ہمارے اپنے کردار میں بھی۔
ہم میں سے ہر شخص اپنے حصےّ کا کردار ادا کرے تو یہی یومِ دفاع حقیقی معنوں میں یومِ عہد بن سکتا ہے۔
ہمیں بیرونی دشمن کے مقابل اپنی دفاعی قوت مضبوط رکھنی ہے، مگر اس کے ساتھ اندرونی کمزوریوں کا بھی مقابلہ کرنا ہے۔ ہمیں نفرت کے بجائے اتحاد، انتشار کے بجائے اتفاق، مایوسی کے بجائے امید، ناانصافی کے بجائے انصاف اور ذاتی مفاد کے بجائے قومی مفاد کو ترجیح دینا ہوگی۔
قومیں صرف ہتھیاروں سے محفوظ نہیں ہوتیں؛ قومیں مضبوط کردار، متحد معاشرے، مضبوط اداروں اور باشعور عوام سے محفوظ ہوتی ہیں۔
آج یومِ دفاع کے موقع پر ہم اپنے شہداء کو سلام پیش کرتے ہیں، غازیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں اور سرحدوں پر اپنے فرائض انجام دینے والے جوانوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہمیں یہ عہد بھی کرنا چاہیے کہ پاکستان کے دفاع کو صرف سرحدوں تک محدود نہیں سمجھیں گے۔ ہم اپنے معاشرے، اداروں، معیشت، قانون، تعلیم اور شہری حقوق کو بھی مضبوط بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔
کیونکہ ایک محفوظ سرحد ضروری ہے، مگر محفوظ شہری بھی ضروری ہے۔
ایک مضبوط فوج ضروری ہے، مگر مضبوط ریاستی ادارے بھی ضروری ہیں۔
ایک طاقتور دفاع ضروری ہے، مگر مضبوط معیشت اور متحد قوم بھی ضروری ہے۔
اور یہی 6 ستمبر کا سب سے بڑا سبق ہے کہ وطن کا دفاع صرف سرحد پر کھڑے سپاہی کی ذمہ داری نہیں، بلکہ ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔
آئیے اس یومِ دفاع پر ماضی کی قربانیوں کو یاد کرنے کے ساتھ مستقبل کے پاکستان کی تعمیر کا عہد بھی کریں۔
مقدر کی زنجیروں سے بندھے ہم بے بس لوگ،
عمریں گزار دیتے ہیں معجزوں کے انتظار میں۔
اب وقت صرف معجزوں کا انتظار کرنے کا نہیں، بلکہ اپنے حصےّ کا کردار ادا کرنے کا ہے۔
پاکستان زندہ باد۔
پاک فوج پائندہ باد۔


