صوبائی حکومت عوام کو صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی، طبی تعلیم کے فروغ اور نظام کی بہتری کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے خیبر کالج آف ڈینٹسٹری کے زیرِ انتظام منعقدہ تین روزہ دوسری بین الاقوامی کانفرنس 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صحت اور تعلیم کے شعبوں کو صوبائی حکومت کی اولین ترجیح قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ دونوں شعبے براہ راست عوام سے منسلک ہیں اور خصوصی توجہ کے متقاضی ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر صحت عامہ کی بہتری کے حوالے سے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے خیبر کالج آف ڈینٹسٹری میں بیسک سائنسز کے لیے علیحدہ بلاک اور ہاو¿س آفیسرز کے لیے ہاسٹل کے قیام کا اعلان کیا۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ حکومت طبی تعلیم کے معیار کو عالمی تقاضوں کے مطابق بہتر بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ صحت اور تعلیم ایسے بنیادی شعبے ہیں جو براہ راست عوام کی زندگیوں سے جڑے ہوئے ہیں، اسی لیے عمران خان کے وژن کے مطابق ان دونوں شعبوں میں بھرپور سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبے کے صحت کے اداروں کو جدید ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے کثیر الجہتی اصلاحات جاری ہیں، جن کے مثبت اثرات جلد سامنے آئیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں کی بحالی اور بہتری کے لیے ریویمپنگ کا عمل شروع ہو چکا ہے جبکہ اگلے مرحلے میں بنیادی مراکز صحت اور دیہی مراکز صحت کی ریویمپنگ بھی کی جائے گی۔ ان اقدامات کے نتیجے میں پشاور کے بڑے ہسپتالوں پر مریضوں کا دباو¿ کم ہوگا اور ریفرل کیسز میں نمایاں کمی آئے گی۔ وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ میرٹ اور شفافیت کو یقینی بناتے ہوئے 2400 ڈاکٹرز کی بھرتی کا عمل جاری ہے جن میں 250 ڈینٹل سرجن بھی شامل ہیں، جبکہ 27 ڈینٹل اسپیشلسٹ پہلے ہی بھرتی کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت صحت کے شعبے میں انسانی وسائل کی کمی کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کرے گی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ہاوس آفیسرز کے وظائف میں بھی اضافہ کیا جائے گا تاکہ نوجوان ڈاکٹرز کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔ کچ ہسپتال منصوبے کے حوالے سے وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کی عدم سنجیدگی اور امتیازی رویے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث منصوبہ تاخیر کا شکار ہوا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وفاق کو اس حوالے سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور اگر فنڈز فراہم نہ کیے گئے تو صوبائی حکومت برج فنانسنگ کے ذریعے منصوبے کو مکمل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے گزشتہ تیرہ برسوں کے دوران صحت کے بجٹ کو تیس ارب روپے سے بڑھا کر 275 ارب روپے تک پہنچایا ہے جو اس شعبے میں حکومت کی ترجیحات کا واضح ثبوت ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بند کمروں میں ہونے والی پالیسی سازی کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، تاہم صوبائی حکومت عام آدمی کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور اس سلسلے میں صحت اور تعلیم کے شعبوں سے وابستہ افراد کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ اپنے خطاب کے دوران وزیر اعلیٰ نے عمران خان کی صحت سے متعلق تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ناحق قید ہیں اور مسلط شدہ حکمرانوں کی غفلت اور ناانصافی کے باعث ان کی بینائی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو ان کے ذاتی معالجین کی نگرانی میں بہترین ہسپتال میں علاج کی سہولت فراہم کی جائے، جو ان کا بنیادی حق ہے، مگر افسوس کہ موجودہ حکمران اس بنیادی حق کے معاملے میں بھی غیر سنجیدہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبائی حکومت عوام کو صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی، طبی تعلیم کے فروغ اور نظام کی بہتری کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی اور کسی بھی رکاوٹ کو عوامی مفاد کے راستے میں حائل نہیں ہونے دیا جائے گا۔بعد ازاں وزیر اعلیٰ نے، اس موقع پر منعقدہ ڈینٹل نمائش کا دورہ بھی کیا جہاں ان کو نمائش کے لیے رکھے گئے طبی آلات، مشینری، ادویات اور دیگر مصنوعات بارے بریفنگ دی گئی۔ صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمن اور دیگر متعلقہ حکام بھی وزیر اعلیٰ کے ہمراہ تھے۔




