مضامین

اسلام آباد مذاکرات: کامیابی کی سمت ایک اہم پیش رفت، پاکستان کا ابھرتا عالمی کردار……….. تحریر: بشیر حسین آزاد

اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات کو بعض حلقوں کی جانب سے جس انداز میں تنقید اور طنز کا نشانہ بنایا جارہا ہے، وہ نہ صرف زمینی حقائق سے لاعلمی کی عکاسی کرتاہے بلکہ پاکستان کی مثبت سفارتی کوششوں کو بھی کم تر دکھانے کی ایک غیر سنجیدہ کوشش ہے۔ حقیقت اس کے برعکس ہے: یہ مذاکرات ایک بڑی سفارتی کامیابی کی بنیاد رکھ چکے ہیں، جس کے اثرات آنے والے وقت میں مزید واضح ہوں گے۔
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ بین الاقوامی سطح پر ایسے پیچیدہ اور دیرینہ تنازعات کا حل ایک یا دو نشستوں میں ممکن نہیں ہوتا۔ ایران جوہری معاہدہ 2015 بھی کئی برسوں کی مسلسل سفارتکاری، اعتماد سازی اور مرحلہ وار پیش رفت کا نتیجہ تھا۔ اسی تناظر میں اسلام آباد مذاکرات کو دیکھا جانا چاہیے—یہ اختتام نہیں بلکہ ایک طویل اور سنجیدہ عمل کا آغاز ہیں۔
بین الاقوامی اخبارات اور تجزیہ کاروں نے بھی اس پیش رفت کو مثبت قرار دیا ہے۔ متعدد عالمی میڈیا اداروں کے مطابق پاکستان نے ایک "خاموش مگر مؤثر ثالث” کا کردار ادا کیا، جس نے نہ صرف دونوں فریقین کو ایک میز پر بٹھایا بلکہ ایک ایسا ماحول بھی فراہم کیا جہاں سنجیدہ مکالمہ ممکن ہو سکا۔ یہ امر کسی معمولی کامیابی سے کم نہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ مسلسل کشیدگی کا شکار ہے۔
ان مذاکرات کی کامیابی کو اس زاویے سے بھی دیکھا جانا چاہیے کہ دونوں فریقین نے نہ صرف بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا بلکہ کشیدگی میں کمی اور اعتماد سازی کے اقدامات پر بھی آمادگی ظاہر کی۔ یہ پیش رفت اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ سفارتی دروازے کھل چکے ہیں، اور اب انہیں بند کرنا کسی کے مفاد میں نہیں ہوگا۔
جہاں تک آئندہ کے لائحہ عمل کا تعلق ہے، توقع کی جارہی ہے کہ تکنیکی سطح پر مذاکرات جاری رہیں گے، جن میں جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیاں، اور علاقائی سیکیورٹی جیسے حساس معاملات پر تفصیلی بات چیت ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ بیک چینل ڈپلومیسی بھی جاری رہے گی، جو ایسے معاملات میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
بدقسمتی سے، بعض حلقے بغیر کسی ٹھوس معلومات کے ان مذاکرات کو ناکامی قرار دے رہے ہیں یا پاکستان کے کردار پر طنز کررہے ہیں۔ ایسے عناصر کو یہ سمجھنا چاہیے کہ بین الاقوامی سیاست جذبات یا فوری نتائج کا کھیل نہیں بلکہ صبر، حکمت اور مستقل مزاجی کا تقاضا کرتی ہے۔ بلاوجہ تنقید نہ صرف قومی مفاد کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت امیج کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی میں حالیہ برسوں میں ایک واضح توازن اور بلوغت نظر آتی ہے۔ پاکستان نے خود کو ایک ذمہ دار اور امن پسند ریاست کے طور پر پیش کیا ہے، جو تنازعات کے حل کے لیے مکالمے اور سفارتکاری کو ترجیح دیتی ہے۔ اسلام آباد مذاکرات اسی پالیسی کا تسلسل ہیں، جنہوں نے دنیا میں پاکستان کے وقار کو مزید بلند کیا ہے۔
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ عالمی برادری اب پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھ رہی ہے جو نہ صرف اپنے مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ بین الاقوامی تنازعات میں بھی مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہ اعتماد برسوں کی محنت، قربانیوں اور سنجیدہ سفارتی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔
آخر میں، یہ کہنا بجا ہوگا کہ اسلام آباد مذاکرات کسی حتمی انجام کو نہیں پہنچے بلکہ یہ ایک مسلسل عمل کا حصہ ہیں، جس کے لیے وقت، صبر اور سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ ہمیں بطور قوم اس عمل کی حمایت کرنی چاہیے، مثبت سوچ اپنانی چاہیے اور بلاوجہ تنقید اور طنز سے اجتناب کرنا چاہیے۔
اگر یہی جذبہ برقرار رہا تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر امن اور استحکام کا ایک مضبوط ستون بن کر ابھرے گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button