چترال کے لوگوں میں ایگری بزنس کو ترقی دینے کی بےپناہ صلاحیتیں موجود ہیں پراجیکٹ ڈائریکٹر اشفاق احمد

چترال (نامہ نگار ) پراجیکٹ ڈائریکٹر خیبر پختونخوا رورل اکنامک ٹرانسفارمیشن پراجیکٹ ( KP RETP) اشفاق احمد نے کہا ہے ، کہ چترال کے لوگوں میں ایگری بزنس کو ترقی دینے کی بےپناہ صلاحیتیں موجود ہیں ، اور حکومت کی کوشش ہے ، کہ ان صلاحیتوں اور مواقع کو بھر پور طریقے سے استعمال میں لاکر زراعت کو دور جدید کے تقاضوں کے مطابق ترقی دی جائے ، اور زراعت سے وابستہ لوگوں کو براہ راست فائدہ پہنچا کر غربت میں کمی لائی جائے ، وہ گذشتہ روز چترال کے ایک مقامی ہوٹل میں اپر اور لوئر چترال میں قائم شدہ پروفیشنل فارمرز کواپر آرگنائزیشن کے عہدہ داروں اور نمایندوں سے خطاب کر رہے تھے ، اس موقع پر پراجیکٹ کو آرڈینیٹر ( KP RETP) اشتیاق احمد ، ڈاکٹر شیر علی ایگری بزنس منیجر ( KP RETP ) شفیق اقبال ریجنل کو آرڈینیٹر ، منور خان ٹیم لیڈر (BMP) ،اعجاز احمد اسسٹنٹ ڈائریکٹر NRM موجود تھے ۔ پراجیکٹ ڈائریکٹر نے کہا ، کہ یہ صوبائی حکومت کا ایک بہترین پراجیکٹ ہے ، جس سے بھر پور فایدہ حاصل کرنے کیلئے قائم شدہ تنظیمات ذمہ داری عائد ہوتی ہے ، کہ وہ اسے کامیاب بنانے کیلئے سنجیدہ کوشش کریں ، جس میں ہمارا بھر پور تعاون آپ کے ساتھ رہے گا ، انہوں نے کہا ۔ کہ چند پی ایف سی آوز کے بزنس پلان منظور ہو نے کے بعد فنڈ ریلیز ہو چکے ہیں ، تاہم اب ایمر جنسی کے نفاذ کے بعد فنڈ فریز ہو چکے ہیں ، جوں ہی اکاؤنٹ کھلیں گے، دیگر تنظیمات کے فنڈ بھی جاری کئے جائیں گے ، انہوں نے کہا ۔ کہ چترال کے ڈرائی فروٹ پورے ملک میں مشہور ہیں ، اور یہ ایگری بزنس کا بہت بڑا حصہ ہے ، نیز چترال سیاحتی علاقہ ہونے کی وجہ سے اس کاروبار کیلئے مقامی اور بیرون ضلع وسیع مارکیٹ موجود ہیں ، جس سے استفادہ حاصل کیا جا سکتا ہے ،
ڈاکٹر شیر علی نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا ، کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کی بنیاد پر اس پراجیکٹ کو کامیاب بنانا ہے ، ایفاد اور یورپین یونین کے تعاون سے چلنے والے اس پراجیکٹ کے پارٹنر شپ کے درمیان جو گیپ موجود ہے ، اس کو پر کرکے زمیندار کا روزگار بڑھانے کی ضرورت ہے ، ہمیں یہ معلوم ہو ، کہ چترال کے ڈرائی فروٹ کو کیسے بہتر طریقے سے برانڈنگ اور مارکیٹنگ کی جا سکتی ہے ،
ٹیم لیڈر منور خان نے پریزنٹیشن کے ذریعے بتایا ، کہ یہ پیداوار ، سپلائی چین ، مارکٹنگ اور سروس پر مشتمل پراجیکٹ ہے ، اور بہترین پراجیکٹ ہے ۔ بنیادی طور پر پیداوار میں اضافہ کرکے غربت میں کمی لانے کیلئے ڈیزائن کیا گیا ہے ، چترال میں پچاس پی ایف سی آوز کے قیام کا ٹارگٹ ہے ، فی الحال اٹھارہ پی ایف سی آوز قائم ہو چکے ہیں ، اور بیس پی ایف سی آوز پر کام جاری ہے ، انہوں نے کہا ، کہ چترال میں وسیع پیمانے پر ڈرائی فروٹ پیدا ہوتی ہے ، جس میں اخروٹ 1140 میٹرک ٹن ، سیب 1900ٹن ، خوبانی 290 ٹن ، چلغوزہ 133 ٹن ،ناشپاتی 492ٹن ، انار 437 ٹن ، انگور 44ٹن ، توت 133 ٹن پیدا ہو تی ہے ، املوک اور چیری کی بھی بڑی پیداوار ہے ، یعنی پھلوں کی اصل مقدار اس سے کہیں زیادہ ہے ، لیکن سائنسی بنیادوں پر ان کو خشک کرنے ، پیکجنگ اور مارکیٹنگ کی اب تک کوشش نہیں کی گئی ، انہوں نے کہا ، کہ چترال میں پھلدار درختوں کے ساتھ سلوک بھی سوتیلی ماں جیسا ہے ، شاخ تراشی ، نلائی ،گودی اور کھاد دینے کا رواج نہ ہونے کے برابر ہے ۔ اسی طرح پھلوں کے جمع کرنے اور خشک کرنے کا نظام بھی فرسودہ ہے ، نیز ان کی برانڈنگ ، پیکجنگ اور مارکیٹنگ سے بھی لوگ واقف نہیں ، اور آج بھی روایتی طریقے پر کام ہو رہا ہے ، جسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ، انہوں نے کہا ، کہ خواتین اور یوتھ کیلئے ڈرائی فروٹ ایک بہترین بزنس ہے ، اس لئے ڈرائی فروٹ کے کاروبار کو وسعت دینے اور انہیں سائنسی خطوط پر لاکر اچھی آمدنی حاصل کرنے کیلئے تمام خامیاں دور کرنے پر بھر پور توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔
اس موقع پر پی ایف سی آوز کے حاضرین نے ڈرائی فروٹ فروٹ کی تیاری میں مشکلات و مسائل ، برانڈنگ پیکجنگ اور مارکیٹنگ کے حوالے سے مختلف سوالات کئے ، اور پراجیکٹ ڈائریکٹر سے اپیل کی ، کہ جلد از جلد فنڈ ریلیز کرکے بلا تاخیر پراجیکٹ کو آگے جانے کا موقع فراہم کریں ۔ اس موقع پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر اعجاز احمد نے بھی مقامی مسائل پر روشنی ڈالی ، جبکہ اظہر اقبال نے اسٹیج فرائض انجام دی ۔









