چترال کے جنگلات: ہماری بقا کی ضمانت..کاوشاتِ اقبال سے ایک ورق..محمد اقبال شاکر

چترال پہاڑوں اور خوبصورت پہاڑوں میں لپٹا خوبصورت اور جغرافیائی اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ضلع ہے، پہلے ایک اور اب دو ضلعوں میں تقسیم ہے۔ آبادی جلانے کے لیے لکڑی کاٹ کر استعمال میں لاتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق سالانہ پچاس ہزار ٹن لکڑی جلانے کی مد میں استعمال ہوتی ہے۔ چترال میں 1.8 فیصد حصے میں جنگلات موجود ہیں، جو کہ بہت ہی کم مقدار ہے۔ جہاں یہ جنگلات موجود ہیں، مقامی آبادی کا گزر بسر لکڑی کاٹ کر بیچنا ہے۔
چترال کے دونوں ضلعے گزشتہ چند سالوں سے موسمیاتی تبدیلیوں کا شکار ہیں۔ دریائے چترال میں طغیانی، سیلابی صورتِ حال اور گلیشیئرز پھٹنے کی وجہ سے چترال میں سینکڑوں گھر، زرعی اراضی دریا برد اور سیلاب برد ہو چکے ہیں، جس کی سب سے بڑی وجہ چترال میں سرد موسم میں سوختی لکڑی کا استعمال اور متبادل ذرائع کا فقدان ہے، جو اب ایک خطرناک صورتِ حال اور سنگین نوعیت کا مسئلہ اختیار کر چکا ہے اور مستقبل قریب میں دونوں ضلعے اس سے شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔
طویل شدید سردی سے تھرتھراتے عوام کسی بھی طریقے سے اپنے گھروں کو گرم رکھنے کے لیے سوختی لکڑی پر انحصار کرتے ہیں اور فی گھرانہ سردیوں میں 50 من لکڑی کم از کم استعمال میں لاتے ہیں۔ بجلی یا گیس سلنڈر کا حصول عام لوگوں کی مالی استطاعت سے باہر ہوتا ہے۔
جنگلات اور انسان کا ساتھ دینا روزِ ازل سے رہا ہے۔ پہلے کا انسان غاروں میں رہتا تھا اور خوراک کا سہارا جنگلات پر رکھتا تھا۔ پھر ترقی کے سفر نے ترقی کی دہلیز پر پہنچا دیا تو جنگلات کاٹ کر مٹی کے گھر اور پھر محلات بنانے کے لیے کنکریٹ کے پہاڑوں جیسی دنیا بسا لی۔ اس سے موسمیاتی تبدیلیاں پیدا ہوئیں، جس کا خمیازہ آج ہم مختلف حادثات کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔
آج انسان سیارے پر گھر بسانے کی کوششیں کر رہا ہے، جبکہ زمین پر ماحولیاتی آلودگی کو روکنے اور جنگلات کی بے دریغ کٹائی، جو کہ ماحولیاتی آلودگی کی بڑی وجہ ہے، کے بارے میں کچھ کرنے سے قاصر ہے اور صرف زبانی حد تک، یا یہ بھی نہیں۔
چترال میں جنگلات کی کٹائی کی اس شرح کو نہ روکا گیا تو اس کے سنگین، خطرناک نتائج ہو سکتے ہیں۔ چترال کے دونوں ضلعوں میں امسال سیلاب کی تباہ کاریاں اس کی واضح علامات ہیں۔ اس حوالے سے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
چترال کے دونوں ضلعے پسماندہ ضلعوں میں شمار ہوتے ہیں اور روزگار کے مواقع بالکل نہیں ہیں اور جہاں جنگلات موجود ہیں، وہ بھی انتہائی قلیل مقدار میں ہیں۔ ان چھوٹی مقدار میں موجود جنگلات پر ٹمبر مافیا نے آرا مشینوں اور جنگلات تک گاڑی کی رسائی ممکن بنا رکھی ہے، جس سے جنگلات میں بے دریغ کٹائی ہو رہی ہے۔ اس میں تعمیراتی کمپنیوں کا بھی گہرا اثر ہے، جس کی مد میں سالانہ عمارتی، جلانے کے لیے پچاس ہزار ٹن لکڑی جنگلات سے کاٹی جاتی ہے۔
ایک درخت بارہ کلو گرام کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتا ہے اور چترال کے چار افراد کے کنبے کے لیے سال بھر کے لیے آکسیجن فراہم کرتا ہے، تو کیا ہمیں اس کے بارے میں سوچنے کی ضرورت نہیں؟
چترال اور چترالیات کو بچانے کا واحد راستہ یہی ہے کہ جنگلات کی کٹائی کے محرکات کو روکنے کے متبادل راستے تلاش کرنے اور ذرائع پیدا کرنے ہوں گے، جس میں لوکل سطح پر پن بجلی کے نجی اور سرکاری تنظیموں کی مدد سے پیدا کرنا اور سوختی گیس پلانٹ منصوبے کی سہولت دے کر اور چترال میں ٹمبر مافیا کو تجارتی مقاصد کے لیے چترال کے جنگلات کی بے دریغ کٹائی اور جنگل والے علاقے میں آرا مشین لگانے پر پابندی لگا کر کر سکتے ہیں۔
چونکہ چترال میں آب و ہوا کا مجموعی پیٹرن تبدیل ہو چکا ہے، تو یہ ہم سب کا فریضہ ہے کہ ہمیں اپنے چترال کے ماحول اور فطرت کے تحفظ کے لیے مل کر کام کرنا ہے۔


