چترال: حادثے کے شکارپیرا گلائیڈر آصف محمود کی لاش اوویر ویلی سے برآمد

چترال/اپر چترال میں زینی پاس سے پرواز کے بعد لاپتہ ہونے والے 55 سالہ پیرا گلائیڈر آصف محمود کی لاش جمعہ کے روز اوویر ویلی کی ایک اونچی چراگاہ سے مل گئی۔ لاش کو ایک مقامی چرواہے نے دیکھا جس کے بعد ریسکیو ٹیموں کو اطلاع دی گئی۔
واہ کینٹ کے رہائشی آصف محمود گزشتہ روز موسم کی ناگہانی خرابی کے بعد بروم کی پہاڑیوں میں لاپتہ ہو گئے تھے، جس کے بعد ان کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کیا گیا تھا۔
سرچ آپریشن میں حصہ لینے والے اپر چترال پیراگلائیڈرز ایسوسی ایشن کے صدر ظہیر الدین بابر نے ‘میڈیا’ کو بتایا کہ لاش کو تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال بونی منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں پوسٹ مارٹم کا عمل جاری ہے۔ قانونی کارروائی کی تکمیل کے بعد میت لوئر چترال میں موجود لواحقین کے حوالے کر دی جائے گی۔
ظہیر الدین بابر کے مطابق پیراگلائیڈر پہاڑی ٹیلا سے ٹکرانے کے باعث ریڑھ کی ہڈی اور سر پر شدید چوٹیں آنے سے جاں بحق ہوئے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ آصف محمود ہندوکش کی چوٹی ترچ میر کے قریب زینی پاس سے پرواز کرنے والے 6 رکنی گروہ میں شامل تھے۔ پرواز کے تقریباً ایک گھنٹے بعد موسم اچانک خراب ہو گیا۔ ظہیر الدین سمیت دیگر 5 پیراگلائیڈرز نے محفوظ لینڈنگ کر لی، جبکہ آصف محمود نے چترال شہر کی طرف اپنی پرواز جاری رکھی۔
ایسوسی ایشن کے صدر کا کہنا تھا کہ ٹیک آف کے بعد تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک آصف محمود سے ریڈیو رابطہ قائم رہا، جس کے بعد ان کا سگنل منقطع ہو گیا۔ رابطہ ٹوٹنے پر انتظامیہ کو خدشہ تھا کہ وہ بروم کی دشوار گزار پہاڑیوں میں حادثے کا شکار ہوئے ہیں یا انہوں نے ہنگامی لینڈنگ کی ہے۔
ان کی گمشدگی کے بعد ریسکیو 1122 کی ٹیموں نے فوری طور پر سرچ آپریشن شروع کیا، جسے رات کی تاریکی اور دھند کے باعث معطل کرنے کے بعد جمعہ کی صبح دوبارہ شروع کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ چترال میں گزشتہ 25 سال سے زائد عرصے کے دوران یہ اپنی نوعیت کا پہلا حادثہ ہے۔ اس سے قبل گزشتہ سال گلگت کے علاقے نگر میں رش جھیل کے قریب 4,694 میٹر کی بلندی پر کریش لینڈنگ کے نتیجے میں 2 امریکی پیراگلائیڈرز زخمی ہو گئے تھے



