داد بیداد۔۔امریکہ کے بغیر ۔۔ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی

چند سال پہلے یہ بات ناممکن لگتی تھی کہ دنیا امریکہ کو چھوڑ کر آگے بڑھے گی ایک سال پہلے امریکہ نے سلامتی کونسل میں غزہ کے فلسطینی مسلمانوں پر حملے بند کرنے کی قرارداد کو آٹھویں بار ویٹو کردیا توچینی نمائیندے نے نہایت شائستہ اور جچے تُلے انداز میں کہا کہ ”اب وقت آگیا ہے جب دنیا امریکہ کے بغیر آگے بڑھے گی“ یہ بات پوری دنیا نے سن لی مگر کسی کو اس پر یقین نہیں آیا یہاں تک کہ 2026ء کا سال سرپر آیا اور دنیا نے دیکھ لیا کہ اب امریکہ کے بغیر آگے بڑھنا ہوگا آپ اندازہ کریں کہ امریکہ کے خلاف جو آواز ایران، افغانستان، عراق، شام، فلسطین، لبنان، تیونس اور یمن سے اُٹھتی تھی اب وہ آواز فرانس، جرمنی، برطانیہ،ڈنمارک،گرین لینڈاور کینڈا سے اُٹھ رہی ہے آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ امریکہ 38کھرب ڈالر کا مقروض ہے جس میں سے 22کھرب ڈالر جاپان کا قرض ہے 10کھرب ڈالر عوامی جمہوریہ چین کا قرض ہے، باقی 6کھرب ڈالر افریقہ کے دولت مند ملکوں کاقرض ہے اور یہ قرض امریکہ کی کل معیشت کا 83فیصد ہے اگر کسی دن امریکہ دیوالیہ ہوگیا تو ڈالر کا بیڑہ غرق ہوجائے گا، اقوام متحدہ، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک پر امریکہ کی اجا رہ داری ختم ہو جائیگی سلا متی کونسل کی مستقل رکنیت اور ویٹو پاور امریکہ سے واپس لی جائیگی یوں دنیا امریکہ کے بغیر آگے بڑھے گی چندہی سالوں میں یہ کیسے ممکن ہوا؟اس کے لئے فارسی کے بے بدل فلسفی، حکیم اور شاعر شیخ مصلح الدین سعدی شیرازی متوفی 1291ء کی لکھی ہوئی حکا یت پرغور کرنا ہوگا حکایت یوں آئی ہے کہ ایک غنڈہ شریف لوگوں کو لات مارکر بھتہ وصول کرتاتھا ایک دن اُس نے سعدی شیرازی کو لات مار کر بھتہ مانگنے لگا، بے چارے شاعر نے اُس کا شکریہ ادا کر کے دو چار اشرفیاں اُس کو دینے کے بعد شہر کے بڑے رئیس کی طرف اشارہ کرکے کہا اُس کو لات ماروگے تو بڑی دولت ملے گی غنڈے نے یہ بات پلے باندھ لی اور موقع پا کر رئیس کو لات ماری تو رئیس کے کارندوں نے مارمار کر اس کا کچو مر نکال دیا یہی حال امریکہ بہادر کا ہوا ہے اُس نے افغانستان اور عراق سمجھ کر وینز ویلا کے صدر پر ہاتھ اُٹھایا، گرین لینڈ کو دھمکی دیدی،ایران اور ڈنمارک کو آنکھ دکھائی پھر یوں ہوا کہ وقت نے پلٹا کھایا جنوبی امریکہ جاگ اٹھاچین نے انگڑائی لی،روس اور جاپا ن نے سر اُٹھایا، کینڈا کے وزیر اعظم نے امریکی صدر کو للکارا سونے کا نرخ بازار میں ڈالرسے دگناہوگیا پوری دنیا میں امریکہ کے خلاف محاذ کھل گیا مسلمانوں کے سوا سب کو یقین آگیا کہ امریکہ کے بغیر دنیا آگے بڑھنے والی ہے مایوسی کے عالم میں امریکہ نے ابراہام کارڈ کا شوشہ چھوڑا جو ناکام ہوا، پھرامریکہ نے ”فرینڈز آف پیس“ کا جعلی منصوبہ پیش کیا، کسی معقول حکومت نے اس پربھروسہ نہیں کیاآخری حر بہ یہ ہے کہ غزہ کی فلسطینی بستی پرامریکی قبضے کے لئے مسلمانوں کی فوج غزہ بھیجی جائے تاکہ یہودی سپاہی کی جگہ مسلمان سپاہی مسلمان فلسطینی سے لڑتے ہوئے مارا جائے مگر چین،یورپ اور افریقہ نے دو ٹوک اعلان کیا ہے کہ ہم ایسا ہونے نہیں دینگے حرف آخر یہ ہے کہ امریکہ کی موجودگی میں امن قائم نہیں ہوسکتا، اگر دنیا میں امن قائم کرنا کسی کا خواب ہے تو یہ خواب امریکہ کے بغیر ہی شرمندہ تعبیر ہوسکتاہے چینی قیادت کی یہ بات سو فیصد درست ہے کہ دنیاامریکہ کے بغیر آگے بڑھ سکتی ہے۔


