43

خیبرپختونخوا حکومت نے این ایف سی پر قومی اتفاق رائے کیلئے صوبائی حکومتوں سے رابطوں کا آغاز کر دیا۔مظفر سید ایڈوکیٹ

پشاور(نمائندہ ڈیلی چترال)خیبرپختونخوا حکومت نے نویں این ایف سی ایوارڈ کی تشکیل میں حد درجہ تاخیر اور اسکی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے، وفاق کو معاملے کی حساسیت کا احساس دلانے اور قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کیلئے صوبائی حکومتوں سے رابطوں کا آغاز کر دیا ہے صوبائی وزیر خزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ نے جو مہم کے پہلے مرحلے میں سندھ کا چناؤ کرتے ہوئے منگل کی رات قومی ائیرلائن سے کراچی پہنچے تھے بدھ کو سندھ سیکرٹریٹ میں مصروف ترین دن گزارا اور شام گئے تھے سندھ کے وزراء اور بیوروکریسی سے تفصیلی ملاقاتیں کیں جن میں قومی مالیاتی ایوارڈ، امن و امان اور مردم شماری کے علاوہ سی پیک سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے اس بات پر اتفاق پایا گیا کہ سی پیک خطے میں گیم چینجر منصوبہ ثابت ہو گا البتہ چھوٹے صوبوں کے مفادات کو پیش نظر رکھنا اور انکے تحفظات دور کرنا وسیع تر قومی مفاد کے ساتھ ساتھ خود فاقی حکومت کے حق میں بھی انتہائی بہتر ہو گا اس بات پر بھی اتفاق رائے پایا گیا کہ نئے این ایف سی ایوارڈ کے بروقت اعلان سے صوبوں کی مالی مشکلات ختم ہونے کے علاوہ سی پیک کیلئے انفراسٹرکچر اور سیکورٹی کے معاملات خوش اسلوبی سے نمٹانے میں بھی صوبائی حکومتیں عملی طور پر حصہ لینے کی پوزیشن میں ہونگی تاہم وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ سے جنکے پاس وزارت خزانہ کا قلمدان بھی ہے اندرون سندھ ترقیاتی دورے اور انکے ٹیلی فونک رابطے اور درخواست کے سبب مظفر سید ایڈوکیٹ کو وہاں اپنے قیام میں ایک روز کی توسیع بھی کرنا پڑی اور آج وزیراعلیٰ سندھ سے سی ایم ہاؤس کراچی میں ملاقات کے دوران مزید کئی امور زیرغور لانے اور مرکز کو صوبوں کو درپیش مسائل کے فوری اور پائیدار حل پر مائل کرنے کیلئے مشترکہ لائحہ عمل اپنانے کا امکان ہے سندھ کابینہ کے ارکان اور بیوروکریسی نے این ایف سی جیسے اہم اور حساس قومی ایشو پر اتفاق رائے کیلئے صوبائی رابطوں کا طریقہ اپنانے پر خیبرپختونخوا حکومت کی تعریف کی اور سندھ حکومت کی جانب سے بھی اس کے جواب میں اسی طرح کا انداز اپنانے اور وزارتی سطح پر خیبر پختونخوا کے دروں کا عندیہ دیا جس پر مظفر سید ایڈوکیٹ نے انہیں دورہ پشاور کی باضابطہ دعوت بھی دی اور واضح کیا کہ وہ اگلے مرحلے میں دیگر صوبوں کا دورہ بھی کر رہے ہیں جن میں بلوچستان اور پنجاب کے علاوہ گلگت بلتستان بھی شامل ہے مظفر سید ایڈوکیٹ کا استدلال تھا کہ ہمیں اپنے صوبے کے مفاد سے زیادہ قومی یکجہتی اور استحکام عزیز ہے اور اس مقصد کیلئے ہم ہر قسم کی قربانیاں دینے کو تیار ہیں جس کا عملی مظاہرہ خیبر پختونخوا کی حکومت اور عوام افغانستان پر مشکل وقت آنے کے وقت لاکھوں افغان مہاجرین کی کئی عشروں تک میزبانی اور بعد ازاں دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ اور آئی ڈی پیز کی کفالت کی صورت میں کرتے آرہے ہیں تاہم وفاق کی طرف سے تمام اکائیوں سے یکساں اور عادلانہ سلوک بھی ناگزیر ہے نہ کہ انکی حق تلفی ہواور مرکز انکے مسائل سے غافل ہونے پائے اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے غیر رسمی بات چیت میں وزیر خزانہ خیبرپختونخوا کا مزیدکہنا تھا کہ ہمارا صوبہ بے پناہ قدرتی وسائل اور قیمتی معدنیات سے مالامال ہوتے ہوئے بھی پسماندہ اور مفلوک الحال ہے مگر ان وسائل کے تمام فوائد مرکز لے رہا ہے ہم اپنے لامحدود گیس ذخائر کے علاوہ ملک کی 55فیصد تیل ضروریات بھی پورے کر رہے ہیں جن سے کھربوں روپے قیمتی غیرملکی زرمبادلہ کی بچت ہوتی ہے مگر وفاقی حکومت ہمیں چھ فیصد ایکسائز ڈیوٹی دینے کا بھی روادار نہیں حالانکہ یہ معاملات ہمارے غریب عوام کی زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکے ہیں ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پرویز خٹک کی زیر قیادت ہماری اتحادی حکومت اگلے عام انتخابات تک قائم و دائم رہے گی ہمارے اتحاد میں پھوٹ ڈالنے کا سوچنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں اسطرح کی تمام سازشیں وقت کے ساتھ خودبخود د م توڑ جائیں گی۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں