مدرسہ عثمانیہ گلشن آباد چمرکن میں روح پرور تقریبِ دستار بندیِ حفاظِ کرام قرآنِ کریم سے وابستگی، علم و عمل کی آبیاری اور روشن مستقبل کے معماروں کی حوصلہ افزائی

چمرکن، چترال: قرآنِ کریم کی تلاوت سے معطر فضا، حمد و نعت کی دل نشیں صدائیں، علمائے کرام کی پُراثر گفتگو، حفاظِ قرآن کے سروں پر دستارِ فضیلت اور حاضرین کے دلوں میں ایمان و روحانیت کی تازگی؛ یہ ایمان افروز مناظر مدرسہ عثمانیہ، گلشن آباد چمرکن میں منعقدہ سالانہ تقریبِ دستار بندیِ حفاظِ کرام کی خوب صورت یادگار بن گئے۔ اس بابرکت تقریب میں قرآنِ مجید حفظ کرنے والے سات حفاظِ کرام کی دستار بندی کی گئی، جبکہ نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ کو خصوصی انعامات سے نواز کر ان کی حوصلہ افزائی کی گئی۔
یہ تقریب محض چند طلبہ کی دستار بندی کا اجتماع نہیں تھی، بلکہ قرآنِ عظیم الشان سے محبت، دینی تعلیم کی اہمیت، اساتذہ کی بے لوث محنت، والدین کی قربانیوں اور نئی نسل کی دینی و اخلاقی تربیت کے عزم کی ایک خوب صورت تصویر تھی۔
مدرسہ عثمانیہ کا تعارف اور علمی و دینی خدمات
مدرسہ عثمانیہ گلشن آباد چمرکن کی بنیاد اگست 1999ء میں حضرت مولانا حافظ قاری حبیب الرحمٰن صاحب دامت برکاتہم نے رکھی، جو دارالعلوم کراچی کے فاضل ہیں۔ آپ نے 1998ء میں دینی تعلیم سے فراغت اور دورۂ حدیث کی تکمیل کے بعد کچھ عرصہ کراچی میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ بعد ازاں اپنے علاقے میں دینی تعلیم و تربیت کی شمع روشن کرنے کے جذبے کے تحت چمرکن تشریف لائے اور مدرسہ عثمانیہ کی بنیاد رکھ کر اپنی زندگی کو قرآن و سنت کی تعلیم و اشاعت کے لیے وقف کر دیا۔
الحمدللہ! آپ کی مسلسل محنت، اخلاص، للہیت اور شبانہ روز جدوجہد کے نتیجے میں یہ ادارہ دینی تعلیم و تربیت کا ایک معتبر مرکز بن چکا ہے۔ آپ کی زیرِ سرپرستی اور زیرِ تربیت سینکڑوں طلبہ حفظِ قرآنِ کریم کی سعادت حاصل کر چکے ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں طلبہ نے ناظرۂ قرآن اور ترجمۂ قرآن کی تعلیم بھی مکمل کی ہے۔ ان میں سے متعدد فضلاء اور حفاظ ملک کے مختلف علاقوں میں قرآنِ مجید کی تعلیم و اشاعت کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔
یہ کسی بھی دینی ادارے کا عظیم سرمایہ ہے کہ وہاں سے فارغ ہونے والے طلبہ نہ صرف اپنے سینوں میں قرآنِ کریم محفوظ کرتے ہیں، بلکہ اپنے کردار، اخلاق اور عملی زندگی کے ذریعے اس کی تعلیمات کو عام کرنے کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔
علمائے کرام اور معزز مہمانوں کی شرکت
تقریب کی صدارت امیرِ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، حلقہ چمرکن، حضرت قاری محمد یوسف صاحب نے فرمائی۔ اس موقع پر استاذ العلماء، استاذ القراء، مسؤل وفاق المدارس العربیہ، ضلع لوئر چترال، حضرت قاری عبدالرحمن قریشی صاحب نے بطورِ خاص شرکت فرمائی اور اپنی بابرکت موجودگی سے محفل کی رونق میں اضافہ کیا۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی اور مقررین میں پروفیسر مفتی عتیق الرحمٰن صاحب، گورنمنٹ ڈگری کالج (بوائز) چترال، اور حضرت مولانا مفتی میر حسام الدین صاحب، سینئر اسلامیات ٹیچر، ہائی سیکنڈری سکول (بوائز )ایون تھے۔
بطورِ میزبان مولانا محمد قاسم صاحب کا پُرخلوص اظہارِ تشکر
مہمان علمائے کرام کے خطابات سے قبل بطورِ ایک میزبان کی حیثیت سے مولانا محمد قاسم صاحب نے مختصر مگر پُرخلوص خطاب کیا۔ آپ نے اپنی طرف سے، دیگر حفاظِ کرام کے والدین کی جانب سے اور تمام شرکائے تقریب کی طرف سے معزز علمائے کرام، بالخصوص استاذ العلماء، استاذ القراء حضرت قاری عبدالرحمن قریشی صاحب، دیگر مہمان علمائے کرام، بزرگوں اور نوجوانوں کا تہِ دل سے شکریہ ادا کیا۔
آپ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج کی اس بابرکت محفل میں علمائے کرام اور معزز مہمانوں کی شرکت ہمارے لیے باعثِ سعادت و افتخار ہے۔ آپ حضرات نے اپنی گوناگوں مصروفیات سے قیمتی وقت نکال کر اس تقریب میں شرکت فرمائی، حفاظِ کرام کی حوصلہ افزائی کی اور قرآنِ کریم کے ساتھ اپنی والہانہ عقیدت و محبت کا عملی اظہار کیا۔ یہ ہمارے لیے اور ان بچوں کے والدین کے لیے نہایت خوشی اور اطمینان کا باعث ہے۔
مولانا محمد قاسم صاحب نے مزید عرض کیا کہ چونکہ وہ اس تقریب کے میزبان کی حیثیت رکھتےہیں کیونکہ ان کے اپنے فرزندسلمان قاسمی نے بھی حفظِ قرآنِ کریم کی تکمیل کی سعادت حاصل کی ہے، اس لیے وہ مناسب سمجھتے ہیں کہ اب زیادہ وقت معزز مہمان علمائے کرام کو دیا جائے تاکہ حاضرین ان کے علمی، اصلاحی اور قیمتی ارشادات سے مستفید ہو سکیں۔
آپ نے تمام حاضرین، خصوصاً مجلس میں تشریف فرما علمائے کرام اور مہمان علمائے کرام کا دوبارہ شکریہ ادا کیا اور ان کی آمد کو اپنے لیے اور تمام حفاظِ کرام کے خاندانوں کے لیے باعثِ عزت و مسرت قرار دیا۔ آپ کے اس پُرخلوص اظہارِ تشکر نے محفل میں باہمی محبت، احترام اور قدر شناسی کے جذبات کو مزید تقویت بخشی۔
تقریب میں نظامت کے فرائض
اس پروقار میں اسٹیج سیکرٹری کے فرائض حضرت مولانا قاری حبیب الرحمن صاحب نے خود انجام دیئے ۔
ابتدا میں تمام مہمانوں اور حاضرین کوخوش آمدید کہا ،مدرسے کامختصر تعارف پیش کیا تقریب کا آغاز مدرسے کےشعبہ ناظرہ کےاستاذ قاری حضر حیات صاحب کی خوبصورت تلاوت کلام پاک سے ہوا ۔
نوجوان نسل کے مسائل اور قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی
تقریب کے مقررین نے اپنے خطابات میں وقت کے اہم تقاضوں، نوجوان نسل کو درپیش فکری و اخلاقی چیلنجز، دینی تربیت کی ضرورت اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کی اہمیت پر جامع اور دل نشیں انداز میں اظہارِ خیال کیا۔
مہمانِ خصوصی مولانا مفتی پروفیسر عتیق الرحمٰن صاحب نے اپنے پُراثر خطاب میں نوجوان نسل کو درپیش مسائل پر خصوصی توجہ دلائی۔ آپ نے موبائل فون اور جدید ذرائع ابلاغ کے بڑھتے ہوئے استعمال، نوجوانوں اور علمائے کرام کے درمیان پیدا ہونے والے فاصلے اور سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلنے والے گمراہ کن افکار کے حوالے سے اہم نکات بیان کیے۔ آپ نے اس امر پر زور دیا کہ انسٹاگرام، یوٹیوب، فیس بک اور انٹرنیٹ جیسے ذرائع کو بے مقصد سرگرمیوں اور نقصان دہ رجحانات کے بجائے علم، اصلاح، دعوت، تربیت اور مثبت مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔
آپ نے نام نہاد اسکالرز اور ایسے عناصر سے بھی خبردار کیا جو جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعے نوجوانوں کے ذہنوں کو غیر محسوس انداز میں متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آپ کے خطاب کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ نوجوان جدید دور کے تقاضوں سے آگاہ ضرور ہوں، لیکن اپنی دینی شناخت، اسلامی اقدار اور اخلاقی بنیادوں سے کبھی غافل نہ ہوں۔
مفتی عتیق الرحمٰن صاحب نے عبادات کی پابندی، تلاوتِ قرآنِ کریم، والدین کی خدمت، بڑوں کے ادب و احترام، اساتذہ کی عزت اور حسنِ اخلاق کو ایک مسلمان نوجوان کی شخصیت کے بنیادی اوصاف قرار دیا۔ آپ نے اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی کہ علم کی حقیقی خوب صورتی اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب وہ انسان کے کردار، رویّے اور عملی زندگی میں نمایاں ہو۔
حضرت مولانا مفتی میر حسام الدین صاحب نے بھی قرآنِ عظیم الشان کے پیغام، دینی مدارس کی اہمیت، حفظِ قرآن کی عظیم سعادت اور دستار بندی کے حقیقی مفہوم پر روشنی ڈالی۔ آپ نے نوجوانوں کو اس بات کی ترغیب دی کہ وہ قرآنِ کریم کو محض پڑھنے یا حفظ کرنے تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اس کی تعلیمات کو سمجھنے، ان پر عمل کرنے اور اپنی زندگیوں میں نافذ کرنے کی کوشش کریں۔والدین پر زور دیا کہ اب والدین پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ حفاظ کی بہترین انداز میں نگرانی کریں۔
آپ نے اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ حفاظِ قرآن کے سروں پر سجنے والی دستار صرف ایک اعزاز نہیں، بلکہ ایک عظیم ذمہ داری کی علامت بھی ہے۔ اس سعادت کا تقاضا ہے کہ حفاظِ کرام اپنے اخلاق و کردار سے قرآنِ مجید کی تعلیمات کی عملی تصویر بنیں اور معاشرے میں خیر، محبت، امن اور اصلاح کا پیغام عام کریں۔
سات حفاظِ کرام کی دستار بندی، ایک روح پرور منظر
تقریب کا سب سے اہم اور ایمان افروز مرحلہ حفاظِ کرام کی دستار بندی کا تھا۔ جب قرآنِ مجید حفظ کرنے والے طلبہ کے سروں پر دستارِ فضیلت سجائی گئی تو حاضرین کے چہروں پر خوشی، مسرت اور تشکر کے جذبات نمایاں تھے۔ یہ منظر ان والدین کے لیے بھی باعثِ مسرت و افتخار تھا جنہوں نے اپنے بچوں کو قرآنِ کریم کی تعلیم دلانے کے لیے محنت، وقت اور قربانیوں کا سرمایہ پیش کیا۔
اس موقع پر استاذ العلماء، استاذ القراء حضرت قاری عبدالرحمن قریشی صاحب نے حفاظِ کرام سے ان کا آخری سبق سماعت فرمایا۔ یہ بابرکت مرحلہ اساتذہ کی محنت، طلبہ کی مسلسل جدوجہد اور قرآنِ کریم کے ساتھ ان کے تعلق کی یادگار تھا۔
حمدِ باری تعالیٰ اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ نے بھی محفل کو روحانیت اور محبتِ رسول ﷺ کے رنگ میں رنگ دیا۔ طلبہ نے خوب صورت آوازوں میں حمد و نعت پیش کرکے حاضرین کے دل موہ لیے اور تقریب کی فضا کو مزید پُرسوز اور دل نشیں بنا دیا۔
نمایاں کارکردگی پر تین طلبہ کے لیے خصوصی انعامات
مدرسہ عثمانیہ میں دینی تعلیم کے ساتھ طلبہ کے نظم و ضبط، صفائی، پابندیِ حاضری، حسنِ اخلاق اور عمدہ تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ اسی سلسلے میں تین طلبہ کو ان کی نمایاں کارکردگی اور مثالی رویّے کی بنیاد پر خصوصی انعامات سے نوازا گیا۔
1۔ مفتی سلمان قاسمی بن مولانا محمد قاسم صاحب
مفتی سلمان قاسمی نے محض نو ماہ کے مختصر عرصے میں قرآنِ کریم حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی۔ ان کی یہ کامیابی غیر معمولی محنت، توجہ، مستقل مزاجی اور اساتذہ کی محنت کا مظہر ہے۔ وہ دورانِ تعلیم مسلسل مدرسے میں حاضر رہے اور ان کی حاضری، نظم و ضبط، صفائی ستھرائی اور اعلیٰ اخلاقی رویّے نے انہیں نمایاں مقام عطا کیا۔ مدرسے کے قواعد و ضوابط کی پابندی اور تعلیمی ماحول سے بھرپور وابستگی کے اعتراف میں انہیں خصوصی انعام سے نوازا گیا۔
2۔ عدنان کریم بن فضل کریم صاحب
عدنان کریم نے بھی مختصر مدت میں قرآنِ عظیم الشان حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی۔ وہ پابندیِ حاضری، نظم و ضبط، صفائی اور مدرسے کے قواعد و ضوابط کی پاسداری میں نمایاں رہے۔ ان کی محنت، مستقل مزاجی اور ذمہ دارانہ رویّے کو سراہتے ہوئے انہیں خصوصی انعام دیا گیا۔
3۔ محمد حمید بن مولانا حزب اللہ صاحب
محمد حمید اگرچہ ابھی حفظِ قرآن کے مراحل میں ہیں، تاہم وہ اپنی ذہانت، پابندیِ حاضری، صفائی ستھرائی، نظم و ضبط اور عمدہ تعلیمی رویّے کی وجہ سے نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ مدرسے کے قواعد و ضوابط کا خیال رکھنے اور تعلیم کے ساتھ سنجیدہ وابستگی پر انہیں بھی خصوصی انعام سے نوازا گیا۔
ان طلبہ کی حوصلہ افزائی اس بات کی علامت ہے کہ مدرسہ عثمانیہ میں تعلیم کے ساتھ تربیت، حفظ کے ساتھ اخلاق اور علمی کامیابی کے ساتھ نظم و ضبط کو بھی یکساں اہمیت دی جاتی ہے۔ بلاشبہ، ایسے اقدامات طلبہ میں خود اعتمادی، شوقِ علم اور بہتر کارکردگی کے جذبے کو پروان چڑھاتے ہیں۔
حضرت قاری حبیب الرحمٰن صاحب کی تربیتی خدمات
کسی بھی تعلیمی ادارے کی اصل پہچان صرف اس کی عمارت یا طلبہ کی تعداد نہیں ہوتی، بلکہ اس کے اساتذہ کا اخلاص، ان کی تربیت اور ان کے شاگردوں کے کردار میں نظر آنے والی تبدیلی ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے حضرت مولانا حافظ قاری حبیب الرحمٰن صاحب کی خدمات قابلِ تحسین ہیں۔
آپ نے مدرسہ عثمانیہ کو محض تعلیم دینے کا مرکز نہیں بنایا، بلکہ طلبہ کی دینی، اخلاقی اور عملی تربیت کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل رکھا ہے۔ طلبہ کو عبادات کی پابندی، والدین کی خدمت، اساتذہ کے احترام، صفائی، نظم و ضبط اور معاشرے میں اچھا کردار ادا کرنے کی تلقین آپ کی تربیتی فکر کا اہم حصہ ہے۔
آپ کی شخصیت میں علمی وابستگی، سادگی، تقویٰ، پرہیزگاری اور خدمتِ دین کا جذبہ نمایاں ہے۔ آپ نے اپنی مسلسل محنت کے ذریعے ایک ایسی علمی و تربیتی فضا قائم کرنے کی کوشش کی ہے جس میں طلبہ قرآنِ کریم کی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ عملی زندگی کے لیے بھی رہنمائی پاتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ایک مخلص استاد کی محنت کا ثمر صرف امتحانات یا اسناد کی صورت میں نہیں ملتا، بلکہ اس کے شاگردوں کے اخلاق، کردار، عبادات اور معاشرتی رویّوں میں بھی نظر آتا ہے۔ مدرسہ عثمانیہ کی یہ روایت قابلِ قدر ہے کہ یہاں طلبہ کی علمی ترقی کے ساتھ ان کی شخصی تعمیر پر بھی توجہ دی جاتی ہے۔
دعا، شکر اور ضیافت کے ساتھ تقریب کا اختتام
تقریب کے اختتامی مرحلے میں صدرِ مجلس حضرت قاری محمد یوسف صاحب نے اپنے صدارتی خطاب میں حفاظِ کرام، نوجوان نسل اور تمام مسلمانوں کو قرآنِ کریم کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط رکھنے کی تلقین کی۔ آپ نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر ادا کرنے، دعاؤں کا اہتمام کرنے اور قرآنِ مجید کی تعلیمات کو زندگی کا حصہ بنانے کی اہمیت اجاگر کی۔
بعد ازاں دعا کے ساتھ اس روح پرور تقریب کا اختتام ہوا۔ تمام معزز مہمانوں اور شرکائے تقریب کے لیے ضیافت کا بھی اہتمام کیا گیا، جس سے باہمی محبت، اخوت اور احترام کی خوب صورت روایت مزید مضبوط ہوئی۔
ایک روشن روایت، ایک مبارک مشن
مدرسہ عثمانیہ گلشن آباد چمرکن کی سالانہ تقریبِ دستار بندی اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ قرآنِ کریم کی خدمت دراصل انسانیت کی فکری، اخلاقی اور روحانی تعمیر کی خدمت ہے۔ یہ ادارہ اپنے محدود وسائل کے باوجود جس جذبے، محنت اور تسلسل کے ساتھ دینی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری ادا کر رہا ہے، وہ قابلِ تحسین اور قابلِ تقلید ہے۔
آج جب نوجوان نسل کو فکری انتشار، اخلاقی کمزوریوں اور سوشل میڈیا کے غیر محتاط استعمال جیسے مختلف چیلنجز کا سامنا ہے، ایسے میں دینی مدارس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ یہ ادارے نئی نسل کو قرآن و سنت کی روشنی میں زندگی گزارنے، اپنے فرائض پہچاننے، والدین و اساتذہ کا احترام کرنے اور معاشرے کے لیے مفید فرد بننے کی تعلیم دیتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ حضرت مولانا حافظ قاری حبیب الرحمٰن صاحب کی دینی و تدریسی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، مدرسہ عثمانیہ گلشن آباد چمرکن کو دن دگنی رات چوگنی ترقی نصیب فرمائے، اس ادارے کو علم و عمل کا روشن مرکز بنائے، یہاں سے فارغ ہونے والے حفاظ و طلبہ کو قرآنِ کریم کا سچا خادم بنائے اور تمام اساتذہ، طلبہ، والدین اور معاونین کو بہترین اجر عطا فرمائے۔
اللہ تعالیٰ ان حفاظِ کرام کے سینوں میں محفوظ کلامِ الٰہی کو ان کے لیے دنیا و آخرت میں نور و ہدایت کا ذریعہ بنائے، انہیں قرآنِ کریم پر عمل کرنے اور اس کے پیغام کو عام کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ان کے والدین و اساتذہ کی محنتوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔









