ڈپٹی اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی ثریا بی بی کی بھرپور کاوشوں کے نتیجے میں آر ایچ سی ہسپتال شاگرام، مستوج اور گرم چشمہ کو آغا خان ہیلتھ سروس کوحوالہ کردیا

چترال(نامہ نگار)ڈپٹی اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی ثریا بی بی کی بھرپور کاوشوں کے نتیجے میں آر ایچ سی ہسپتال شاگرام، مستوج اور گرم چشمہ کو آغا خان ہیلتھ سروس کے حوالے کرنے کا عمل آج باقاعدہ کنٹریکٹ سائن ہونے کے ساتھ مکمل ہوگیا۔خوش آئند بات یہ ہے کہ نئے کنٹریکٹ کے مطابق اب ہسپتال میں ڈاکٹر کی فیس، جو پہلے وصول کی جاتی تھی، اب مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہے اور مریضوں کو ڈاکٹر کا معائنہ صرف او پی ڈی فیس (10 روپے ) پر فراہم کیا جائے گا۔اسی طرح وہ ادویات جو پہلے ہسپتال کی فارمیسی سے فروخت کی جاتی تھیں، اب مریضوں کو مفت (صحت کارڈ کی بنیاد پر) فراہم کی جائیں گی تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف مل سکے۔علاوہ ازیں، لیبارٹری ٹیسٹس کے چارجز بھی اب سرکاری ہسپتال کے مقررہ نرخوں کے مطابق ہی لیے جائیں گے اور اس کے علاوہ کسی قسم کی اضافی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔اس موقع پر منعقدہ تقریب میں ڈائریکٹر ہیلتھ فاؤنڈیشن خضر حیات اور ان کی ٹیم،آغاخان ہیلتھ سروس پاکستان کے ریجنل ہیڈخیبرپختونخوا ورپنجاب معراج الدین ،ڈی ایچ او اپر چترال ڈاکٹر فرمان علی اور ڈی ایچ او لوئر چترال ڈاکٹر شمیم بھی موجود تھے۔یہ اہم پیش رفت علاقہ عوام کے لیے ایک بڑی خوشخبری ہے، جس کے تحت ہسپتال میں جدید طبی سہولیات، معیاری علاج اور بہتر سروسز کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔یاد رہے کہ ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی نے اس منصوبے کے لیے مسلسل جدوجہد کی اور متعلقہ اداروں کے ساتھ قریبی رابطوں کے ذریعے اس اہم مسئلے کو حل کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔کنٹریکٹ سائن ہونے کے فوراً بعد ہسپتال میں عملی اقدامات کا آغاز کیا جائے گا تاکہ عوام کو بنیادی اور معیاری صحت کی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کی جا سکیں۔





