مضامین

​داد بیداد……..​چترال کا مقدمہ…… ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

​چترال کا مقدمہ کسی کتاب میں نہیں کسی عدالت میں بھی نہیں
یہ مقدمہ دلوں سے زبان تک آتا ہے زبان سے قلم تک آنے کی تمنا رکھتا ہے کسی دانشور کا قول ہے جابر سلطان
کے سامنے کلمہ حق کہنے سے پہلے جابر سلطان سے اجازت
لینی چاہیئے صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی آنے کے
بعد خوش گوار تبدیلی آ گئی ہے اس تبدیلی کا خیر
مقدم کرنے والے مختلف مطالبات حکومت کے
سامنے رکھتے ہیں، چترال کا مقدمہ بھی 13 سال
پہلے ادھورے چھوڑے گئے تین بڑے منصوبوں
کو مکمل کرنے کا مطالبہ ہے 2010ء میں چترال
کے دو منصوبوں پر کام شروع کرنے کی تیاری ہوئی
2011ء میں کام شروع ہوا، لاوی ہائیڈرو پاور پروجیکٹ(PEDO) کے تحت 69 میگاواٹ پن بجلی کا منصوبہ ہے
2013ء میں منصوبے کا 12 کلومیٹر ٹنل مکمل ہوا تھا بجلی گھر اور
مشینری پر کام ہونے والا تھا انتخابات کےبعد صوبے میں تحریک انصاف کی حکومت آئی فنڈ روک دیئے گئے، غیر ملکی کمپنی نے اپنی مشینری
اٹھالی کام بند ہوا
​​اگر2012 والی حکومت اقتدار میں رہتی یا کسی عوامی سیاسی پارٹی کی حکومت آ جاتی تو مذکورہ منصوبہ پروگرام کے مطابق 2015میں مکمل ہوتااور 132 کے وی ٹرانسمیشن لائن بچھا چکی ہوتی اور 5لاکھ نفوس کی آبادی کو بجلی مل چکی ہوتی۔

دوسرا منصوبہ چترال ٹاون میں جوڈیشل کمپلیکس کی تعمیر کا کام تھا یہ بھی اہم پراجیکٹ تھا اس کے تحت ضلعی ہیڈکوارٹر میں ججوں کے دفاتر وکلاء کے بار روم،لائبریری اور دیگر لازمی عمارتوں کے علاوہ ماتحت عدلیہ کے لیے رہائشی مکانات اور فلیٹ تعمیر ہونے والے تھے منصوبے کا ڈھانچہ ابتدائی مراحل میں تھا گراؤنڈ فلور پر چھت ڈالی جاچکی تھی
2013ء کے انتخابات نے منصوبے کا پانسہ پلٹ دیا
تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے14-2013ء کے سالانہ ترقیاتی پروگرام سے منصوبے کو نکال دیا یہ بات
پراجیکٹ مینجمنٹ سائیکل سے واقفیت رکھنے والوں سے مخفی نہیں کوئی بڑا منصوبہ اے ڈی پی سےنکال دیا گیا ہو اس کو دوبارہ شروع کرنے کے لئےدوباره پی سی ون تیار کر کے PDWP کی منظوری
کا انتظار کرنا پڑتا ہے اور یہ ایک لمبا سفر ہے ​اور اس لمبے سفر میں اہم منصوبے تکمیل کی راہ دیکھتے رہ جاتے
ہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس کا جواب سابق سکرٹری
داخلہ اور مشہور مصنف روئیداد خان نے آسان الفاظ
میں یوں دیا ہے کہ پاکستان کی سیاست بالغ نہیں ہوئی
بچوں کے ہاتھوں میں کھلونے کی طرح ہے، بچہ چاہے تو
کھلونے کو پھینک دے چاہے توڑ دے چاہے رکھ دے
قومی سوچ، قومی اندز فکر سیاست میں داخل
نہیں ہوئی ہر سیاسی حکومت ہزاروں منصوبوں کو ادھورے چھوڑ دیتی ہے، ان کی نظر میں جانےوالی حکومت کا منصوبہ ہونا جرم ہے،یہ پتھر سیمنٹ سریے کا جرم ہے اس لئے اس منصوبے پر کام
بند کیا جاتا ہے صرف اس وجہ سے کہ جانے والی
حکومت نے کیوں شروع کیا تھا؟ بغض، کینہ اور
حسد کے اس مکروہ دھندے میں قومی دولت ضائع ہو جاتی ہے عوامی مفاد کے منصوبے ضائع ہو جاتے ہیں، چترال ٹاؤن کے عین وسط میں
بڑی شاہراہ پر واقع چترال جوڈیشل کمپلیکس
کی چھت جنازوں کے لئے استعمال ہوتی ہے جبکہ نیچے گراؤنڈ فلور کے کھنڈرات میں
کتے اور بلیاں بچے دیتی ہیں ہیروئین اور آئس کا نشہ کرنے والے دیواروں کی اوٹ لیکر
اپنی موت کا انتظار کرتے ہیں اسی طرح لاوی پراجیکٹ کا ٹنل جہاں ختم ہوتا ہے وہ
بجلی گھر کا سائٹ ہے اور برلب سڑک واقع
ہے۔ ہر روز پشاور سے آنے والے ہزاروں سیاح اس پراجیکٹ کے ویراں کھنڈرات کو دیکھ
کر افسوس کرتے ہیں اگر کوئی پوچھے کہ یہ منصوبہ کیوں بند ہوا تو جواب ملتا ہے کہ
"خان آیا تھا”
​تیسرا منصوبہ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال بونی کی اپ
گریڈیشن کا تھا 14-2013 کے بجٹ میں اس کا پی سی ون بھی شامل تھا مگر نئی حکومت نے ڈراپ کر دیا۔ پھر
13 سالوں تک انہی لوگوں کی حکومت رہی بونی
ہسپتال کو کیٹیگری بی کا درجہ نہ مل سکا یہ ظلم کیوں ہواجواب یہ ہے کہ "خان آیا تھا” گورنر راج کے دوران
عوامی مفاد اور قومی مفاد کو ترجیح دی جا رہی ہے
اس لئے ہم چترال کا مقدمہ پیش کرتے ہوئے مذکورہ منصوبوں کو دوبارہ سرسبز کرکے اے ڈی پی میں شامل کرنے کی استدعا کرتے ہیں

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button