کاوشات اقبال سے ایک ورق۔……اس زمین پر موجود ہر انسان مشقت میں ہے۔۔….

بنیادی طور پر ہم میں سے تقریبا ہر انسان مستقل طور پر اپنی زندگی کاموازنہ اپنے اردگرد موجود لوگوں کی زندگیوں سے کرتا رہتا ہے ہم انسانوں کا یہ طرز عمل نہ صرف ہمارے امتحان کو متاثر کر رہا ہے بلکہ ہماری زندگی کی خوشیوں کا ایک بڑا حصہ بھی اسی موازنے کی نظر ہو جاتا ہے ۔اپنی زندگی کا دوسرے لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ موازنہ کرنا بذات خود کوٸی بُری بات نہیں مگر ہم یہ موازنہ جانب داری کے ساتھ کرتے ہیں ہم میں سے ہر انسان اپنی اندرونی کیفیات کا موازنہ جانب داری کے ساتھ کرتے ہیں۔ہم میں سے ہر انسان اپنی اندرونی کیفیات کا م موازنہ دوسرے لوگوں کی ظاہری زندگی سے کرتا ہے
حالانکہ اگر ہمیں دوسرے انسانوں کے اندر جھانکنے کا موقع ملے تو معلوم ہوگا کہ اندر سے سبھی ڈرے سہمے بیٹھے ہیں کسی ایک انسان کی زندگی بھی مکمل نہیں ہے ہر انسان کے ساتھ کچھ نہ کچھ ایسی چیزیں لگی ہوٸی ہیں جو اس سے تنگ کرتی رہتی ہیں۔اس زندگی میں انسان کی مشقت میں مبتلا رکھا جاٸے گا یہی قانون فطرت ہے۔
اس زمین پر موجود ہر انسان مشقت میں ہے۔بس ایک انسان سے دوسرے انسان تک اس مشقت کی نوعیت اور ماہیت بدل جاتی ہے۔ایک انسان دوسرے انسان تک ان مشقت بھرے حالات کا مقابلہ کرنے کا طریقہ بدل جاتا ہے۔ہر انسان اس زندگی کو اپنے ہی طریقے سے دیکھتا اور استعمال کرتا ہے اندر سے سب انسان ایک جیسے ہیں فرق محض ظاہر میں ہے کچھ افراد اپنے اندر کی کیفیات کو زیادہ بہتر طور پر قابو کرنے کے اہل ہوتے ہیں تو کچھ کم۔۔
ہم اپنی اندرونی کیفیات کا موازنہ دوسرے انسانوں کی بیرونی اور ظاہری کیفیات کے ساتھ کرتے ہیں پھر جب ہم دوسرے انسانوں کے ظاہر کو اپنے باطن سےزیادہ پُرسکون اور بہتر حالت میں پاتے ہیں تو پھر ہمارے اندر بھی خود کو بدلنے کی خواہش جنم لیتی ہے۔پھر زندگی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کے لیے دوڑ لگاٸی جاتی ہے۔ہم انسانوں کے اس طرز عمل پھر ناشکری کے جزبات جنم لیتے ہیں۔پھر زندگی میں بہت کچھ ہونے کے باوجودخوشی موجود نہیں ہوتی۔پھر حرص اور لالچ انسانوں کی جڑوں میں بیٹھ جاتا ہے تو لالچی تو کتا ہوتا ہے
بہرحال یہ زندگی، زندگی نہیں ہےہماری حقیقی زندگی کا آعاز ابھی ہونا ہے۔یہ زندگی بس ایک امتحان ہے ایک دھوکا ہے ہمارا جسم ہمارا امتحان ہے ہمارے ماحول میں ہمارے ازماٸشیں موجود ہیں۔ہماری تمام رشتہ داریاں اور قرابت داریاں ہمارے لٸے آزماٸش ہیں اس زندگی میں بھی خوشیاں موجود ہیں مل سکتی ہیں مگر ہم۔۔۔۔۔اس زندگی کو ایک ریس بناکر ہم میں سے ہر فرد باقی تمام افراد کیلے مشکل سے مشکل تر کرتا چلا جا رہا ہے لیکن۔۔۔۔۔تو۔۔۔۔۔توکیا یہ زندگی۔۔۔۔۔واقعی ایک امتحان ہے؟اس لٸے۔۔۔۔۔۔اس زمیں میں۔۔۔رہنے والا ۔۔۔ہر انسان۔۔۔۔مشقت میں۔۔۔۔۔نہیں۔۔۔ ہے؟

