تازہ ترین

پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعتِ اسلامی اپر چترال کا احتجاجی جلسہ ’’لیوی کوئی ٹیکس نہیں، بھتہ ہے؛ اسے فوری طور پر ختم کیا جائے۔‘‘ مقررین کا مطالبہ

پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعتِ اسلامی ایک بار پھر احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئی۔ اس سلسلے میں آج امیرِ جماعتِ اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن کی کال پر نمازِ جمعہ کے بعد بونی چوک میں امیرِ جماعتِ اسلامی اپر چترال اسد الرحمٰن کی زیرِ صدارت ایک احتجاجی جلسے کا انعقاد کیا گیا۔ جلسے میں جماعتِ اسلامی کے ذمہ داران، کارکنان اور دیگر افراد نے شرکت کی۔جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین، جن میں ڈپٹی سیکریٹری شجاع الدین لال،نائب امیر مختار احمد لال اور جنرل سیکریٹری اشفاق احمد ، یوتھ صدر موڑکھؤ امین الرحمٰن سمیت دیگر رہنما شامل تھے، نے پیٹرولیم لیوی کو ٹیکس کے نام پر بھتہ قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔مقررین کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم لیوی کے نام پر غریب، مظلوم اور مفلوک الحال عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے، جبکہ اس سے حاصل ہونے والی رقم اشرافیہ کی عیاشیوں میں اضافے کا ذریعہ بن رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام عوام کے لیے کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ لہٰذا حکومت فوری طور پر اس ناجائز بوجھ کو ختم کرے۔جلسے کے صدر اور امیرِ جماعتِ اسلامی اپر چترال اسد الرحمٰن نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ پیٹرولیم لیوی کے خلاف ہماری جدوجہد طویل عرصے سے جاری ہے۔ گزشتہ لانگ مارچ کو امیرِ جماعتِ اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن کی ہدایت پر مؤخر کیا گیا تھا، لیکن چونکہ تاحال مسئلہ حل نہیں ہوا، اس لیے اگر امیرِ جماعتِ اسلامی پاکستان دوبارہ لانگ مارچ کی کال دیتے ہیں تو جماعتِ اسلامی اپر چترال کے کارکنان اس میں شرکت اور دھرنے کے لیے تیار ہیں اور اپنے امیر کے حکم کے منتظر ہیں۔انہوں نے انتظامیہ کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کھیل تماشوں اور ٹورنامنٹس کے انعقاد کے لیے ہزاروں افراد جمع ہوتے ہیں، لیکن اس وقت قانون حرکت میں نہیں آتا۔ اس کے برعکس جب عوام اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرتے ہیں تو دفعہ 144 کو رکاوٹ بنا دیا جاتا ہے۔ انہوں نے اس طرزِ عمل پر تشویش کا اظہار کیا۔اسد الرحمٰن نے مزید کہا کہ تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال بونی، اپر چترال کو کیٹگری ڈی سے کیٹگری سی میں اپ گریڈ کرنے کے بجائے اسے کیٹگری ڈی ہی کی حیثیت سے آؤٹ سورس کرنے کے خلاف جماعتِ اسلامی اور آل پارٹیز کا احتجاج ختم نہیں ہوا، بلکہ ہنگامی حالات کے پیشِ نظر اسے عارضی طور پر مؤخر کیا گیا ہے۔ اگر اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل نہ کیا گیا تو احتجاجی دھرنا دوبارہ شروع کیا جائے گا۔
انہوں نے ملاکنڈ ڈویژن پر ٹیکسوں کے نفاذ کا فیصلہ واپس لینے کا بھی مطالبہ کیا۔احتجاجی جلسہ مختار احمد کے دعائیہ کلمات کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button