تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال بونی کی مجوزہ نجکاری کے خلاف تورکھو ورکپ میں چیئرمین ویلج کونسل شاگرام احمد سید بیگ کی صدارت میں ایک کارنر میٹنگ منعقد

تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال بونی کی مجوزہ نجکاری کو روکنے اور عوامی رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے آج تورکھو ورکپ میں ایک اہم کارنر میٹنگ منعقد ہوئی۔ اس میٹنگ کی صدارت چیئرمین ویلج کونسل شاگرام احمد سید بیگ نے کی، جبکہ بونی سے پرویز لال، افسر حکیم اور دیگر افراد نے خصوصی طور پر شرکت کی۔میٹنگ میں تورکھو کے مختلف علاقوں سے چیدہ چیدہ افراد نے شرکت کی ، جن میں تورکھو تریچ روڈ فورم (ٹی ٹی آر ایف) کے سرگرم اراکین اور تورکھو ایکشن کمیٹی کے معززین شامل تھے۔ میٹنگ کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ ورکپ کے معروف سماجی کارکن اور ٹی ٹی آر ایف کے فعال رکن عزیز الرحمٰن نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔ممتاز سوشل ورکر معروف سیاسی و سماجی شخصیت پرویز لال نے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال بونی کی مجوزہ نجکاری اور اس کے ممکنہ منفی اثرات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو لاعلم رکھ کر اپر چترال کے واحد ہسپتال کو نجی تحویل میں دینے کی تیاری عوام سے صحت کی بنیادی سہولت چھیننے کے مترادف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آل پارٹیز اپر چترال اس فیصلے کو مسترد کر چکی ہے، اور تمام سیاسی جماعتیں اس کے خلاف مزاحمتی تحریک شروع کر رہی ہیں۔ لہٰذا تورکھو کے عوام سے اپیل ہے کہ وہ اپنی آراء سے آگاہ کریں اور اس جدوجہد کا حصہ بنیں۔ دیگر مقررین، جن میں چہار شنبہ خان شاگرام، احمد اللہ بیگ شاگرام، مغل ولی شاہ واشیچ، حسین زرین رائین، ریٹائرڈ صوبیدار جلال الدین ورکپ اور افسر علیم بونی شامل تھے، نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔صدرِ میٹنگ چیئرمین ویلج کونسل شاگرام احمد سید بیگ اور دیگر مقررین نے اپنے خطاب میں تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال بونی کی مجوزہ نجکاری کو صوبائی حکومت کی عوام دشمن پالیسی قرار دیتے ہوئے اسے یکسر مسترد کر دیا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ کسی بھی مزاحمتی احتجاجی تحریک کو بھرپور انداز میں کامیاب بنایا جائے گا۔آخر میں ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے صوبائی حکومت، ڈپٹی اسپیکر، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اپر چترال، ڈپٹی کمشنر اپر چترال اور متعلقہ اداروں سے پُرزور مطالبہ کیا گیا کہ بونی ہسپتال کو فوری طور پر اپگریڈ کرکے کیٹیگری سی کا درجہ دیا جائے، ضروری عملہ تعینات کیا جائے، نجکاری کی پالیسی کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے اور عوام کو احتجاج پر مجبور نہ کیا جائے



