66

داد بیداد ۔۔۔۔مشرق وسطی نیا محاذ جنگ ۔۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی 

اگر روزانہ کی بنیاد پر 10اہم خبروں کا جا ئزہ لیا جائے تو ان میں سے 8خبروں کا تعلق مشرق وسطی میں عا لمی سیا ست ، تیل کی تجا رت ، گیس کے ذخا ئر ، اسلحہ کی خرید و فروخت ، جنگ کی دھمکی اور معاشی کساد بازاری سے ہو تا ہے یہ تعلق اتفاقاً ایسا نہیں ہو تا اس کے "پس پر دہ محرکات "ہو ا کر تے ہیں کوئی ڈوری ہلا نے وا لا ہو تا ہے جو ڈوری ہلا تا ہے اگر 1980ء کی دہائی میں عراق اور ایران کی 8سالہ جنگ نہ ہو تی اوراگر 1990ء میں عراق اور کویت کی جنگ نہ ہو تی ،اگر 1991میں عراق پر امریکی حملہ نہ ہو تا، اگر لیبیا پر اتحاد ی افواج کا قبضہ نہ ہو تا ،اگر2011کے بعد شام کے خلاف امریکہ اور سعو دی عرب کے اتحادی افواج کی 7سالہ جنگ نہ ہو تی اگر 2015ء میں سعودی عرب اور یمن کی جنگ نہ ہو تی تو عرب مما لک کا معا شی نقشہ فرانس ، بر طا نیہ ، جر منی ، امریکہ اور روس سے بہتر ہو تا معا شی تر قی کے ساتھ انسانی وسا ئل کی تر قی بھی بہتر ہو تی ، سماجی تر قی کے تما م اشار ئیے یو رپی مما لک کے برابر ہو تے اور عرب مما لک آج ٹیکنا لو جی میں امریکہ اور یورپ کے محتاج نہ ہو تے قو موں کی زندگی میں 40سالوں کی بڑی اہمیت ہو تی ہے ذولفقار علی بھٹو اور شا ہ فیصل کو ٹھکا نے لگا نے کے بعد عا لمی طا قتوں نے عرب ممالک کو یر غمال بنا لیا آج مشرق وسطی کو "ایشیا کا مر د بیمار "کہا جا تا ہے مشرق وسطیٰ میں نئی عالمی سیا ست یہ ہے کہ اگلے 10سالوں میں 4نئی جنگیں اس خطے میں لڑی جائیں اور ان جنگوں کے نتیجے میں 13عرب مما لک کو اسرائیل کا محکوم بنا یا جائے اسرائیل کی با لا دستی قبول کرنے پر مجبور کیا جائے اس کھیل کا نقشہ بن چکا ہے اس نقشے میں رنگ بھر نے کا کام ہو رہا ہے مشرق وسطیٰ کو نیا میدان جنگ بنا نے کی تین وجو ہا ت ہیں پہلی وجہ یہ ہے کہ اس خطے میں تیل اور گیس کے وسیع ذخا ئر مو جو د ہیں بندر گاہیں مو جو د ہیں اس لئے عا لمی طا قتوں کے مفادات ان کو اس خطے میں جنگ پر اما دہ کرتے ہیں اس خطے میں جنگ سے ان کا نقصان نہیں ہو تا فائدہ ہو تا ہے ان کا اسلحہ فروخت ہو تا ہے تیل اور گیس پر ان کا قبضہ ہو تاہے بندر گاہوں پر ان کا تسلط قا ئم ہو جا تا ہے دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ اکیسویں صدی میں یورپ ، افریقہ ، امریکہ اور آسٹریلیا کے مقا بلے میں ایشیا میں غر بت اور جہا لت زیا دہ ہے ایشیا میں سب سے زیا دہ جہا لت مشرق وسطیٰ میں ہے جہاں حکمران بھی ان پڑھ اور عوام بھی ان پڑھ ہیں اس جہا لت سے عالمی طا قتیں فائدہ اٹھا تی ہیں تیسری وجہ یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ کے حکمران عیاش ہیں ان کی عیا شی کا سارا سا مان یو رپ اور امریکہ میں دستیاب ہے اس بناء پر وہ یو رپ اور امریکہ کو مشرقی مما لک پر ہمیشہ تر جیح دیتے ہیں مسلما ن حکمرانوں کے مقا بلے میں عیسائی اور یہودی حکمرانوں کو اپنا قریبی دوست سمجھتے ہیں اور آسانی سے ان کے فریب میں آجا تے ہیں 2015ء اور2018ء کے در میان 4سا لوں میں مشرق وسطیٰ کے اندر جنگ کی جو بساط بچھائی گئی ہے وہ 1858ء سے 1876ء تک تر کستان کی 5ریا ستوں میں زارِ روس کی طرف سے بچھائی گئی بساط سے مشا بہت رکھتی ہے زار روس نے پر نس گورچا کوف کے فلسفہ جنگ کو کام میں لاتے ہوئے مسلما ن باد شاہوں کو ایک دوسرے کے خلا ف جنگ پر اما دہ کیا فلسفہ یہ تھا کہ تم پڑو سیوں میں عدم تحفظ کا گہرا سا احساس پید ا کرووہ چیخ اٹھینگے اور تمہیں مدد کے لئے پکار رینگے تم مدد گار اور مصا لحت کار بن کر جا ؤ اور ایک ایک کر کے سب کو محکوم بنا ؤ اس احساس کو مزید گہرا کرو کہ تمہا ری فو جیں نکل گئیں تو پڑوسی ملک حملہ کر ے گا اس کھیل کے نتیجے میں 8سا لوں کے اندر 5مسلمان ریا ستوں پر زار روس کا قبضہ ہو ا اس طرح مشرق وسطیٰ میں شام اور سعو دی عرب کی جنگ کا یہ ساتواں سال ہے یمن اور سعودی عرب کی جنگ کا یہ تیسرا سال ہے دو سال ہوئے قطر اور سعودی عرب کے در میاں دشمنی کا بیچ بو یا گیا ہے اگلے دو سا لوں میں قطر کے خلا ف سعو دی عرب بڑے پیما نے پر فوج کشی کرے گا مشرق وسطیٰ کا سب سے گرم اور سب سے زیا دہ مشہور تنا زعہ سعودی عرب اور ایران کا تنا زعہ ہے اس تنا زعے کی واحد وجہ یہ ہے کہ شام ، عراق ، یمن ، اور لیبیا کی طرح ایران بھی فلسطینیوں کا حا می ہے اسرائیل کا مخا لف ہے اور یہی بات سعو دی عرب کے ساتھ ایران کی دشمنی کا سبب بن چکی ہے اسرائیل کہتا ہے مجھے ایران سے خطرہ ہے اور یہ خطرہ بہت سنگین ہے عالمی سطح کے ما ہرین معا شیات اور ما ہرین دفا عی امور کا خیال ہے کہ اگلے 10سالوں میں مشرق وسطیٰ کے مما لک کو اسلحہ فروخت کر کے یو رپ اور امریکہ کی کمپنیاں 3کھر ب ڈالر منا فع کمائینگی مشرق وسطی کے اندر تیل اور گیس کے جتنے ذخا ئر ہیں سب پر دشمنوں کا قبضہ ہو گا عرب مما لک کی آ بادی کا 65فیصد ان جنگوں کی وجہ سے نقل مکا نی کرے گا بقیہ 35فیصد زخمی اور معذور ہو کر بھیک مانگنے پر مجبور ہونگے کیونکہ یہ خطہ نیا محا ذِ جنگ بننے والا ہے اس جنگ کا فا تح وہ ملک ہو گا جو سب سے زیا دہ اسلحہ فروخت کرے گا اور تیل یا گیس کے سب سے زیا دہ ذخا ئر پر قبضہ کرے گا وہ کون ہو گا سب جانتے ہیں بقول شا عر ؂
پتا پتا ،بوٹابوٹا حال ہمارا جا نے ہے
جانے نہ جا نے گل ہی نہ جانے باغ تو سا را جانے ہے

Print Friendly, PDF & Email