تازہ ترین

*پی ٹی آئی رہنما محمد شریف کے بیان پر پاکستان پیپلز پارٹی لوئر چترال کا جواب

*پی ٹی آئی رہنما محمد شریف کے بیان پر پاکستان پیپلز پارٹی لوئر چترال کا جواب *

پی ٹی آئی چترال کے رہنما محمد شریف کی جانب سے گرم چشمہ روڈ کے حوالے سے سوشل میڈیا پر دیے گئے جھوٹے اور گمراہ کن بیان کی شدید الفاظ میں تردید کرتے ہیں
انفارمیشن سیل پاکستان پیپلز پارٹی لوئر چترال ۔۔

گرم چشمہ روڈ، بمبوریت روڈ اور چترال-بونی-شندور روڈ کو اے ڈی پی میں شامل کرنے کیلئے سابق صوبائی وزیر سلیم خان صاحب نے درخواست کیا تھا 2015 میں جب اس وقت کے وزیراعظم محمد نواز شریف صاحب چترال میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کر رہے تھے کوراغ وزیراعظم کے خطاب کے موقع پر

اس وقت کے (ایم پی اے )سلیم خان صاحب نے علاقے کی نمائندگی کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان محمد نواز شریف صاحب سے درخواست کیا تھا گرم چشمہ روڈ بمبوریت اور اور چترال شندور روڈ کو اے ڈی پی میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ان تینوں روڈز میں سے گرم چشمہ روڈ کو ترجیحی بنیاد پر پراسس کر کے( اے ڈی پی) میں شامل کیا گیا۔ جس کے نتیجے میں 2017 میں گرم چشمہ روڈ کا باقاعدہ ٹینڈر ہوا۔ یہ ٹھیکہ بلوچستان کی کمپنی کہ مالک ٹھیکدار محمد رسول نے حاصل کیا جس نے باقاعدہ طور پر مشینری بھی چترال پہنچائی تھی۔ تمام دستاویزات ریکارڈ کا حصہ ہیں۔

بدقسمتی سے اس وقت کی حکومت کی مدت پوری ہوئی اور الیکشن کا اعلان ہو گیا۔ مئی 2018 میں پی ٹی آئی نے حکومت بنائی اور جون 2018 کو نئی (اے ڈی پی) پاس ہوئی جس سے گرم چشمہ روڈ کو نکال دیا گیا۔ اس کے بعد خان صاحب کے پورے دور حکومت میں گرم چشمہ روڈ یا چترال کا کوئی دوسرا بڑا روڈ (اے ڈی پی) میں شامل نہیں ہو سکا۔

محمد شریف صاحب عوام کو گمراہ کر رہے ہیں کہ پی ٹی آئی حکومت میں گرم چشمہ روڈ نیشنلائز ہوئی تھی یہ بات بالکل درست نہیں ہے ۔ محمد شریف صاحب عوام کو گمراہ کرنے کے بجائے اپ چند سوالوں کا جواب دیں( 1) اگر یہ روڈ پہلے سے نیشنلائز نہیں تھی تو 2017 میں اس کا ٹینڈر کیسے ہوا؟؟، (2)پی سی ون کیسے منظور ہوا ؟ اور

( اے ڈی پی) 2017 میں کیسے شامل ہوا ؟ محمد شریف جیسے سیاسی نابالغ کو سمجھنا چاہیے کہ پہلے کوئی بھی روڈ نیشنلائز یا فیڈرلائز ہوتی ہے اس کے بعد ہی ٹینڈر ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ گرم چشمہ روڈ 2017 میں ہی اس وقت کے ایم پی اے سلیم خان صاحب کی کوششوں سے اے ڈی پی میں شامل ہوئی اور باقاعدہ ٹینڈر بھی ہوا ۔حالیہ 35 کروڑ روپے کا ٹینڈر ریپیئر اینڈ مینٹیننس کا ہے جس میں 10 کلومیٹر گرم چشمہ روڈ کی بلیک ٹاپنگ بھی شامل ہے۔ یہ بھی سلیم خان صاحب کے مسلسل کوشش کا نتیجہ ہے۔ اس سلسلے میں سلیم کے قیادت میں ایک وفد اسلام آباد گیا تھا ، وفد نے معائنہ کمیشن کے سربراہ بریگیڈیئر خالد رانجھا صاحب سے ملاقات کیا تھا ۔ چترال کے روڈ کے حوالے سے بریفنگ کے دوران سلیم خان صاحب نے بریگیڈیئر خالد رانجھا صاحب کے نوٹس میں یہ بات لائی کہ گرم چشمہ روڈ (اے ڈی پی) پروگرام تھا جسے نکال دیا گیا ہے، اسے دوبارہ شامل کیا جائے۔

اور 35 کروڑ کا تیار (پی سی ون) گرم چشمہ روڈ کے حوالے سے موجود ہے فوری ریلیز کرنے کی درخواست کیا تھا ۔ بریگیڈیئر رانجھا نے وعدہ کیا اور خود چترال آ کر اس کا اعلان بھی کیا۔ الحمدللہ آج وہ کام ٹینڈر ہو کر شروع ہو رہا ہے جو تمام لٹکوہ کے عوام کے لیے خوشی کی بات ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کا واضح موقف ہے ترقیاتی کاموں میں کیڑے نکال کر ذاتی اور گندی سیاست چمکانے کے بجائے عوامی مفاد اور علاقے کے مفاد میں جو بھی کام کرے
اس کو خراج تحسین پیش کرنا چاہیے۔

فخر عالم ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹری پاکستان پیپلز پارٹی لور چترال

نوٹ؛ ادارے کا مراسلہ نگار کی رائے یا پریس ریلز کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں!

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button