تازہ ترین
Home >> تازہ ترین >> خشکی اور بال گرنے کے اسباب

خشکی اور بال گرنے کے اسباب

خواتین یہ بات اچھی طرح جانتی ہیں کہ خشکی (بفا) بالوں کی دشمن ہے ۔ اس کی وجہ سے بالوں کی خوبصورتی ماند پڑجاتی ہے اور بال جھڑنے لگتے ہیں۔ خشکی ایک ایسی پریشانی ہے، جس سے خواتین ہی نہیں، بلکہ مرد بھی عمر کے کسی نہ کسی حصے میں دوچار ہوتے ہیں۔ خشکی دیکھنے میں ہی بری نہیں لگتی ، بلکہ یہ بے چینی کا باعث بھی ہوتی ہے اور سر میں خارش کی وجہ بھی ۔

نسرین شاہین :
خواتین یہ بات اچھی طرح جانتی ہیں کہ خشکی (بفا) بالوں کی دشمن ہے ۔ اس کی وجہ سے بالوں کی خوبصورتی ماند پڑجاتی ہے اور بال جھڑنے لگتے ہیں۔ خشکی ایک ایسی پریشانی ہے، جس سے خواتین ہی نہیں، بلکہ مرد بھی عمر کے کسی نہ کسی حصے میں دوچار ہوتے ہیں۔ خشکی دیکھنے میں ہی بری نہیں لگتی ، بلکہ یہ بے چینی کا باعث بھی ہوتی ہے اور سر میں خارش کی وجہ بھی ۔
ہمارے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ سرمیں خشکی کیوں اور کیسے ہوتی ہے؟ دراصل قدرتی طور پر ہمارے جسم کی نئی جلد پرانی جلد کی جگہ لیتی رہتی ہے اور یہ عمل کھوپڑی میں بھی ہوتا ہے۔ کھال کے سب سے نچلے حصے میں جو خلیات (سیلز) ہوتے ہیں ، وہ رفتہ رفتہ اوپر آجاتے ہیں اور جیسے ہی یہ کھوپڑی کی اوپری سطح پر پہنچتے ہیں تو جھڑنے لگتے ہیں۔ یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے ۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ اس عمل میں اضافہ ہوجاتا ہے یا مردہ خلیات کھوپڑی سے جھڑنہیں پاتے اور گچھے کی شکل میں جمع ہونے لگتے ہیں۔ یہی خلیات خشکی کاباعث بنتے ہیں۔ ان کی زیادتی پھپوندی (فنگس) کو جنم دیتی ہے ، جو خشکی کو مزید بڑھانے کا سبب بنتی ہے۔
عام طور پرجب بال خشکی سے متاثر ہوتے ہیں توہماری کھوپڑی پر چھلکے بن جاتے ہیں اور یہ چھلکے دار ہوجاتی ہے۔ اگر خشکی شدید ہوتو پپڑیاں جم جاتی ہیں اور ان میں اس قدر خارش ہوتی ہے کہ سر کھجاتے کھجاتے کھوپڑی سرخ ہوجاتی ہے، پھر بھی ہاتھ سر سے نہیں ہٹتا۔ خشکی ہونے کا ایک اور سبب بھی ہوتا ہے مثلاََ نامناسب یا غیر معیاری شیمپو کااستعمال۔ اگر جلد کی ساخت کی مناسبت سے شیمپو استعمال نہ کیا جائے تو ردعمل کے طور پر کھوپڑی پر پپڑیاں بننے لگتی ہیں۔
زیادہ تیل لگانے سے بھی پھپوندی کو پنپنے کا موقع ملتا ہے ۔ تیل لگانے سے اگرچہ شروع میں خشکی کے چھلکے کم ہوجاتے ہیں ، مگر چوں کہ یہ تیل کی وجہ سے کھال سے چپک جاتے ہیں، اس لیے خشکی میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ جلد میں زیادہ تیل کی موجودگی بھی خشکی کاسبب بنتی ہے۔ ایسا عموماََ نوعمری کے زمانے میں ہوتا ہے ۔ جن افراد کی جلد میں تیل کی مقدار بڑھ جاتی ہے ، وہ کیل مہاسوں کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ اس عمر میں تھوڑی بہت سر میں خشکی عام طور پر ہوجاتی ہے، اس لیے کہ جسم میں تبدیلی واقع ہورہی ہوتی ہے۔ یہ سلسلہ بیس سے پچیس سال کی عمر تک چلتا ہے، اس کے بعد خود بخود ختم ہوجاتا ہے۔ کھوپڑی ضرورت سے زیادہ خشک ہوجائے تو خشکی جنم لیتی ہے۔
جلد کی طرح کھوپڑی کی کھال بھی مختلف جلدی بیماریوں کا شکار ہوجاتی ہے، مثلاََ سر میں پیپ والے دانوں ، پھپوندی والے تعدیے (انفیکشن) ، بیکٹیریا کے تعدیے اور خارش وغیرہ کاہوجانا۔ ذہنی وجسمانی دباؤ اور تناؤ بھی خشکی کا سبب ہیں۔ جس قدر ذہنی دباؤ ہوگا، خشکی بھی اُسی قدر شدید ہوگی ۔
بال گرنے یا جھڑنے کے بھی کئی اسباب ہیں۔ بال کچھ عرصے تک بڑھتے رہتے ہیں۔ اس کے بعد ان میں تبدیلی کا مرحلہ شروع ہوجاتا ہے،جوتین ماہ تک جاری رہتا ہے۔ پھر ان کی افزائش رک جاتی ہے اور یہ جڑسے الگ ہوجاتے ہیں۔ جن دنوں بالوں کی افزایش کا عمل چل رہا ہوتا ہے، اُن دنوں ان کی شکل ایک نوک دار چھڑی کی طرح ہوجاتی ہے۔ پھر یہ قدرتی انداز میں گرنے لگتے ہیں۔ روزانہ تیس سے پچاس بالوں کا گرنا ایک نارمل عمل ہوتا ہے۔ اس حساب سے پورے ہفتے میں بالوں کے گرنے کا اوسط تین سے پانچ سو بنتا ہے ۔
جب اس طرح سے بال گرنے لگتے ہیں تو خواتین گھبراجاتی ہیں، مگر اس میں پریشان ہونے والی کوئی بات نہیں، کیوں کہ یہ بال جڑے سے الگ ہوکر نہیں گرتے۔ ایسے بال جن کی نوک نہیں ہوتی ، ان کے گرنے کے اسباب ایک سے زیادہ ہوسکتے ہیں اور یہ ممکن ہے کہ ان کو جھٹکے سے توڑا گیا ہو۔ بال اُس وقت زیادہ گرتے ہیں، جب ہم انھیں دھونے لگتے ہیں، کیوں کہ یہی وہ وقت ہوتاہے، جب بال آسانی سے ٹوٹ پھوٹ کاشکار ہوجاتے ہیں۔ اگر آپ کے بال تیزی سے گررہے ہیں تو آپ کو چاہیے کہ پورے ہفتے گرنے والے بالوں کااوسط نکالیں۔ پھر کسی نتیجے پر پہنچیں ۔
بال گرنے کے عمومی اسباب میں سے ایک یہ بھی ہوتاہے کہ بالوں کی جڑیں بہت حساس ہوجاتی ہیں اور جب جسم میں تبدیلی رونما ہوتی ہے تو یہ بھی متاثر ہوتی ہیں۔ اگر جسم میں کوئی خرابی ہوگئی ہے تو اس کا اثر براہ راست بالوں پر بھی پڑتا ہے اور بال گرنے لگتے ہیں۔ جس میں اگر کوئی اندرونی خرابی ہوگئی ہے تو اس کا اثر براہ راست بالوں پر بھی پڑتا ہے اور بال گرنے لگتے ہیں۔ جسم میں اگر کوئی اندرونی خرابی ہے یاکوئی عضو پوری فعالیت کے ساتھ کام نہیں کررہا تو شروع میں ا س کا پتا نہیں چلتا، یعنی کسی طرح کی کوئی علامت ظاہر نہیں ہوتی ۔
بالوں کا گرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ جسم اندرونی طور پر کسی مرض میں مبتلا ہے۔ یادرکھیے کہ اگر جسم کسی مرض کے باعث متاثر ہوتا ہے تواس کے ایک سے تین ماہ کے دوران بالوں کا گرنا بھی شروع ہوجاتا ہے۔ بالوں کی خشکی اور بال گرنے سے بچانے کے لیے ذیل میں درج ایک گھریلونسخہ آزمائیں ۔ آملہ، ریٹھا اور سیکا کائی ہم وزن لے کر پسوالیں۔ پھر اس میں سرسوں کا تیل ملاکرآہستہ آہستہ بالوں کی جڑوں میں لگائیں پھر ایک دو گھنٹے بعدنیم گرم پانی سے بال دھولیں ۔ اس طرح خشکی دور ہوجائے گی اور بال گرنا بھی بند ہوجائیں گے ۔