مضامین

عید کا حقیقی مفہوم: غفلت، ذمہ داری اور ہماری اصلاح۔۔بشیر حسین آزاد

​رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ، جو تربیتِ نفس اور تقویٰ کے حصول کا موسمِ بہار تھا، اب رخصت ہو چکا ہے۔ عید الفطر کا دن محض نئے کپڑے پہننے، دعوتیں اڑانے یا ظاہری خوشیوں کا نام نہیں، بلکہ یہ اس بات کا امتحان ہے کہ ہم نے رمضان میں جو روحانی سرمایہ جمع کیا تھا، اسے کیسے محفوظ رکھتے ہیں۔
​رمضان کا سبق اور شیطان کی رہائی کا خدشہ
​روایات کے مطابق رمضان میں شیاطین کو مقید کر دیا جاتا ہے، جس کی بدولت انسان کے لیے نیکی کرنا آسان اور گناہوں سے بچنا ممکن ہو جاتا ہے۔ اب جبکہ ماہِ صیام ختم ہو چکا ہے، غفلت کا ایک نیا دور شروع ہوتا ہے۔ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ عید کے آتے ہی نوجوان نسل کا ایک بڑا طبقہ ان کاموں میں ملوث ہو جاتا ہے جو ہماری اخلاقی اور دینی اقدار کے منافی ہیں۔ شراب و کباب کی محفلیں، بے ہودہ گانے، اور لہو و لعب کے تماشے اس مبارک دن کی تقدیس کو پامال کر دیتے ہیں۔ یہ لمحہ فکریہ ہے کہ جس مہینے ہم نے ثواب کمایا، کیا وہ چند گھنٹوں کی عیاشی میں ضائع ہو جائے گا؟
​والدین کی ذمہ داری اور غفلت کا پہلو
​عید کے موقع پر معاشرتی بگاڑ کی ایک بڑی وجہ والدین کی جانب سے بچوں پر توجہ میں کمی ہے۔ بہت سے والدین عید کے جوش و خروش میں اپنے بچوں کو "فری ہینڈ” دے دیتے ہیں۔ اس بات کی فکر نہیں کی جاتی کہ اولاد کہاں جا رہی ہے، کن دوستوں میں اٹھ بیٹھ رہی ہے اور اپنا وقت کیسے گزار رہی ہے۔
​یاد رکھیں! اولاد اللہ کی امانت ہے۔ عید کی خوشیوں کے نام پر انہیں برائی کی کھلی چھٹی دینا سراسر غفلت ہے۔ والدین کا فرض ہے کہ:
​بچوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھیں۔
​انہیں برے دوستوں اور منشیات جیسی لعنتوں سے بچائیں۔
​انہیں بتائیں کہ عید کا مطلب شریعت کی حدود میں رہ کر خوشی منانا ہے۔
​احتسابِ نفس اور عقیدہِ آخرت
​اگر ہمارا ایمان یومِ قیامت اور اللہ کی پکڑ پر پختہ ہے، تو ہمیں اپنے ہر عمل کا جوابدہ ہونا یاد رکھنا چاہیے۔ دنیاوی عارضی لذتیں انسان کو دائمی عذاب کی طرف لے جا سکتی ہیں۔ غفلت میں ڈوبا ہوا معاشرہ کبھی بھی فلاح نہیں پا سکتا۔ قرآن اور سنت کا دامن تھامنا ہی اس دورِ فتن میں کامیابی کی واحد ضمانت ہے۔
​​عید کا دن دراصل شکر گزاری کا دن ہے۔ اس دن ہمیں غریبوں اور مسکینوں کا خیال رکھنا چاہیے، اپنے رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرنی چاہیے اور معاشرے میں اخوت و بھائی چارے کو فروغ دینا چاہیے۔ گناہوں سے دوری اور تقویٰ پر استقامت ہی عید کی اصل کامیابی ہے۔
​اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ماہِ رمضان میں حاصل کی گئی روحانی طاقت کو باقی رکھنے کی توفیق عطا فرمائے، ہماری اولادوں کی حفاظت فرمائے اور ہمیں صراطِ مستقیم پر چلتے ہوئے دنیا و آخرت میں سرخرو کرے۔ آمین۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button