موبائل کی اسکرین میں قید بچپن — مسکراہٹیں کہاں کھو گئیں؟ ………. کاوشاتِ اقبال سے ایک ورق

بچوں کی تربیت صرف ایک ذمہ داری نہیں بلکہ ایک ایسا خوبصورت فن ہے، جس کے ذریعے ہم آنے والے کل کی نسل کو تراشتے ہیں۔ تعلیم ہمیں معلومات دیتی ہے، جب کہ تربیت ہمیں انسان بنا دیتی ہے۔ ایک بہترین اور کامیاب انسان بنانے کے لیے بچوں کی پرورش میں محبت، صبر اور درست سمت کا ہونا لازمی ہے۔ بچے وہ نہیں سیکھتے جو ہم انہیں کہتے ہیں، بلکہ وہ والدین کے عمل سے زیادہ سیکھتے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ بچے غصہ نہ کریں، سچ بولیں اور دوسروں کا احترام کریں تو سب سے پہلے والدین کو ان عادات کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔ گھر کا ماحول بچے کی پہلی درسگاہ ہے۔
بچوں کی پرورش بالکل ننھے پودے کی مانند ہے، جس کو روزانہ کے حساب سے پیار و محبت کا پانی، صبر کی روشنی اور توجہ و وقار کی کھاد چاہیے ہوتی ہے۔ آج ہم ان بچوں کی تربیت کی صورت میں جو وقت اور پیار و محبت لگائیں گے، اسی سے ایک گھنے اور سایہ دار درخت کی صورت میں پورے معاشرے کو فائدہ ہوگا۔
بچوں میں موبائل فون کی لت پڑ گئی ہے۔ اس کا کوئی ایک عنصر ذمہ دار نہیں ہے، بلکہ یہ والدین، ٹیکنالوجی کمپنیوں اور جدید ٹیکنالوجی کا مشترکہ نتیجہ ہے۔ بچے عمل میں والدین کو دیکھتے ہیں اور ان کی نقل اتارتے ہیں۔ اگر گھر کے سب افراد اکٹھے موبائل فون استعمال کرتے ہیں تو گھر کے بچے یہ عادت ضرور پکڑتے ہیں۔ اکثر والدین بچوں کو مصروف رکھنے، کھانا کھلانے یا اپنی جان خلاصی کے لیے خود بچوں کو موبائل فون کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں، جسے بعد میں بچے ماں کے دودھ سے زیادہ پسند کرنے لگتے ہیں۔ اس کے علاوہ، بچوں کو وقت دینے کے بجائے موبائل کے ذریعے وقت مہیا کرتے ہیں۔ یوٹیوب، ٹک ٹاک اور موبائل گیمز کو ایسے نفسیاتی انداز سے ڈیزائن کیا جاتا ہے اور انہیں اتنا دلچسپ بنایا جاتا ہے کہ وہ بچوں کے دماغ اور دل میں گھر کر لیتے ہیں اور بچوں کو مکمل سکون مہیا کرتے ہیں۔ اس کا مقصد موبائل ایپس پر صارفین کو زیادہ دیر تک مصروف رکھنا ہوتا ہے۔ موبائل کی لت بچوں میں کرونا اور سماجی دوری کے دور میں سب سے زیادہ بڑھی، جب موبائل ان کے لیے وقت گزارنے کا ذریعہ بن گیا۔
موبائل کا بے تحاشا استعمال دس سے پندرہ سال کے بچوں میں بڑی تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے، جس نے سنگین نوعیت اختیار کر لی ہے۔ یہ ان کی صحت اور جسمانی طاقت کو متاثر کر رہا ہے۔ اس عمر کے بچے سوشل میڈیا، گیمز اور ویڈیوز کے عادی بن جاتے ہیں، جو بچوں کی پڑھائی میں دلچسپی کی کمی اور کلاس روم میں عدم دلچسپی کا باعث بنتے ہیں۔ وہ چڑچڑے پن، ڈپریشن، گھبراہٹ، بے توجہی، نظر کی کمزوری، کمر اور گردن کے درد، نیند میں کمی، سماجی دوریوں، معاشرے سے کٹاؤ اور خودکشی کے رجحان جیسے مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں، جو موبائل کی لت سے جڑے ہوئے ہیں۔
آج ہم اپنے گھروں میں بچوں کی معصوم آوازوں، کھیلوں اور ماؤں کی لوریوں کو مکمل طور پر بھول چکے ہیں۔ ان کی جگہ موبائل کی آوازوں نے لے رکھی ہے۔
ہم بچوں کو چپ کرانے، کھانا کھلانے یا چند لمحوں کے سکون کی خاطر موبائل ہی کے ذریعے ان کے خواب، ان کی بینائی اور ان کے بچپن کی خوبصورت یادوں کو مٹا رہے ہیں۔ لیکن مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ پیار و محبت، شوق، وقت اور مستقل مزاجی سے اس عادت کو چھڑایا جا سکتا ہے۔ جب ہم بچوں کو وقت دیں تو گھر کے سب افراد موبائل ایک طرف رکھ دیں۔ بچوں کے سامنے موبائل کا استعمال نہ کریں۔ بچوں کو پارک لے جائیں یا کسی اور کھیل کے ذریعے ان کا دل بہلائیں۔
یاد رکھیں، موبائل چھڑانے کا عمل ایک دن کا نہیں بلکہ ایک سفر ہے۔ اس سفر میں غصے اور ڈانٹ کے بجائے محبت، صبر اور حوصلہ افزائی کو اپنا وتیرہ بنائیں۔ چلیے، آج ہی سے اپنے بچوں کو اس ڈیجیٹل دور کی گرفت سے آزاد کروا کر دوبارہ سچا اور مسکراتا بچپن لوٹا دیتے ہیں۔۔۔



