عید کی حقیقی خوشیاں اور ہماری ذمہ داریاں۔۔بشیر حسین آزاد

عید الفطر صرف نئے کپڑے پہننے اور لذیذ پکوان کھانے کا نام نہیں، بلکہ یہ تقویٰ کے اس سبق کو عملی جامہ پہنانے کا دن ہے جو ہم نے رمضان کے پورے مہینے میں سیکھا ہوتا ہے۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ خوشی تبھی مکمل ہوتی ہے جب اس میں معاشرے کے محروم طبقات کو بھی شامل کیا جائے۔
آج کل عید کے نام پر لاکھوں کی خریداری اور بیرونی ممالک کے شاپنگ ٹرپ ایک عام رواج بن چکے ہیں۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے فضول خرچی کرنے والوں کے بارے میں سخت تنبیہ فرمائی ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:
”اور فضول خرچی نہ کرو، یقیناً فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں۔” (سورہ بنی اسرائیل: 26-27)
اپنی حیثیت سے بڑھ کر صرف نام و نمود کے لیے خرچ کرنا نہ صرف دولت کا ضیاع ہے بلکہ یہ ان غریبوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے جو دو وقت کی روٹی کو ترستے ہیں۔
معاشرے میں ایک طبقہ وہ ہے جو ہاتھ نہیں پھیلاتا، جنہیں قرآن نے "سفید پوش” (عفیف) قرار دیا ہے۔ ان کے گھروں میں سحری و افطاری میں صرف چائے اور سوکھی روٹی ہو سکتی ہے، لیکن ان کی غیرت انہیں سوال کرنے سے روکتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
”مسکین وہ نہیں جو ایک دو لقموں کے لیے در در پھرتا ہے، بلکہ مسکین وہ ہے جس کے پاس اتنی استطاعت نہ ہو کہ وہ اپنی ضرورت پوری کر سکے اور نہ ہی اس کی حالت ایسی ہو کہ لوگ اسے صدقہ دیں (یعنی وہ سوال نہیں کرتا)۔” (صحیح بخاری)
ہمارا فرض ہے کہ اپنے بچوں کے لیے مہنگے برانڈز خریدتے وقت ان معصوم بچوں کا بھی سوچیں جو نئی پوشاک تو دور، شاید پیٹ بھر کر کھانا بھی نہ کھا سکیں۔
ہمیں پیشہ ور بھکاریوں اور حقیقی ضرورت مندوں میں فرق کرنا چاہیے۔ صدقہ و خیرات اور فطرانہ دیتے وقت اپنے قریبی رشتہ داروں، ہمسایوں اور ان سفید پوشوں کو ترجیح دینی چاہیے جو ضرورت مند تو ہیں مگر مانگتے نہیں۔ زکوٰۃ اور فطرانہ کا مقصد ہی یہی ہے کہ عید کے دن کوئی بھوکا نہ رہے اور سب خوشیوں میں شریک ہوں۔
اسلام ہمیں میانہ روی کا درس دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ رحمان کے بندوں کی صفت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:
”اور وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ بے جا اڑاتے ہیں اور نہ بخل کرتے ہیں، بلکہ ان کا خرچ ان دونوں انتہاؤں کے درمیان اعتدال پر ہوتا ہے۔” (سورہ الفرقان: 67)
عید کی اصل خوشی دبئی کی شاپنگ یا ہزاروں کے جوتوں میں نہیں، بلکہ کسی یتیم کے سر پر ہاتھ رکھنے اور کسی مجبور سفید پوش کے گھر عید کا سامان پہنچانے میں ہے۔ ہمیں چاہیے کہ دکھاوے کی اس دوڑ سے نکل کر سادگی اختیار کریں اور فطرانہ کے علاوہ بھی دل کھول کر ان لوگوں کی مدد کریں جو مہنگائی کے اس طوفان میں پس رہے ہیں۔
اللہ پاک ہمیں میانہ روی، بردباری اور اخلاص کے ساتھ غریبوں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔


