بلدیاتی نظام؛ خیبر پختونخوا کا تجربہ/ تحریر: کمال عبدالجمیل

خیبر پختونخوا میں بلدیاتی نظام اپنی چوتھی مدت کے آخری مرحلے میں ہے، پہلے مرحلے کے نمائندگان کی مدت ختم ہو چکی ہے جبکہ دوسرے مرحلے کی مدت جون میں مکمل ہوگی اسکے ساتھ ہی ایک غیر موثر، بے اختیار بلدیاتی نظام کا خاتمہ ہوگا۔
چار بلدیاتی نظاموں، جن میں دو جنرل پرویز مشرف کی زیرِ سایہ اور دو پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے زیرِ نگیں رہے، کی تکمیل کے باوجود یہ سوال شدت کے ساتھ موجود ہے کہ آخر کیوں ہمارے ملک، بالخصوص خیبر پختونخوا میں، بلدیاتی نظام مضبوط نہیں ہو پا رہا۔
خیبر پختونخوا اور مجموعی طور پر پاکستان میں بلدیاتی نظام کی کمزوری کی دو بڑی وجوہات ہیں؛ سیاسی اور انتظامی۔ سیاسی نکتے کی طرف اگر نظر دوڑائیں تو دو نمایاں پہلو واضح ہیں: ایک سیاسی رقابت اور مزاحمت، اور دوسرا بلدیاتی عہدیداروں کی عدم دلچسپی اور بے اعتنائی۔
ایک خوشگوار حقیقت یہ ہے کہ بلدیاتی نظام کو جنرل ایوب، جنرل ضیاء اور جنرل پرویز مشرف کے آمرانہ ادوار میں سرپرستی اور اہمیت ملی، جبکہ جمہوری حکومتوں میں اس کے خلاف سیاسی مزاحمت بڑھ جاتی ہے۔
پاکستان کے آئین میں بلدیاتی حکومت کا ذکر آرٹیکل 140-A کے تحت کیا گیا ہے، جس کے مطابق صوبے ایک بلدیاتی نظام قائم کرنے اور منتخب نمائندگان کو سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات منتقل کرنے کے پابند ہیں۔ مگر افسوس کہ مضبوط بلدیاتی حکومتوں کے لیے سیاسی حمایت ہمیشہ کمزور رہی ہے۔
بہت سے قومی اور صوبائی رہنما مضبوط بلدیاتی حکومتوں کو اپنی طاقت اور اثر و رسوخ کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ بلدیاتی ادارے مستقبل کی قیادت کی تربیت گاہ ہوتے ہیں۔ دراصل بہت سے ایسے سیاسی نمائندگان، جو بعد میں پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی کے رکن بنے، حتیٰ کہ آج بھی اسمبلیوں میں موجود ہیں، انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز بلدیاتی نظام ہی سے کیا تھا۔
جنرل پرویز مشرف کے دور میں نیشنل ریکنسٹرکشن بیورو کے زیرِ نگرانی اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کرنے کے پروگرام کے تحت متعارف کردہ بلدیاتی نظام بڑی حد تک بااختیار تھا، جس میں ضلعی حکومتوں کو انتظامی، مالی اور ترقیاتی اختیارات حاصل تھے۔ یہ ایک بہترین سسٹم تھا۔ ضلع ناظم اپنے ضلع کا چیف ایگزیکٹو ہوتا تھا۔ گو کہ انتخابات غیر جماعتی ہوئے، تاہم سیاسی جماعتوں نے مختلف ناموں سے اس میں حصہ لیا۔ تاہم بعد ازاں وقتاً فوقتاً مختلف نوٹیفکیشنز کے ذریعے اس بلدیاتی نظام کو بھی بتدریج کمزور کر دیا گیا، جو بالآخر 18ویں ترمیم کے بعد مکمل طور پر ختم ہو گیا۔
دوسرے بلدیاتی دور کے دوران خیبر پختونخوا، خصوصاً مالاکنڈ ڈویژن میں خراب ہوتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال نے بھی بلدیاتی نظام کی کامیابی پر مزید سنجیدہ سوالات کو جنم دیا۔
قومی اور صوبائی سطح کے سیاسی رہنما بار بار شکایت کرتے تھے کہ ضلعی افسران ان کی بات نہیں سنتے۔ حتیٰ کہ تعیناتیوں اور تبادلوں پر بھی ان کا اختیار نہیں تھا۔ یہ شکایات میڈیا میں بھی رپورٹ ہوئیں اور صوبائی اسمبلی میں بھی زیرِ بحث آئیں۔
اے این پی کے دور میں بالآخر ڈسٹرکٹ کوآرڈنیشن آفیسرز (DCOs) کے عہدے ختم کر دیے گئے اور ڈپٹی کمشنر (DC) اور اسسٹنٹ کمشنر کا پرانا نظام بحال کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں بیوروکریسی کا مضبوط کنٹرول دوبارہ قائم ہو گیا۔ منتقل شدہ محکموں کے تمام ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ آفیسرز کے عہدے بھی ختم کر دیے گئے۔ کئی سال تک صوبہ منتخب بلدیاتی حکومتوں کے بغیر چلتا رہا، ساتھ ہی ایم پی ایز کو ضلع کی سطح پر اثر و رسوخ دینے کے لیے ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ ایڈوائزری کمیٹیاں بحال کی گئیں۔
جب پی ٹی آئی اقتدار میں آئی تو اس نے ایک”مثالی” بلدیاتی نظام کا وعدہ کیا۔ تاہم 2015 کے ماڈل کے تحت ضلعی حکومتیں ختم کر دی گئیں اور انہیں کمزور ڈسٹرکٹ کونسلز تک محدود کر دیا گیا۔ ضلعی ناظم ایک بااختیار حکومت کے سربراہ کے بجائے محض ایک کونسل کے سربراہ رہ گئے۔ اصل اختیارات ڈپٹی کمشنر کے پاس تھے۔ صوبائی سطح پر رورل ڈویلپمنٹ کا محکمہ مزید فعال ہوا اور ضلع سطح پر بھی آر ڈی ڈی قائم ہو کر اس کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کو بااختیار بنایا گیا، جبکہ ویلج کونسلز اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی براہِ راست نگرانی میں دے دی گئیں۔وسائل کی فراہمی بھی محدود کر دی گئی۔
کونسل کی قراردادوں کی کوئی لازمی حیثیت نہیں تھی اور منتخب ناظمین اور ڈپٹی کمشنرز کے درمیان تنازعات معمول بن گئے۔ حتیٰ کہ ضلع کے منظور شدہ سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) کی اسکیمیں بھی اکثر مہینوں تک التوا کا شکار رہتیں، جس سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ ضلع میں اصل فیصلہ ساز منتخب قیادت نہیں بلکہ ڈپٹی کمشنر ہے۔
یہ نظام وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے دور میں متعارف ہوا، جو خود ماضی میں نوشہرہ کے ضلعی ناظم رہ چکے تھے۔ اگرچہ پی ٹی آئی قیادت بارہا دعویٰ کرتی رہی کہ یہ ملک کا سب سے مؤثر بلدیاتی ماڈل ہے، لیکن اس کی کمزوریاں اس کی مدت کے اختتام تک واضح ہو گئیں۔ اس کے باوجود عمران خان اکثر دیگر صوبوں کو بھی یہی نظام اپنانے کا مشورہ دیتے رہے اور اسے قومی ماڈل کے طور پر پیش کرتے رہے۔
2015 کے ایکٹ کے تحت بلدیاتی نظام کی مدت مکمل ہونے کے بعد اصلاحات پر غور کیا گیا اور ایک نئے نظام کی ضرورت محسوس کی گئی۔
مدت کے اختتام پر کئی مشاورتی ورکشاپس اور موضوعاتی اجلاس منعقد ہوئے، جن میں اعلیٰ بیوروکریسی اور تکنیکی ماہرین نے بلدیاتی نمائندگان کو حقیقی اختیارات دینے کے حوالے سے اپنی دلیل اور موقف پیش کیا، اور مکمل اختیار دینے پر تحفظات ظاہر کیے کہ اس سے انتظامی کنٹرول کمزور ہو جائے گا۔ صوبائی کنٹرول کو مضبوط رکھنے پر ان کا زور صوبائی سیاسی قیادت کو بھی پسند آیا، جو پہلے ہی ضلعی سطح پر اختیارات بانٹنے کے لیے آمادہ نہیں تھی۔ کسی حد تک ان کے دلائل میں کچھ وزن بھی تھا، جن کا ذکر ذیل میں ہوگا۔
اس مرتبہ خدمات کی فراہمی، عوامی مسائل کے حل اور حقیقی اختیارات کی منتقلی پر توجہ دینے کے بجائے تکنیکی طور پر ایک پیچیدہ مگر سیاسی طور پر کمزور نظام تیار کیا گیا، جس کے پاس نہ اختیار تھا، نہ وسائل اور نہ ہی خودمختاری۔
سب سے نقصان دہ فیصلہ ضلعی کونسلوں کا مکمل خاتمہ تھا، حالانکہ ایک مؤثر بلدیاتی نظام کے لیے ضلع، تحصیل اور یونین کونسل پر مشتمل تین سطحی ڈھانچہ ضروری اور اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ ضلعی سطح ختم کر دینے سے تمام اختیارات عملی طور پر صوبائی سطح پر مرتکز ہو گئے، جنہیں ضلعی انتظامیہ اور محکموں کے ذریعے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس مرتبہ بھی بلدیاتی اداروں کو وسائل سے محروم رکھا گیا۔
یہ کمزور اور غیر مؤثر بلدیاتی نظام سیاستدانوں کے ہاتھوں صوبائی اسمبلی سے منظور ہوا، جس کے حوالے سے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ درحقیقت خیبر پختونخوا میں بلدیاتی حکومت کو سیاسی مفادات، بالخصوص تبادلوں، تعیناتیوں، ترقیاتی فنڈز اور پروٹوکول پر کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے کمزور کیا گیا۔
بیوروکریسی کو بھی اس انتظام سے فائدہ پہنچا۔ اعلیٰ سطح پر اقتدار میں بیٹھے لوگوں کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنا ان کے مفاد میں ہوتا ہے، اس لیے وہ بھی کمزور بلدیاتی نظام کو ترجیح دیتے ہیں۔
المیہ یہ ہے کہ بلدیاتی نظام اکثر بیوروکریٹس یا ان کے زیرِ اثر کام کرنے والے مشیروں کے ذریعے تیار کیے جاتے ہیں۔ ان سے ایک حقیقی معنوں میں بااختیار نظام تیار کرنے کی توقع رکھنا خود فریبی کے مترادف ہے۔
یہ بات بھی تسلیم کرنا ضروری ہے کہ بہت سے بلدیاتی نمائندگان نے قانون اور قواعد کے تحت دی گئی ذمہ داریوں کو درست طریقے سے ادا نہیں کیا۔ اگرچہ کونسلوں کو عوامی مفاد کے معاملات پر اپنے لیے قواعد بنانے کا اختیار حاصل تھا، لیکن 80 فیصد سے زیادہ کونسلیں ایسا کرنے میں ناکام رہیں، حالانکہ ان کی استعدادِ کار بڑھانے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی گئی تھی۔ اس طرح پچھلے چاروں بلدیاتی ادوار میں منتخب بلدیاتی اداروں کی بہت سی کمزوریاں اور کوتاہیاں سامنے آئیں، جو بلدیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے احساسِ ذمہ داری اور سیاسی عزم کی کمی کا ثبوت ہیں۔ کئی مواقع پر منتخب بلدیاتی ادارے اپنی ذمہ داریوں کی مکمل ادائیگی میں ناکام رہے، جس سے نظام پر اعتماد مزید کمزور ہوا۔ ضلعی سطح پر اکثر ناظم یہ چاہتے تھے کہ تمام اختیارات انہی کے پاس ہوں نہ کہ کونسل کے پاس۔ کچھ ذہین ناظمین، چاہے وہ ضلع، تحصیل یا وی سی سطح پر ہوں، بڑی ہوشیاری سے پوری کونسل کو اپنے کنٹرول میں رکھتے تھے اور قواعد و ضوابط یا ایکٹ کی زیادہ پروا نہیں کرتے تھے۔
اس کے نتیجے میں یہ کمزوریاں ناقدین کے ساتھ ساتھ ماہرین کے لیے بلدیاتی نظام کو تنقید کا نشانہ بنانے کا جواز بن گئیں کہ بلدیاتی حکومتوں کو زیادہ بااختیار بنانے سے یہ مؤثر ہونے کے بجائے مسائل میں اضافہ کریں گی۔
تاہم صرف ان کمزوریوں کی بنیاد پر پورے نظام کو موردِ الزام ٹھہرانا یا ختم کر دینا درست نہیں۔ بہت سے ایسے شعبے ہیں جہاں صوبائی اسمبلیاں یا پارلیمنٹ بھی مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہتی ہیں، لیکن کوئی بھی ان کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے انہیں ختم کرنے کی تجویز نہیں دیتا بلکہ ان میں بہتری کے مواقع تلاش کرتا ہے۔ جب 1973 میں قائم ہونے والا پارلیمانی جمہوری نظام ابھی تک صحیح طور پر ڈیلیور نہیں کر پایا، تو صرف چار سالہ بلدیاتی نظام کو ناکام قرار دے کر بار بار تجربات سے گزارنا قطعاً عقلمندی نہیں۔
اس سلسلے میں ایک تجویز یہ ہے کہ جیسے ہی بلدیاتی نظام کی چوتھی مدت اس سال اختتام کو پہنچ رہی ہے، یہ واضح ہو چکا ہے کہ یہ اب تک کا سب سے کم مؤثر نظام ثابت ہوا ہے، جس نے ایسے نمائندگان پیدا کیے جن کے پاس نہ اختیارات ہیں، نہ فنڈز اور نہ ہی خاطر خواہ ذمہ داری۔ لہٰذا اگر خیبر پختونخوا حکومت اسی کمزور ڈھانچے کو برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے تو نئے انتخابات پر عوامی پیسہ خرچ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ مسائل سے دوچار صوبے میں یہ عوامی وسائل کا غیر منصفانہ استعمال ہوگا، جس کی خاص ضرورت نہیں۔
آئین کی روح پر عمل کرتے ہوئے بلدیاتی نظام کے حوالے سے ایک نئے نقطہ نظر کی ضرورت ہے۔ ایم این ایز، ایم پی ایز اور بلدیاتی اداروں کے درمیان ایک مؤثر اور عملی تعلق قائم کرنا ہوگا، جبکہ ضلعی سطح کے بلدیاتی ڈھانچے کو بحال کرنا ہوگا تاکہ حقیقی اختیارات کی منتقلی، احتساب، مؤثر خدمات کی فراہمی اور حقیقی جمہوریت نچلی سطح تک ممکن ہو سکے۔
ایک مؤثر، نمائندہ، بااختیار اور جوابدہ تین سطحی بلدیاتی نظام اس وقت گورننس میں بہتری کے لیے ضروری ہے۔
صرف علامات پر توجہ دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا؛ اس کی جڑوں تک پہنچنا ناگزیر ہے۔



