چترال: موٹر سائیکل چوری کی وارداتوں میں ملوث بین الاضلاعی گینگ گرفتار، 5 مسروقہ موٹر سائیکلیں برآمد

چترال (نمائندہ ڈیلی چترال نیوز) چترال پولیس نے موٹر سائیکل چوری کی حالیہ وارداتوں کے خلاف ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے بین الاضلاعی چوروں کے گروہ کا سراغ لگا لیا ہے، جس کے نتیجے میں دو مرکزی ملزمان سمیت ایک سہولت کار کو گرفتار کر کے ان کے قبضے سے 5 مسروقہ موٹر سائیکلیں برآمد کر لی گئی ہیں۔اس سلسلے میں تھانہ چترال سٹی میں ایک تفصیلی پریس بریفنگ کا اہتمام کیا گیا، جس سے ایس ڈی پی او چترال سٹی احمد عیسیٰ نے خطاب کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ ایڈیشنل ایس ایچ او علی نواز، انویسٹی گیشن کے اے ایس آئی (ASI) سمیع اللہ اورڈی اے ایس آئی غلام عثمان بھی موجود تھے۔
احمد عیسیٰ نے میڈیا کو بتایا کہ چترال شہر اور گردونواح میں موٹر سائیکل چوری کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کا سخت نوٹس لیتے ہوئے، حال ہی میں تعینات ہونے والے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر محمد خالد خان نے پولیس ٹیم کو ان مقدمات کا جلد سے جلد سراغ لگانے کا خصوصی ٹاسک سونپا تھا۔ اس اہم مشن کی کامیابی کے لیے پولیس ٹیم نے دن رات ایک کر کے روایتی اور جدید تفتیشی طریقوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ملزمان کا گھیرا تنگ کیا۔ایس ڈی پی او نے انکشاف کیا کہ پولیس نے تندہی سے کام کرتے ہوئے دو اہم ملزمان کی شناخت حضرت علی ولد (ساکن ریحان کوٹ) اور عرفان اللہ(ساکن دنین) کے طور ہوئی ہے۔
ملزمان نے دورانِ تفتیش اپنے جرم کا اعتراف کیا اور ان کی نشاندہی پر پولیس نے مختلف مقامات سے چوری کی گئی 5 موٹر سائیکلیں اپنے قبضے میں لے لیں۔ اس کے علاوہ، اس جرم میں معاونت اور سہولت کاری کرنے کے الزام میں ایون گاؤں کے رہائشی مجیب خان نامی ایک اور شخص کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ ملزمان کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 381 اور 411 کے تحت مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔برآمد شدہ گاڑیوں کی واپسی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی ایس پی احمد عیسیٰ نے بتایا کہ ایک موٹر سائیکل عدالتی احکامات کی روشنی میں اپرچترال کے علاقے بونی سے تعلق رکھنے والے اصل مالک کے حوالے کر دی گئی ہے جبکہ دیگر چار موٹر سائیکلوں کو تمام قانونی اور ضابطے کی کارروائی مکمل کرنے کے بعد بہت جلد ان کے اصل مالکان کے سپرد کر دیا جائے گا۔تفتیش کے دوران ایک دلچسپ اور اہم انکشاف یہ بھی سامنے آیا کہ پولیس کے پاس صرف 4 موٹر سائیکلوں کی چوری کی رپورٹ درج تھی، جبکہ ملزمان کے قبضے سے 5 موٹر سائیکلیں برآمد ہوئیں۔ پانچویں موٹر سائیکل کے اصل مالک کا اب تک پتہ نہیں چل سکا ہے، جس کے لیے پولیس مزید تحقیقات کر رہی ہے۔
پریس بریفنگ کے اختتام پر ایس ڈی پی او چترال نے عوامِ چترال سے اپیل کی کہ وہ اپنے قیمتی اثاثوں بالخصوص موٹر سائیکلوں کو پارک کرتے وقت حفاظتی لاک کا استعمال یقینی بنائیں اور غفلت سے گریز کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر چوری کی کوئی بھی واردات پیش آئے تو شہری فوری طور پر پولیس کو اطلاع دیں تاکہ بروقت اور فوری کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ چترال پولیس عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہے۔





