گولین گول ہائیڈرو پاور اسٹیشن کے وعدے، 30 میگاواٹ کا اعلان اور چترال کی مسلسل لوڈشیڈنگ۔۔ بشیر حسین آزاد

چترال قدرتی وسائل سے مالا مال ضلع ہے، لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ یہاں کے عوام آج بھی بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، بار بار ٹرپنگ اور بجلی کی غیر مستحکم فراہمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال اس وقت مزید تشویش ناک محسوس ہوتی ہے جب گولین گول ہائیڈرو پاور اسٹیشن (108 میگاواٹ پن بجلی منصوبے) کی تکمیل کے وقت چترال کے عوام سے بڑے بڑے وعدے کیے گئے تھے۔
گولین گول ہائیڈرو پاور اسٹیشن چترال کی ترقی کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا گیا تھا۔ منصوبے کی تعمیر کے دوران اور افتتاح کے موقع پر عوام کو یقین دلایا گیا تھا کہ اس سے نہ صرف قومی گرڈ کو بجلی فراہم ہوگی، بلکہ چترال کے عوام کو بھی اس منصوبے کا براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔ اس وقت کے سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی جانب سے چترال کے لیے 30 میگاواٹ بجلی مختص کرنے کا باقاعدہ اعلان بھی سامنے آیا۔ اس اعلان نے عوام میں یہ امید پیدا کی تھی کہ برسوں پرانا توانائی کا بحران ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔
مگر افسوس کہ ان وعدوں اور اعلانات کو آٹھ سال گزرنے کے باوجود بھی ان پر مکمل اور مؤثر عمل درآمد نظر نہیں آتا۔ آج بھی چترال کے مختلف علاقوں میں روزانہ آٹھ سے بارہ گھنٹے تک کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ معمول بن چکی ہے۔ بعض علاقوں میں معمولی بارش یا تیز ہوا چلنے سے بھی بجلی کی فراہمی معطل ہو جاتی ہے اور کئی کئی گھنٹے تک بحال نہیں ہو پاتی، جس سے عوام کو شدید ترین مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
حکام کی جانب سے اکثر لوڈشیڈنگ کا جواز بجلی کے بلوں کی عدم ادائیگی بتایا جاتا ہے، لیکن یہ دلیل چترال کے عوام کو مطمئن نہیں کر پاتی۔ چترال ملک کے ان چند اضلاع میں شمار ہوتا ہے جہاں بجلی چوری نہ ہونے کے برابر ہے اور صارفین کی جانب سے بلوں کی ادائیگی کی شرح بھی 90 فیصد سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ ایسے قانون پسند ضلع میں مسلسل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا ہونا کئی سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے۔
یہ صورتحال عوام کو یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا حکومتوں کی جانب سے کیے گئے اعلانات صرف وقتی سیاسی اطمینان یا عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے ہوتے ہیں، یا ان پر واقعی عمل درآمد بھی ہونا چاہیے؟ اگر ایک منتخب حکومت کے دور میں عوام سے کیے گئے وعدے برسوں بعد بھی پورے نہ ہوں تو عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچنا فطری امر ہے۔
اس وقت بھی وفاق میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت قائم ہے، اس لیے چترال سے تعلق رکھنے والے سیاسی قائدین، منتخب نمائندوں اور مسلم لیگ (ن) کی مقامی قیادت کی یہ اولین ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ حکومت کو ماضی کے ان اعلانات اور وعدوں کی یاد دہانی کرائیں۔ اگر چترال کے لیے 30 میگاواٹ بجلی مختص کرنے کا اعلان کیا گیا تھا تو عوام کو بتایا جائے کہ اس پر اب تک عمل درآمد کیوں نہیں ہو سکا، اور اگر اس میں کوئی انتظامی یا قانونی رکاوٹ ہے تو اسے دور کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
اسی طرح چترال کے بجلی کے ترسیلی نظام (ٹرانسمیشن لائنز) کو جدید خطوط پر استوار کرنا، معمولی بارش یا ہوا سے بجلی کی بار بار بندش کا مستقل حل نکالنا اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا خاتمہ بھی متعلقہ اداروں کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
چترال کے عوام نے ہمیشہ قومی مفاد کو مقدم رکھا ہے۔ بجلی کے بلوں کی بروقت ادائیگی، بجلی چوری سے مکمل اجتناب اور قومی اثاثوں کے تحفظ میں ان کا کردار قابلِ تحسین رہا ہے۔ اس کے بدلے میں عوام کی یہ جائز توقع ہے کہ انہیں بلاجواز لوڈشیڈنگ، ناقص ترسیلی نظام اور ادھورے وعدوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
وقت آ گیا ہے کہ چترال کی تمام سیاسی، سماجی اور عوامی قیادت اس اہم مسئلے پر متحد ہو کر مؤثر آواز اٹھائے، تاکہ گولین گول ہائیڈرو پاور اسٹیشن سے متعلق کیے گئے وعدے عملی شکل اختیار کر سکیں، چترال کے لیے اعلان کردہ بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور عوام کو اس ناروا لوڈشیڈنگ سے مستقل نجات مل سکے۔ یہی عوام کا حق اور وقت کی حکومت کی ذمہ داری ہے۔

