مضامین

​چترال کی آئینی حیثیت اور ملاکنڈ میں ٹیکس چھوٹ کا خاتمہ: کیا پہاڑوں کے باسیوں پر نئے ٹیکس انصاف ہیں؟۔۔۔۔۔۔​تحریر: بشیر حسین آزاد

​چترال محض پاکستان کا ایک خوبصورت سیاحتی خطہ نہیں بلکہ ایک منفرد تاریخی، آئینی اور جغرافیائی حیثیت رکھنے والا علاقہ ہے۔ برف پوش چوٹیوں، دشوار گزار راستوں اور ہندوکش کے عظیم سلسلۂ کوہ کے درمیان آباد اس خطے کو ماضی میں ٹیکس سے استثنیٰ حاصل تھا۔ یہ استثنیٰ کسی رعایت یا خصوصی احسان کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ چترال اور پورا ملاکنڈ ڈویژن جغرافیائی تنہائی، شدید موسمی حالات، محدود معاشی وسائل اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے غیر معمولی حالات سے دوچار ہے۔
​یکم جولائی 2026 سے ملاکنڈ ڈویژن کی دہائیوں پرانی ٹیکس چھوٹ ختم ہونے کے بعد چترال سمیت پورا خطہ ایک نئے معاشی اور آئینی چیلنج سے دوچار ہو گیا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ملک بھر میں یکساں ٹیکس نظام نافذ کرنا ضروری ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایسے علاقے، جہاں معاشی، جغرافیائی اور موسمی حالات یکساں نہیں، وہاں بھی ایک ہی پیمانہ انصاف کہلا سکتا ہے؟
​پوشیدہ ٹیکسز کی حقیقت: "ہم پہلے ہی ٹیکس دے رہے ہیں!”
​ٹیکس چھوٹ کے خاتمے پر بحث کرنے سے پہلے اس مغالطے کو دور کرنا انتہائی ضروری ہے کہ ملاکنڈ اور چترال کے عوام کوئی ٹیکس نہیں دیتے۔ سچ تو یہ ہے کہ یہاں کا غریب اور امیر، ہر شہری روزمرہ زندگی کی ہر ضروری چیز پر پہلے ہی بھاری بالواسطہ (Indirect) ٹیکسز ادا کر رہا ہے۔
​ضروریاتِ زندگی پر سیلز ٹیکس: آٹا، چینی، گھی، دالیں، چائے کی پتی، صابن، ادویات اور بچوں کے دودھ تک پر سیلز ٹیکس فیکٹری لیول پر ہی کٹ جاتا ہے، جو چترال کا صارف میدانی علاقوں سے بھی مہنگے داموں خریدتا ہے۔
​یوٹیلیٹی بلز اور موبائل کارڈز: بجلی کے بلوں پر عائد جی ایس ٹی (GST)، ودہولڈنگ ٹیکس اور موبائل کارڈز کے ریچارج پر کٹنے والے ٹیکسز چترال کا ہر شہری برابر ادا کر رہا ہے۔
​پٹرولیم لیوی کا اضافی بوجھ: ایندھن پر عائد ٹیکس اور لیوی کی وجہ سے مال برداری کے اخراجات دگنے ہو جاتے ہیں، جس کا براہِ راست بوجھ غریب کی جیب پر پڑتا ہے۔
​لہٰذا یہ کہنا سراسر ناانصافی ہے کہ یہ خطہ ٹیکس نیٹ سے باہر ہے۔ عوام صرف انکم ٹیکس، پراپرٹی ٹیکس یا مخصوص کسٹم ڈیوٹیوں سے مستثنیٰ تھے، جو ان کے پسماندہ حالات کے پیشِ نظر ان کا قانونی حق تھا۔
​چترال کی معیشت: کمزور مگر خوددار
​چترال کی معیشت کا انحصار بڑے صنعتی اداروں، کارخانوں یا کارپوریٹ شعبے پر نہیں بلکہ چھوٹے کاروبار، زراعت، مویشی بانی، دستکاری اور سیاحت پر ہے۔ یہاں کے تاجر محدود سرمائے کے ساتھ کاروبار کرتے ہیں جبکہ نوجوان روزگار کے لیے ملک کے دوسرے حصوں یا بیرونِ ملک جانے پر مجبور ہیں۔
​این-45 لواری روڈ اور دیگر پہاڑی راستوں کے ذریعے سامان کی ترسیل پہلے ہی انتہائی مہنگی ہے۔ نتیجتاً تعمیراتی سامان اور روزمرہ استعمال کی بیشتر اشیا پاکستان کے میدانی علاقوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ قیمت پر دستیاب ہوتی ہیں۔ ایسے میں انکم ٹیکس اور دیگر نئے ٹیکسوں کا نفاذ مقامی تاجروں کی کمر توڑ دے گا اور عوام کی قوتِ خرید کو مزید کمزور کرے گا۔
​قدرتی آفات کا مسلسل سامنا اور "ماحولیاتی ٹیکس”
​چترال ان علاقوں میں شامل ہے جہاں قدرتی آفات معمول کی زندگی کا حصہ بن چکی ہیں۔ یہ خطہ ہندوکش کے فعال زلزلہ زون پر واقع ہے، جہاں بار بار آنے والے زلزلے، لینڈ سلائیڈنگ اور پہاڑوں کے سرکنے کے واقعات معمول ہیں۔
​موسمیاتی تبدیلی نے صورتِ حال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ گلیشیائی جھیلوں کے اچانک پھٹنے (GLOFs)، شدید بارشوں، فلیش فلڈز، برفانی تودوں اور سیلاب نے گزشتہ چند برسوں میں کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا ہے۔ سڑکیں، پل، آبپاشی کے نظام، پانی کی اسکیمیں، زرعی زمینیں اور مکانات بار بار تباہ ہوتے ہیں جبکہ عوام اپنی مدد آپ کے تحت دوبارہ زندگی کی تعمیر شروع کرتے ہیں۔
​حقیقت یہ ہے کہ چترال کے عوام ہر سال قدرتی آفات کی صورت میں ایک ایسا "ماحولیاتی ٹیکس” ادا کرتے ہیں جس کا بوجھ کسی سرکاری مالیاتی رپورٹ میں نظر نہیں آتا۔ جس خطے کو حکومت قدرتی آفات کے رحم و کرم پر چھوڑ دے، وہاں سے ٹیکس وصول کرنا کہاں کا انصاف ہے؟
​آئینی حیثیت اور نظام پر نظرِ ثانی کے مطالبات
​ملاکنڈ ڈویژن کو تاریخی طور پر خصوصی قانونی حیثیت حاصل رہی ہے، جس کے تحت یہاں مخصوص ٹیکسوں سے استثنیٰ دیا گیا تھا۔ اگر حکومت ملک گیر یکسانیت چاہتی ہے، تو اسے پہلے ترقی، انفراسٹرکچر اور سہولیات میں یکسانیت لانی ہوگی۔ جب تک اس خطے کو بنیادی سہولیات، صنعتی ترقی، بہتر مواصلاتی نظام، معیاری صحت و تعلیم اور روزگار کے مساوی مواقع فراہم نہیں کیے جاتے، اس وقت تک ٹیکس چھوٹ ختم کرنا انصاف کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
​حکومت کو چاہیے کہ اس سنگین مسئلے پر فوری نظرِ ثانی کرے اور درج ذیل اقدامات اٹھائے:
​تدریجی نفاذ (Phased Implementation): دہائیوں پرانے استثنیٰ کو یکلخت ختم کرنے کے بجائے اگلے ۵ سے ۱۰ سال کا ایک ایسا پلان دیا جائے جس میں ٹیکس بتدریج نافذ ہو، تاکہ معیشت کو جھٹکا نہ لگے۔
​مواصلاتی مراعات: لواری ٹنل کے راستے مال بردار گاڑیوں کے لیے خصوصی رعایت یا پٹرول پر سبسیڈی دی جائے تاکہ اشیاء کی قیمتیں قابو میں رہیں۔
​مقامی صنعت کا تحفظ: ہوٹل انڈسٹری، سیاحت، زراعت اور دستکاری کو کم از کم مزید ۱۰ سال کے لیے انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ رکھا جائے۔
​اتحاد ہی کامیابی کی ضمانت
​ٹیکس چھوٹ کے خاتمے کے بعد چترال سمیت ملاکنڈ ڈویژن میں تاجروں، ٹرانسپورٹرز، وکلا، سول سوسائٹی، سیاسی جماعتوں اور نوجوانوں میں شدید تشویش اور بے چینی پائی جاتی ہے۔ متعدد آل پارٹیز کانفرنسوں اور عوامی اجتماعات میں اس فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا جا چکا ہے۔
​یہ مسئلہ کسی ایک سیاسی جماعت، قبیلے، وادی یا طبقے کا نہیں بلکہ پورے چترال اور ملاکنڈ کی معاشی بقا کا سوال ہے۔ ایسے وقت میں ضروری ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوں۔ اختلافات اپنی جگہ، لیکن خطے کے وسیع تر مفاد کے لیے اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مضبوط، پرامن اور آئینی جدوجہد ہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے عوام اپنی آواز ایوانوں تک مؤثر انداز میں پہنچا سکتے ہیں۔
​ہماری ذمہ داری
​چترال کے عوام ہمیشہ قانون کا احترام کرنے والے، محبِ وطن اور پرامن لوگ رہے ہیں۔ آج بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مؤثر آواز بلند کی جائے۔ حکومت سے مطالبہ کیا جائے کہ ملاکنڈ ڈویژن اور خصوصاً چترال کے منفرد جغرافیائی، معاشی اور موسمی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹیکس پالیسی پر فوری نظرثانی کی جائے اور عوامی تحفظات کو دور کیا جائے۔
​چترال کو خصوصی رعایت نہیں بلکہ مساوی انصاف درکار ہے۔ جب تک یہاں کے عوام کو وہ سہولیات، مواقع اور معاشی استحکام حاصل نہیں ہوتا جو ملک کے ترقی یافتہ علاقوں کو میسر ہے، اس وقت تک یکساں ٹیکس نظام حقیقی مساوات نہیں بلکہ ایک غریب برادری پر اضافی بوجھ تصور کیا جائے گا۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب ایک ہو کر اپنے آئینی حقوق، تاریخی شناخت اور معاشی مستقبل کے تحفظ کے لیے پرامن اور باوقار انداز میں کھڑے ہوں۔ اتحاد ہی ہماری طاقت ہے، اور یہی ہماری آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کی ضمانت بھی۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button