80

برطانیہ کے والدین۔۔۔تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

ہم شرمندگی اور بے بسی کے دریا میں غرق تھے کہ اچانک میزبان دروازہ کھو ل کر اندر آگیا اور آتے ہی کہا بیٹا پولیس کو فون کر کے فوری بلا ؤ وہ پاگل سائیکو بو ڑھی میوزک بند کر نے کو بلکل بھی تیا ر نہیں ہے میزبان کا چہرہ غصے کی آگ سے تپ رہا تھا ۔ وہ بار بار کہہ رہا تھا کہ اِس گو ری بو ڑھی نے ہماری زندگی جہنم بنا رکھی ہے ہم کئی بار پو لیس کو رپورٹ بھی کر اچکے ہیں کئی با ر ہما ری لڑائی بھی ہو چکی ہے ہم کئی دفعہ اِس کی منتیں بھی کر چکے ہیں سو ری بھی کر چکے ہیں لیکن یہ کسی بھی طرح با ز نہیں آتی اِس کا جب جس وقت دل کر تا ہے یہ باآواز میو زک لگا لیتی ہے اور خود اچھل کو د بھی کر تی ہے جسے یہ ڈانس کا نام دیتی ہے یہ کئی بار پو لیس سے وعدہ کر چکی ہے کہ آئندہ ایسی حرکت نہیں کر ے گی لیکن جب کبھی بھی اِس کو ڈپریشن یا تنہا ئی کا دورہ پڑتا ہے یہ عجیب و غریب حر کتیں کر تی ہے ہم اِس کے بڑھا پے اور خدا خوفی کی وجہ سے بہت زیادہ در گزر کر نے کی کو شش کر تے ہیں لیکن اِس کو ہم پر بلکل بھی ترس نہیں آتا ۔ اِس کا جب دل کر تا ہے ہماری زندگی اجیرن کر دیتی ہے ۔ اِس نیم پاگل بوڑھی گوری نے ہمیں بہت زیا دہ تنگ کیا ہوا ہے ہم اِس کے پاگل پن کی وجہ سے کئی بار پولیس کو بلا چکے ہیں لیکن یہ وعدہ کر کے پھر مُکر جا تی ہے اِنہی با توں کے دوران پو لیس آگئی تو میں بھی میزبان کے ساتھ گو ری کے گھر میں چلا گیا وہاں میں نے دیکھا 70سال سے زیادہ پتلی اور کمزور بوڑھی گو ری جس کے چہرے پر کریلے کے خول جیسی جھریوں کا جال بچھا ہوا تھا ۔ اُس کی آنکھوں کے حلقے اُس کے پرا نے ڈپریشن کااظہارکر رہے تھے پو لیس نے آتے ہیں میوزک بند کیا اور بوڑھی گو ری سے بات چیت شروع کر دی پو لیس کی با ت چیت سے پتہ چل رہا تھا کہ وہ پہلے بھی کئی بار اِس گوری سے با ت کر چکی ہے گو ری بار بار ایک ہی فقرہ دہرائے جا رہی تھی I want Listener۔ مجھے کو ئی ایسا انسان چاہیے جو میری بات سنے وہ بار بار اپنی بیٹی کو یا دکر رہی تھی پھر گو ری نے رونا شروع کر دیا کہ سب مجھے چھوڑ گئے ہیں کو ئی میرے پا س نہیں ہے میں کس سے باتیں کر وں مجھے کو ئی ساتھی چاہیے جو میری با تیں سنے جو میرا درد سنے جو میری تنہا ئی کا ساتھی ہو ۔ پو لیس نے جب اولڈ ہا ؤس لے جا نے کی دھمکی دی تو گو ری ڈر گئی اب اُس نے پھر وعدہ کیا کہ آئندہ وہ باآواز میوزک نہیں سنے گی ۔ وہاں پرپولیس اور بعد میں میزبان کی با توں سے جو حقیقت سامنے آئی وہ یہ تھی کہ اِس گو ری کا میاں جوانی میں ہی اسے چھوڑ کر کسی اور کے پا س چلا گیا اِس کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی تھی بیٹا بھی جوان ہو تے ہی گھونسلا چھوڑ کر پرواز کر گیا رہ گئی بیٹی جس کے ساتھ اِس گو ری کی بہت زیا دہ انسیت تھی جب وہ بلو غت کو پہنچی تو اُس نے بھی راہِ فرار اختیار کی بچوں کے جا نے کے بعد گو ری نے کُتا پا ل لیا جس سے اِس نے اپنی تنہا ئی کا علاج کر نا چاہا لیکن پچھلے سال کتا بھی اپنی عمر پو ری کر گیا تو اُس دن سے یہ شدید تنہا ئی اور ڈپریشن کاشکا ر ہے ۔تنہا ئی کا زہر ہڈیوں تک اُتر گیا ہے اب تنہا ئی کے زہر نے ڈپریشن کی شکل اختیار کر لی ہے ڈپریشن اور تنہا ئی جب حد سے بڑھ جا تے ہیں تو یہ نیم پا گل ہو کر مختلف سہا رے ڈھونڈ تی ہے اور پھر میوزک اور دوسری اوٹ پٹا نگ حرکتیں کر تی ہے ۔ اِس میوزک اور شور میں یہ اپنی بیٹی اور بیٹے کو یا د کر تی ہے انہیں واپس بلا تی ہے لیکن یہاں پر بچوں اور والدین کے درمیان وہ رشتہ بنتا ہی نہیں جس کے سہا رے اولاد بڑھا پے میں والدین کو سنبھالتی ہے ۔ بو ڑھے گو رے پھر یا تو اولڈ ہا ؤسسز میں زندگی کے دن پو رے کر نے پر مجبور ہو جا تے ہیں یا پھر خصوصی اجازت لے کر اِس طرح گھروں میں رہتے ہیں ۔ یہاں پر ڈاکٹر اور نرس آکر اِن کا معا ئنہ کر تے ہیں اِیسے بوڑھوں کو خصوصی آلے دئیے جا تے ہیں جن کے الا رم قریبی ہسپتال میں ہو تے ہیں تا کہ ضرورت پڑنے پر فوری طور پر ڈاکٹر یا نر س اِن کو دیکھ سکے ۔ تکلیف دہ با ت یہ ہو تی ہے کہ یہ بو ڑھے دن رات ڈاکٹروں کی نگرانی میں ہو تے ہیں اِن کو روزمرہ ضروریات کے لیے گو رنمنٹ کی طرف سے الا ؤنس دئیے جا تے ہیں اِن کی ضرورت کا ریا ست پو ری طرح خیال کر تی ہے لیکن یہ پھر بھی اِ ن کے دان رات نہیں گزرتے اِن میں سے اکثر تنہا ئی اور بڑھا پے سے تنگ آکر خو د کشی کی کو شش کر تے ہیں ۔ یہاں کے والدین اور بچوں میں اتنا زیا دہ فاصلہ پیدا ہو چکا ہے کہ ایک ہی شہر میں رہنے کے با وجود یہ کئی کئی سال ایک دوسرے سے نہیں ملتے ۔ یہاں والدین کا اپنے بچوں سے صرف ٹیلی فون اور کار ڈ کا ہی رشتہ یا رابطہ ہو تا ہے یہاں کے بچے بہت مشینی ہو گئے ہیں یہ اگلے پا نچ یا دس سال کے اکٹھے پیسے یکمشت کسی کو رئیر سروس کو جمع کروا دیتے ہیں اُس کورئیر سروس کا بس یہ کام ہو تا ہے کہ یہ خا ص مو قع یا دن پر بچوں کی طرف سے کا رڈ یا پھول والدین کو پہنچا دیتے ہیں ۔ یعنی کو رئیر سروس کو پیسے دینے کے بعد بچے خاص دن کا بھی خیال نہیں کر تے ۔ اِیسے بو ڑھے والدین یا تو میوزک سنتے ہیں یا پھر با لکونیوں میں بیٹھ کر آنے جا نے والوں کو دیکھتے ہیں آنے جانے والوں سے مسکراہٹوں کا یا ایک آدھ فقرے کا تبا دلہ ہی ان کی زندگی اور بیرونی دنیا سے رابطے کا ذریعہ رہ جا تا ہے اگر کبھی بھو ل کر کسی ادارے یا کمپنی یا رانگ فون آجا ئے یہ جھپٹ کر فون اٹھا تے ہیں اور لمبی با تیں کر نا چاہتے ہیں یا بازار سے بو لنے والے کھلونے لے آتے ہیں ان کو چلا کر ان سے با تیں کر تے ہیں ۔ اپنی تنہا ئی کو دور کر نے کی کو شش کر تے ہیں گو ری بو ڑھی ما ں کا المیہ اندر تک اُدھیڑ گیا میں پریشان تھا کہ نو جوان نسل اپنے والدین کو کیوں چھوڑ کر بھا گ جا تی ہے اور پھر ایک دن اللہ تعالی نے میرا مسئلہ بھی حل کر دیا لندن میں کلاسیکل میوزک کی سہا نی شا م مجھے ایک 40سالہ گو ری ملی جس کو ریکی اور پا مسٹری سے بہت شقف تھا ۔ جب گپ شپ سٹارٹ ہو ئی تو میں نے اُس سے بر طانیہ کی اس تلخ حقیقت کے با رے میں پو چھا تو اُس نے سگریٹ کا لمبا کش لگا یا اور قہقہ لگا کر بو لی سر یہاں پر والدین اور اولاد کا رشتہ استوار ہی نہیں ہوا ۔ یہاں جب ہما رے والدین جوا ن ہو تے ہیں تو وہ اپنی جوا نی کے نشے میں اِس طرح دُھت ہو تے ہیں کہ انہیں اپنی اولاد کا پتہ ہی نہیں ہو تا یہاں جب بچہ ہو ش سنبھالتا ہے تو ما ں کئی خا وند بدل چکی ہو تی ہے بہت سارے بچے تو اب بغیرشادی کے ہو تے ہیں یہاں پر والدین ویک اینڈ پر شراب خا نوں اور کلبوں میں وقت گزارتے ہیں یہاں والدین سے ہا تھ ملانے کے لیے مہینوں انتظار کر نا پڑتا ہے اکثر والدین سے گفتگو کر نے کے لیے سیکریٹری سے اجا زت لینا پڑتی ہے ۔ یہاں پر بچپن اور لڑکپن والدین کے ہو تے ہو ئے بھی یتیموں کی طرح گزرتا ہے ۔ والدین جب جوانی سے ادھیڑ عمری میں داخل ہو تے ہیں تو ان کے جسموں میں ابھی زندگی کی تھوڑ ی بہت حرارت با قی ہو تی ہے وہ اپنی اِسی حرارت اورلذت میں مدہوش ہو تے ہیں جب بچے پرندوں کی طرح پرواز کر جا تے ہیں اور والدین کو پتہ بھی نہیں چلتا کہ بچے گھونسلا چھوڑ گئے ہیں ۔ نہ ہما رے والدین نے ہمیں روکنے کی کو شش کی اور نہ ہی ہم نے رکنے کی کو شش کی ۔ بچپن میں ہمیں اِن کی بہت ضرورت تھی انہوں نے خیال نہیں کیا اور آج جب انہیں ہما ری ضرورت ہے تو ہم بھی اُسی تہذیب کلچر اور زندگی میں غرق ہیں جس میں کل ہما رے والدین تھے ۔ جس طرح کل وہ ہمیں چیک اور گفٹ بھیجا کر تے تھے اِسی طرح آج ہم اُن کو چیک کا رڈ اور گفٹ بھیج دیتے ہیں ہما رے درمیان اولاد والدین کا رشتہ یہی ہے جو کل وہ نبھا رہے تھے اور آج ہم نبھا رہے ہیں اور پھر میں پاکستان آگیا اور آتے ہیں ماں کے دربار میں پیش ہو گیا میری ماں کے چہرے پر محبت ، معصومیت اور ما متا کے پھو ل کھلے ہو ئے تھے جن کی مہک سے میری روح وجد میں آکر رقص کر نے لگی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں