تازہ ترین
تحریک انصاف کی حکو مت کے دیگر دعوں کی طرح یوٹیلٹی سٹورز میں رمضان پیکیج کا اعلان بھی کھوکھلا ثابت


ڈپٹی کمشنر کی طرف سے تجار برادری کے ساتھ میٹنگ میں بھی وہ حاضر رہے ۔ جس میں تاجروں نے اپنی مجبوریوں سے خود ڈی سی چترال کو آگاہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ جب حکومت عوام کو سبسڈی نہیں دے پارہی ۔ تو ایک تاجر کیلئے یہ کیسے ممکن ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ اشیاء خوردونوش کے سلسلے میں ڈی سی آفس میں دو مرتبہ منعقدہ میٹنگ میں ریٹس کا فیصلہ نہیں ہو پایا تھا ۔ پھر بھی ڈی سی چترال نے خود سستا بازار قائم کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا ۔ اور گذشتہ روز جس سستا بازار کا افتتاح کیا گیا ہے ۔ اُس میں سبزیاں شاید کچھ مناسب ریٹ پر لوگوں کو مل سکتی ہیں ۔ لیکن دیگر اشیاء خوردونوش کا سستے داموں ملنا مشکل ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ قصابوں نے نئے ریٹ کا مطالبہ کیا ہے ۔ اور بعض قصابوں نے احتجاجا اپنی دکانیں بند کر دی ہیں ۔ اور منگل کے روز جو دکان کھلے تھے ۔ اُس میں بڑا گوشت 400روپے فروخت کیا جارہا تھا ۔ جہاں انہوں نے مداخلت کرکے قصابوں کو 370روپے فی کلوگرام بڑا گوشت فروخت کرنے پر مجبور کیا ۔ تاہم انتظامیہ کو مسئلہ حل کرنے کیلئے کچھ نہ کچھ کرنا پڑے گا ۔