مضامین

جشنِ شندور 2026: میرٹ، روایت اور چیلنجز کا امتحان

جشنِ شندور 2026: میرٹ، روایت اور چیلنجز کا امتحان۔۔ بشیر حسین آزاد۔۔
شندور پولو فیسٹیول کا شیڈول 2026 کے لیے 11 جون سے 13 جون تک اعلان ہو چکا ہے، اور اس اعلان کے ساتھ ہی چترال کے پولو کھلاڑیوں میں ایک نئی ہلچل، جوش اور تجسس پیدا ہو گیا ہے۔ شندور صرف ایک کھیل نہیں بلکہ چترال اور گلگت بلتستان کی مشترکہ ثقافت، روایت اور شناخت کا مظہر ہے۔ دنیا کے بلند ترین پولو گراؤنڈ پر ہونے والا یہ مقابلہ ہر کھلاڑی کا خواب ہوتا ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائے۔
جشن شندور سے قبل روایتی طور پر پری شندور پولو ٹورنامنٹ کا انعقاد کیا جاتا ہے، جس میں تقریباً 60 ٹیمیں اور 360 کے لگ بھگ کھلاڑی حصہ لیتے ہیں۔ یہ مرحلہ بظاہر ایک کھیل کا حصہ ہے، لیکن درحقیقت سلیکشن کمیٹی کے لیے ایک کڑا امتحان ہوتا ہے۔ درجنوں باصلاحیت کھلاڑیوں میں سے چند کا انتخاب کرنا نہایت مشکل اور حساس عمل ہے۔
تاہم ماضی میں اس عمل پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ کئی مواقع پر ایسے فیصلے دیکھنے میں آئے جو حیران کن اور متنازعہ قرار دیے گئے۔ قابل اور تجربہ کار کھلاڑیوں کو نظر انداز کرنے کے الزامات لگے، جبکہ بعض اداروں جیسے چترال پولیس، چترال اسکاؤٹس اور لیویز کے نمایاں پولو پلئیرز بھی ٹیم کا حصہ نہ بن سکے۔ اس صورتحال نے نہ صرف کھلاڑیوں بلکہ شائقین میں بھی بے چینی کو جنم دیا۔
پولو چترال کا صرف ایک کھیل نہیں بلکہ صدیوں پرانی روایت اور ثقافتی ورثہ ہے۔ یہاں کا فری اسٹائل پولو اپنی تیزی، جوش اور روایتی انداز کی وجہ سے دنیا بھر میں منفرد مقام رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کھیل میں کسی بھی قسم کی اقربا پروری یا سیاسی مداخلت نہ صرف کھیل بلکہ پورے خطے کی ثقافت کے ساتھ ناانصافی سمجھی جاتی ہے۔
سلیکشن کے عمل میں چند بنیادی عوامل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا:
کھلاڑی کی موجودہ کارکردگی
فٹنس اور تجربہ
ذاتی گھوڑا اور اس کی کارکردگی
ٹیم ورک اور میدان میں ہم آہنگی
اگر ان اصولوں کو نظر انداز کر کے پسند و ناپسند کی بنیاد پر فیصلے کیے جائیں تو اس کے نتائج نہ صرف ٹیم کی کارکردگی بلکہ پورے میلے کی ساکھ پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر، کمشنر ملاکنڈ اور پولو ایسوسی ایشن پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس تاریخی کھیل کو ہر قسم کی سیاست اور دباؤ سے پاک رکھیں۔ شفاف اور میرٹ پر مبنی سلیکشن ہی شندور کی اصل روح کو برقرار رکھ سکتی ہے۔ بصورت دیگر، ماضی کی طرح اعتراضات اور تنقید ایک بار پھر جنم لے سکتی ہے، جو علاقے کی بدنامی کا سبب بنے گی۔
شندور کا میدان خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ خطرناک بھی ہے۔ سخت مقابلوں کے دوران کھلاڑیوں کے زخمی ہونے کے واقعات عام ہیں۔ ماضی میں مناسب طبی سہولیات اور بروقت امداد نہ ہونے کے باعث کئی کھلاڑیوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
اس سال ضروری ہے کہ:
ایمرجنسی ہیلی کاپٹر سروس فراہم کی جائے
زخمی کھلاڑیوں کو فوری طور پر پشاور یا راولپنڈی منتقل کیا جائے
علاج معالجے کے اخراجات حکومت برداشت کرے
کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ شندور فیسٹیول کی کامیابی کھلاڑیوں سے وابستہ ہے۔
ہر سال ایک بڑا مسئلہ وی آئی پی کلچر بھی رہا ہے، جہاں عام شائقین کو میچ دیکھنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسٹیج اور نشستوں پر بااثر افراد کا قبضہ ہو جاتا ہے جبکہ بزرگوں، سابق کھلاڑیوں اور دعوت نامہ رکھنے والوں کو بھی نظر انداز کیا جاتا ہے۔
اس سال انتظامیہ کو چاہیے کہ:
نشستوں کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنائے
عام شائقین کے لیے بہتر انتظامات کرے
وی آئی پی کلچر کو محدود کرے
شندور فیسٹیول صرف ایک مقابلہ نہیں بلکہ چترال اور گلگت بلتستان کے درمیان بھائی چارے کی علامت ہے۔ ضروری ہے کہ اس کھیل کو کھیل کے جذبے کے تحت کھیلا جائے، نہ کہ دشمنی یا تعصب کے ساتھ۔ امن، برداشت اور رواداری ہی اس میلے کی اصل خوبصورتی ہے۔
جشن شندور 2026 ایک بار پھر چترال اور گلگت بلتستان کے لیے اپنی ثقافت، کھیل اور اتحاد کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا موقع ہے۔ اگر سلیکشن میرٹ پر ہو، کھلاڑیوں کو سہولیات میسر ہوں اور انتظامات شفاف ہوں، تو یہ میلہ نہ صرف کامیاب ہوگا بلکہ اپنی روایت کو مزید مضبوط کرے گا۔
یہ وقت ہے کہ تمام متعلقہ ادارے، کھلاڑی اور عوام مل کر اس تاریخی ورثے کو سیاست اور ناانصافی سے بچائیں، تاکہ شندور کا میدان ہمیشہ کی طرح کھیل، ثقافت اور بھائی چارے کی علامت بنا رہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button