تازہ ترین

آنے والا ترقیاتی پروگرام صوبے کی معاشی و سماجی ترقی میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ وزیراعلیٰ

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت محکمہ پلاننگ و ڈویلپمنٹ کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں محکمہ سماجی بہبود، کھیل، سیاحت، ریلیف اور ٹرانسپورٹ سمیت مختلف سیکٹرز کے لیے سالانہ ترقیاتی پروگرام27-2026 کے نئے منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ صوبے کی تمام تحصیلوں میں ریسکیو اسٹیشنز کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے تاکہ ہنگامی حالات میں بروقت امداد فراہم کی جا سکے۔ وزیراعلیٰ نے جدید ٹیکنالوجی اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ کے پیش نظر الیکٹرک بائیکس اور اسکوٹیز کی صنعت کے قیام کے امکانات کا جائزہ لینے کی ہدایت کی، جبکہ سیاحت کے فروغ کے لیے ہیلی ٹورازم کے آغاز پر بھی غور کرنے کی تاکید کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبے کی سوشیو اکنامک رجسٹری کی تکمیل پر کام جاری ہے جسے وزیراعلیٰ نے دسمبر تک مکمل کرنے کی ہدایت جاری کی تاکہ مستحق افراد کی موثر نشاندہی اور فلاحی پروگراموں کی شفاف تقسیم ممکن بنائی جا سکے۔ سماجی بہبود کے شعبے میں اگلے ترقیاتی پروگرام کے تحت زمونگ کور کے نئے سنٹرز کے قیام، قوت گویائی و سماعت سے محروم بچوں کے لیے نئے تعلیمی اداروں کے قیام اور موجودہ اداروں کی اپ گریڈیشن کی تجاویز پیش کی گئیں۔ مزید برآں موجودہ دارالامانوں کی اپ گریڈیشن اور نئے دارالامانوں کے قیام، آرٹیفیشل لمبز ورکشاپس کو بایونک آرٹیفیشل لمبز ورکشاپس میں تبدیل کرنے، خصوصی بچوں کے لیے ماہانہ وظائف اور سکالرشپس کی فراہمی اور جدید تعلیمی کمپلیکسز کے قیام پر بھی غور کیا گیا۔ کھیلوں کے فروغ کے لیے ہزارہ اور مالاکنڈ ڈویڑنز میں تحصیل سطح پر گراونڈز کے قیام، بٹگرام اور دیر اپر میں سپورٹس کمپلیکسز کے قیام، خواتین کے لیے انڈور گیمز سہولیات اور جوان مراکز کے قیام کی تجاویز بھی زیر غور آئیں۔ سیاحت کے شعبے میں نئے سیاحتی مقامات کی دریافت، آثار قدیمہ کی بحالی، تاریخی ریلوے اسٹیشنوں کی بحالی اور ایڈونچر ٹورازم کے فروغ کے لیے مختلف منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسی طرح ملازمت کرنے والی خواتین اور طالبات کو الیکٹرک اسکوٹیز کی فراہمی کے منصوبے پر بھی غور کیا گیا۔ ٹرانسپورٹ سیکٹر میں کوہاٹ تا خرلاچی ریل سروس، سب اربن ٹرین سروس کے آغاز، سیاحت کے فروغ کے لیے ڈبل ڈیکر الیکٹرک بسوں اور بی آر ٹی کے لیے نئی الیکٹرک بسوں کی خریداری کی تجاویز پیش کی گئیں۔ اجلاس میں بی آر ٹی پشاور کو چارسدہ، نوشہرہ اور خیبر تک توسیع دینے کے منصوبے پر بھی غور کیا گیا۔ اس کے علاوہ ریلیف کے شعبے میں نئے ریسکیو اسٹیشنز کے قیام کے ساتھ ساتھ مائننگ والے اضلاع میں ایمرجنسی ریسکیو سروسز کو مائنز ریسکیو آپریشنز تک توسیع دینے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ترقی کے ثمرات کو صوبے کے ہر علاقے تک پہنچانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آنے والا ترقیاتی پروگرام صوبے کی معاشی و سماجی ترقی میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام منصوبوں کو زمینی حقائق، عوامی ضروریات اور پائیدار ترقی کے تقاضوں کے مطابق حتمی شکل دی جائے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button