تازہ ترین

انجمن ترقی کھوار حلقہ چترال کے زیر اہتمام دنین کے مقام پر ایک مقامی ہوٹل میں عظیم الشان ادبی تقریب بعنوان "جشن آمین” منعقد

چترال (ڈیلی چترال نیوز) انجمن ترقی کھوار حلقہ چترال کے زیر اہتمام دنین کے مقام پر ایک مقامی ہوٹل میں عظیم الشان ادبی تقریب بعنوان "جشن آمین” منعقد ہوئی، جو کہ چترال کے مایہ ناز استاد شاعر امین الرحمن چغتائی کے اعزاز میں سجائی گئی۔ اس پروقار تقریب کو ایک یادگار شام کا رنگ دیا گیا جس میں چترال بھر سے شعراء، ادباء اور اہلِ قلم نے بھرپور شرکت کی۔محفلِ مشاعرہ میں مرکزی انجمن ترقی کھوار چترال کے عہدیداران، سینئر شعراء کرام، انجمن ترقی کھوار حلقہ دروش اور دیگر حلقوں سے تعلق رکھنے والے شعراء و ادباء نے خصوصی شرکت کی اور اپنے خوبصورت کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔ محفل کی صدارت سرپرست اعلیٰ مرکزی انجمن ترقی کھوار محمد عرفان عرفان نے کی جبکہ سابق صدر مرکزی انجمن ترقی کھوار چترال یوسف شہزاد مہمانِ خصوصی تھے۔ تقریب کی نظامت کے فرائض کہوار اہل قلم چترال کے جنرل سیکرٹری سعادت حسین مخفی نے نہایت احسن انداز میں انجام دیے۔
اس رنگارنگ ادبی نشست میں جن شعراء نے اپنا کلام پیش کیا اُن میں ،انصارالہی نغمانی ،سعادت حسین مخفی، آفتاب عالم جوہی، انضمام انفی، اعجاز احمد اعجاز، اصغر شیدائی، محبوب حسین محبوب، محمد اسلم شیروانی، محمد علی ظفر، مہد چغتائی، جاوید اختر جواد، سید کائناتی، عبداللہ شہاب،صفی اللہ صفی،،فیضان علی فیضان ،سید نذیر حسین شاہ نذیر، سعید اللہ ساحل، ظہور الحق دانش، محبوب الحق حقی، محمد یوسف فرہاد، معزالدین بہرام، صالح والی آزاد، غلام رسول بیقرار، محمد شفی شفاء، ظفر اللہ پرواز، ذاکر محمد زخمی، حاجی اکبر حیات، عنایت اللہ اسیر، قاضی صالح نظام، محمد عرفان عرفان، چیئرمین شوکت علی اور خود استاد امین الرحمن چغتائی سمیت دیگر شعراء شامل تھے۔ تمام شعراء نے کھوار زبان میں اپنے دلکش کلام پیش کیے جس پر حاضرین نے بھرپور داد دی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی یوسف شہزاد، صدرِ محفل محمد عرفان عرفان، ڈاکٹر فضل خالق، سرپرست اعلیٰ حلقہ چترال مہتر ژاو شاہجہان اور دیگر مقررین نے انجمن ترقی کھوار حلقہ چترال کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ سینئر اور استاد شعراء کے اعزاز میں ان کی زندگی میں اس نوعیت کی تقاریب کا انعقاد نہایت قابلِ تحسین اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے پروگرام نہ صرف بزرگ شعراء کی خدمات کا اعتراف ہیں بلکہ نوجوان نسل کے لیے بھی ایک روشن مثال ہیں۔مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ محفلِ مشاعرہ کھوار زبان و ادب کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہے، جہاں سینئر اور نوجوان شعراء ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو کر اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی تقریبات ہماری ثقافت، زبان اور روایات کی خوبصورت عکاسی کرتی ہیں اور ان کے تسلسل سے کھوار زبان مزید ترقی کرے گی۔
اس موقع پر تقریب کے مہمانِ خاص اور شمعِ محفل استاد شاعر امین الرحمن چغتائی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اس شاندار پروگرام کو اپنی زندگی کا ایک یادگار اور قیمتی لمحہ قرار دیا۔ انہوں نے انجمن ترقی کھوار حلقہ چترال کے صدرمعزالدین بہرام اور تمام عہدیداران کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ان کے اعزاز میں "جشن آمین” جیسی خوبصورت تقریب کا انعقاد کیا۔
انہوں نے کہا کہ آج کی یہ محفل ان کے لیے ایک بڑا اعزاز ہے جسے وہ زندگی بھر یاد رکھیں گے۔ انہوں نے نوجوان نسل پر زور دیا کہ وہ اپنی مادری زبان کھوار اور اپنی ثقافت سے جڑے رہیں، کیونکہ یہی ہماری اصل شناخت ہے۔ امین الرحمن نے قدیم دور کے سادہ لوح لوگوں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی زبان سے بے پناہ محبت کرتے تھے، اسی لیے ان کی یادیں آج بھی گیتوں اور روایات کی صورت میں زندہ ہیں۔استاد امین الرحمن چغتائی نے مزید کہا کہ بزرگ شعراء کی زندگی میں اس طرح کی تقاریب کا انعقاد نہ صرف ان کی حوصلہ افزائی کرتا ہے بلکہ خدمتِ ادب کے جذبے کو بھی مزید تقویت دیتا ہے۔ دیگر مہمانوں میں فضل رحیم ایڈوکیٹ ، محمد نیاب ، محمد اشتیاق چترالی ، فضل الرحمان شاہد ، شہزادہ فہم عزیز اور دوسرے موجود تھے ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button