ڈیجیٹل دور میں بڑھتی ہوئی بینک فراڈ کی وارداتیں: ایک لمحۂ فکریہ,…….بشیر حسین آزاد

ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے جہاں انسانی زندگی کو آسان بنایا ہے، وہیں اس کے منفی استعمال نے نئے نوعیت کے جرائم کو بھی جنم دیا ہے۔ خصوصاً بینکنگ کے شعبے میں فراڈ کی بڑھتی ہوئی وارداتیں ایک سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہیں، جس نے عام صارفین کو شدید ذہنی اور مالی دباؤ سے دوچار کر دیا ہے۔
چند سال پہلے تک نوسرباز صرف فون کالز کے ذریعے خود کو بینک اہلکار یا کسی سیکیورٹی ادارے کا نمائندہ ظاہر کر کے شہریوں سے ان کے اے ٹی ایم کارڈ نمبر، پن کوڈ اور دیگر حساس معلومات حاصل کرتے تھے۔ تاہم جیسے جیسے عوام میں آگاہی بڑھی، ان طریقوں کی کامیابی میں کمی آنے لگی۔ مگر جرائم پیشہ عناصر نے بھی وقت کے ساتھ اپنے ہتھکنڈے بدل لیے۔
اب ایک نیا اور زیادہ خطرناک طریقہ سامنے آیا ہے، جس میں فراڈی افراد واٹس ایپ کے ذریعے ویڈیو کال کرتے ہیں اور خود کو پولیس یا کسی حساس ادارے کا افسر ظاہر کرتے ہیں۔ کال کے دوران وہ انتہائی سنجیدہ اور خوفناک لہجہ اختیار کرتے ہوئے صارف کو یہ باور کراتے ہیں کہ اس کا بینک کارڈ کسی غیر قانونی سرگرمی میں استعمال ہوا ہے اور اس کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے۔ اس دباؤ کے تحت متاثرہ شخص سے اس کے بینک کارڈ کی مکمل تفصیلات طلب کی جاتی ہیں۔
یہ ایک نفسیاتی چال ہوتی ہے، جس میں خوف اور جلد بازی کا عنصر شامل کر کے شہری کو سوچنے کا موقع نہیں دیا جاتا۔ جیسے ہی صارف اپنی معلومات فراہم کرتا ہے، اس کا بینک اکاؤنٹ خالی کر دیا جاتا ہے۔
اس تمام صورتحال کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ان فراڈی گروہوں کے پاس شہریوں کا ذاتی ڈیٹا کہاں سے آ رہا ہے۔ شناختی کارڈ نمبر، موبائل نمبر اور دیگر معلومات کی دستیابی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کہیں نہ کہیں ڈیٹا سیکیورٹی کے نظام میں خامیاں موجود ہیں۔ یہ سوال نہ صرف متعلقہ اداروں بلکہ معاشرے کے ہر فرد کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، بینکنگ ادارے اور قانون نافذ کرنے والے محکمے اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں اور مربوط حکمت عملی کے تحت ان جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی کریں۔ ساتھ ہی عوام میں شعور بیدار کرنے کے لیے مؤثر آگاہی مہم بھی چلائی جائے۔
دوسری جانب، شہریوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی معلومات کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ کسی بھی نامعلوم کال یا پیغام پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں، چاہے سامنے والا خود کو کسی بھی بڑے ادارے کا نمائندہ ظاہر کرے۔ یاد رکھیں، احتیاط ہی سب سے بہترین دفاع ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ٹیکنالوجی جتنی تیزی سے ترقی کر رہی ہے، اسی رفتار سے جرائم کے انداز بھی بدل رہے ہیں۔ اگر ہم نے بروقت احتیاط اور مؤثر اقدامات نہ کیے تو یہ مسئلہ مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔ لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سب مل کر اس خطرے کا مقابلہ کریں اور ایک محفوظ ڈیجیٹل معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں۔
