43

مسلم لیگ (ن) نے جے آئی ٹی رپورٹ مسترد کردی، قانونی جنگ لڑنے کا اعلان

وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت غیر رسمی اجلاس منعقد ہوا جس میں جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ پر بریفنگ دی گئی اور جے آئی ٹی رپورٹ کو چیلنج کرنے کی تجویز پر غور کیا گیا۔وزیراعظم نے جے آئی ٹی رپورٹ پر قانونی اور آئینی ماہرین کو جواب تیار کرنے کی ہدایت کردی، رفقاء نے وزیر اعظم سے مستعفی نہ ہونے ، سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کرنے اور محاز آرائی سے بچنے کا مشورہ دیا ہے۔اجلاس کے دوران وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان، وزیردفاع خواجہ آصف اور وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے وزیراعظم کو مشورہ دیا کہ وہ مستعفی نہ ہوں بلکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کریں۔آئینی ماہرین نے وزیراعظم کو آج کی سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت پر بریفنگ دی اور آئندہ سماعت کےلئے لائحہ عمل پر بھی مشاورت کی گئی۔قانونی ماہرین نے رائے دی کہ موجودہ ججز کے پاس آٹھویں ترمیم کے بعد آرٹیکل 6 کے تحت سپریم کورٹ وزیراعظم کو نااہل قرار نہیں دے سکتی اگر وہ ایسا کرے گی تو آئین و قانون کی خلاف ورزی ہوگی، وزیراعظم کو الیکشن کمیشن یا اسپیکر ہی نااہل قرار دے سکتا ہے۔وفاقی وزراء نے جے آئی ٹی کی رپورٹ کو بے بنیاد اور تضادات کا مجموعہ قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کردیا اور اس کے خلاف سپریم کورٹ میں بھرپور جنگ لڑنے کا اعلان کیا۔اسلام آباد میں اجلاس کے بعد مسلم لیگ (ن) کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر منصوبہ بندی و ترقیات احسن اقبال نے کہا کہ ’رپورٹ اور اس کے مندرجات نہ ہمارے لیے نئے ہیں نہ کسی اور کے لیے، جے آئی ٹی کی رپورٹ عمران نامہ ہے، رپورٹ میں وہی الزامات لگائے گئے جو عمران خان ایک سال سے لگا رہے ہیں اور یہ ایک مخالف جماعت کے مؤقف کا مجموعہ ہے۔‘انہوں نے کہا کہ ’ رپورٹ میں ٹھوس دلائل اور مستند مواد شامل نہیں، سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کو صرف 13 سوالات کا مینڈیٹ دیا تھا، لیکن اس کی رپورٹ مخالفین کے الزامات کی ترجمانی کرتی ہے اور ہمارے تحفظات کو درست قرار دیتی ہے۔‘احسن اقبال نے جے آئی ٹی کی رپورٹ کو دھرنا نمبر 3 قرار دیا جبکہ بیرسٹر ظفراللہ کا کہنا تھا کہ ’جے آئی ٹی رپورٹ دراصل پی ٹی آئی رپورٹ ہے۔‘ ’جے آئی ٹی کے 4 ارکان کو قانونی معاملات کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔وزیر دفاع اور پانی و بجلی خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ’ہم سمجھتے تھے جے آئی ٹی میں پڑھے لکھے لوگ شامل ہوں گے اور اس کی رپورٹ خام خیالی کے بجائے ٹھوس دلائل پر مشتمل ہوگی، لیکن رپورٹ میں کوئی بھی بات مصدقہ نہیں، رپورٹ میں رحمٰن ملک کی باتوں پر بہت زیادہ انحصار کیا گیا ہے اور ’سورس‘ رپورٹ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوتی جبکہ وزیر پیٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ’جے آئی ٹی کی رپورٹ غیر متوقع نہیں، رپورٹ میں بہت سی باتیں ناقابل یقین اور مضحکہ خیز ہیں اور رپورٹ سے مشرف دور کے بے بنیاد الزامات کی یاد تازہ ہوگئی۔دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بنی گالہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جے آئی ٹی رپورٹ آنے پر ثابت ہوگیا ہے کہ نواز شریف قوم کے مجرم ہیں وہ مجرم قرار پاچکے ہیں اب ان کے رہنے کا کوئی جواز نہیں رہا وہ فوری طور پر مستعفی ہوجائیں کیونکہ میچ ختم ہوگیا ہے لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعظم ہاؤس کب خالی کیا جاتا ہے۔عمران خان کے بعد پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلال بھٹو زرداری نے بھی وزیر اعظم نواز شریف سے فوری طور پر مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے، انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کی جانب سے جمع کردہ رپورٹ میں واضح طور پر کہا ہے کہ وزیراعظم اپنی آمدنی کے ذرائع اور اثاثہ جات کا جواز دینے میں ناکام ہوچکے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email